بچے من موجی ہوتے ہیں اور پل پل ان کا مزاج بدلتا ہے۔ کسی کام کو انجام دیتے ہوئے وہ بہت جلد اکتا جاتے ہیں۔ اس صورت میں مائیں انہیں خوش اور مسرور رکھنے کے لئے کئی جتن کرتی ہیں۔ حالانکہ بچے چاہتے ہیں مائیں ان کی ڈھیر ساری باتیں سنیں اور وہ ماں کی توجہ کا مرکز بنے رہیں۔
چونکہ بچے اپنی باتیں زیادہ تر ماں سے ہی کہنا چاہتے ہیں اس لئے کوشش ہونی چاہئے کہ مائیں ان کی باتیں سنیں۔ تصویر: آئی این این
بلاشبہ ماں ہونا دنیا کا سب سے خوبصورت احساس ہے۔ ماں اپنی اولاد کی خوشی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیتی ہے۔ لیکن بچوں کو خوش کرنا آسان کام نہیں ہے۔ چونکہ بچے من موجی ہوتے ہیں اور پل پل ان کا مزاج بدلتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ فوراً کام سے اکتا جاتے ہیں اور کوئی دوسرا مشغلہ چاہتے ہیں۔ تاہم، ایک ماں اپنے بچوں کے مزاج سے واقف ہوتی ہے اور انہیں مسرور رکھنے کی ترکیبیں ڈھونڈ ہی نکالتی ہے۔ اس کے باوجود یہاں بچوں کو خوش اور مسرور کرنے والی چند سرگرمیاں کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے:
محبت سے جگائیں:
بچوں کو صبح سویرے جگایا جانا بالکل پسند نہیں ہوتا۔ خصوصاً جب وہ نیا نیا اسکول جانا شروع کرتے ہیں تو صبح جلدی اٹھنا انہیں بہت ناگوار محسوس ہوتا ہے لیکن اس وقت آپ بھی جلدی میں ہوتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ آپ کی ایک آواز پر بچے اٹھ کر کھڑے ہوجائیں۔ جب بار بار پکارنے پر بھی بچے اٹھنے میں سستی کرتے ہیں تو اکثر اوقات آپ طیش میں آکر انہیں ڈانٹنے ڈپٹنے لگتی ہیں۔ نتیجتاً بچے روتے بسورتے اٹھتے ہیں۔ اس سے نہ صرف آپ کا موڈ خراب ہوتا ہے بلکہ بچوں کی نفسیات پر بھی اس کے اچھے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ لہٰذا اپنے اس روٹین کو بدلیں اور روزانہ اپنے مقررہ وقت سے پندرہ یا بیس منٹ پہلے اٹھ جائیں۔ اس کے بعد اطمینان سے محبت بھرے انداز میں بچے کو جگائیں۔ تھوڑی ان کی ناز برداریاں اٹھائیں۔ انہیں اپنی بانہوں میں بھر لیں۔ اس طرح آپ کا پیار بھرا لمس پاتے ہی بچہ ایک دم جیسے خوشی سے چارج ہوجائیگا اور مسکراتا ہوا اُٹھے گا۔
یہ بھی پڑھئے: بنتا بگڑتا مزاج: اس کی وجوہات اور سدباب
بلا وجہ انعام دیں:
اکثر مائیں بچوں کو کسی کام پر آمادہ کرنے کیلئے انہیں کوئی نہ کوئی انعام دیتی ہیں۔ جیسے کہ اچھا ہوم ورک کرنے یا ٹیسٹ میں اچھے مارکس لانے پر آپ اس کی پسندیدہ چاکلیٹ یا کوئی اور چیز لا کر دیتی ہیں لیکن اپنے جگر گوشے کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کیلئے اسے بغیر کسی وجہ کے انعام دیں، پھر اس کی خوشی دیکھیں۔ اسے اس کا پسندیدہ کھلونا، آئس کریم یا اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی کوئی چیز اچانک پیش کریں۔ آپ کا دیا ہوا یہ سرپرائز سے بچے کو کھلکھلانے پر مجبور کر دے گا۔
وعدہ نبھائیں:
آپ نے دیکھا ہوگا کہ بچے ہر بات یاد رکھتے ہیں۔ آپ خواہ ان سے کوئی وعدہ کرکے بھول جائیں لیکن وہ اسے کبھی نہیں بھولتے۔ لہٰذا جب بھی کبھی ان سے کوئی وعدہ کریں تو اسے یاد رکھیں اور پورا بھی کریں۔ بچوں سے کئے گئے وعدے پورے نہ کئے جائیں تو وہ اداس ہوجاتے ہیں اور آپ پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لئے انہیں چھوٹی چھوٹی خوشیاں دینے اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کے لئے ان سے کئے گئے وعدے پورے کریں، چاہے ساحل سمندر پر لے جانے کا وعدہ ہو یا آئس کریم کھلانے کا۔
یہ بھی پڑھئے: السی کے بیج معمولی نظر آتے ہیں مگر غذائیت کا خزانہ ہے
پسندیدہ کھانا:
بیشتر ماؤں کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ بچوں کو صحت بخش غذا کھلائیں۔ اس مقصد کے لئے وہ طرح طرح کی ترکیبیں آزماتی ہیں، یوٹیوب سے مدد لیتی ہیں۔ لیکن ہر وقت انہی طریقوں پر کاربند رہنا بچوں کو بیزار کرسکتا ہے۔ اس لئے جب بھی محسوس کریں کہ بچے کھانا ٹھیک سے نہیں کھا رہے ہیں تو اپنے اصولوں کو بھلا کر انہیں ان کے پسند کے کھانے اور اسنیکس بنا کر کھلائیں۔ آپ دیکھیں گی کہ وہ کس قدر شوق سے کھاتے ہیں۔ اس کے بعد اپنے بنائے ہوئے کھانوں کو دلکش انداز میں سجا کر پیش کریں، بچے ان میں یقیناً دلچسپی لیں گے۔
ہوم ورک پر لطف بنائیں:
اسکول میں کئی گھنٹے گزارنے کے بعد بچوں کا دل نہیں چاہتا کہ وہ ہوم ورک کرنے بیٹھیں۔ خصوصاً ایسے میں اگر ان کے پسندیدہ کارٹون کا وقت ہو یا پڑوس سے بچوں کے کھیلنے کی آوازیں کانوں میں آرہی ہوں۔ لہٰذا جب بچے ہوم ورک سے بیزار نظر آئیں تو انہیں ڈانٹنے کے بجائے حکمت سے کام لیتے ہوئے ہوم ورک کی جانب راغب کرنے کی کوشش کریں۔ بچے جب ہوم ورک کرنے کے لئے بیٹھیں تو ان کے ساتھ ساتھ رہیں اور پر لطف جملوں اور دلچسپ تصاویر کے ذریعے انہیں پڑھائی کی جانب غیر محسوس انداز میں مائل کریں۔ انہیں کوئی پروجیکٹ ملے تو اس بارے میں اپنی رائے دیں کہ اسے کس طرح بنایا جائے اور اس دوران ان کی تھوڑی بہت عملی مدد بھی کریں تاکہ پروجیکٹ اچھا تیار ہوسکے اور اسکول میں ان کی تعریف ہو۔ اس طرح بچے نہ صرف خوش ہوں گے بلکہ اپنی ماں پر فخر بھی محسوس کریں گے کہ آپ کے مشوروں پر عمل کرکے ان کا پروجیکٹ اچھا تیار ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: لپ اسٹک دیر تک قائم رہے، اِن باتوں پر عمل کریں
بچوں کی سنیں:
بچوں کے پاس بات کرنے کے لئے بے شمار موضوعات ہوتے ہیں جن پر وہ دیر تک بات کرسکتے ہیں۔ وہ اپنی باتیں زیادہ تر ماں سے ہی کہنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ان کی جانب توجہ دیں۔ اسلئے کوشش ہو کہ ان کی بات سنی جائے۔