Inquilab Logo Happiest Places to Work

سخت الفاظ اور تنقیدی لہجہ رشتوں میں دوریاں پیدا کرتا ہے

Updated: April 15, 2026, 1:23 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

بعض دفعہ خواتین کا بے وجہ تنقید کرنا رشتوں میں تلخی کا سبب بنتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی کسی کو ناپسند کرتا ہے تو وہ پہلے ہی سے طے کر لیتا ہے کہ وہ اس کی کسی نہ کسی بات کو موضوع بنا کر اس پر تنقید کرے گا۔ اس سوچ کی وجہ سے آپسی رشتے خراب ہوتے ہیں۔ اگر اصلاح کی غرض سے کوئی بات کہنی بھی ہے تو نرم لہجہ میں کرنا بہتر ہوتا ہے۔

Kind words have an impact, they strengthen relationships. Photo: INN
خوش کلامی اثر رکھتی ہے، اس سے رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

بہو مہمانوں کے لئے دسترخوان سجا رہی تھی۔ اتنے میں سالن کا برتن رکھتے وقت بہو توازن کھو بیٹھی مگر فوراً برتن سنبھال لیا اور آہستہ سے دسترخوان پر رکھا۔ اس پر ساس صاحبہ نے کہہ دیا ’’تم کوئی کام ٹھیک سے نہیں کرسکتی!‘‘ بس اتنا کہنا تھا کہ وہاں کا ماحول بگڑ گیا۔ مہمان خاموش بیٹھے رہے اور بہو شرمندگی محسوس کرتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ساس کو احساس ہوا کہ اس کے سخت الفاظ کی وجہ سے ماحول بگڑ گیا ہے۔ اس بات کو محسوس کرنے کے بعد وہ بہو کو کمرے سے لے آئی اور ہلکی پھلکی باتوں سے ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ اس دوران اپنی بہو کی اچھائیوں کا بھی ذکر کیا۔

یہ بھی پڑھئے: بچّے ماں کی محبّت اور بھرپور توجہ چاہتے ہیں

بلاشبہ لب و لہجہ تبدیل ہو تو بات کا مفہوم ہی بدل جاتا ہے۔ اگر کسی کی کمیوں اور کمزوریوں کو نرم انداز میں بتایا جائے تو وہ نہ صرف اس بات کا اعتراف کرتا ہے بلکہ اپنی کوتاہیوں کی سعی بھی کرتا ہے۔ خواتین کی سخت زبان اور تنقیدی رویہ ہمیشہ موضوع بحث رہا ہے۔ ساس کی بہو پر، نند کی بھاوج پر اور دیورانی کی جٹھانی پر تنقید کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ خاندان بھر کی خواتین ایک دوسرے کی خامیوں پر کڑی نگاہ رکھے موقع کے انتظار میں ہوتی ہیں۔ کھانا بنانے سے لے کر گھر کی صاف صفائی تک.... ہر پہلو کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ ہر شخص اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے اور اس گمان کے سبب وہ دوسروں پر تنقید کرتا ہے۔ بعض دفعہ خواتین کا بے وجہ تنقید کرنا کئی مسائل کا سبب بنتا ہے اور آپسی رشتوں میں کڑواہٹ پیدا کرتا ہے۔ ہر وقت دوسروں کی خامیوں پر نظر رکھی جائے تو گھر کے ماحول پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے اور ایک تناؤ کی فضا قائم ہو جاتی ہے نتیجتاً نہ چاہتے ہوئے بھی رشتے داروں کے درمیان فاصلے پیدا ہوجاتے ہیں۔ اگر ہم یہ سوچ کر کسی پر تنقید کرتے ہیں کہ اس طرح ہم براہ راست اس شخص میں بہتری لانے میں کامیاب ہوسکیں گے تو یاد رکھیں ایسا ہر بار ممکن نہیں، جیسے آپ کو  کسی خاتون کے لباس یا بالوں کے اسٹائل پر اعتراض ہے اور آپ اس  لباس یا ہیئر اسٹائل کی خامیاں بتا کر اسے درست کرنا چاہیں تو یہ خاصا مشکل امر ہوگا۔

رشتے کی نوعیت چاہے کچھ بھی ہو محض دوسروں کی خامیوں پر نظر رکھی جائے تو دلوں میں فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں۔ رویوں میں ذرا سی تبدیلی سارے معاملات کو سدھار سکتی ہے۔ یہ کچھ مشکل نہیں اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ اس کی ذات میں بہت سی خوبیاں ہیں اور چند کی نشاندہی کر دی جائے تو مخاطب جھٹ سے اس بات کا اعتراف کرے گا کہ نہیں اس میں فلاں خامی بھی ہے، لیکن بدقسمتی سے اس مثبت رویے کے بجائے ہر کوئی سخت لہجہ میں بھی بات کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بنتا بگڑتا مزاج: اس کی وجوہات اور سدباب

معاشرے میں فقط خامیوں اور کمزوریوں پر نگاہ رکھی جائے تو دشواریاں پیدا ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کے لئے ناپسندیدگی کا گمان ہوتا ہے۔ بات خواہ چار دیواری کی ہو، خاندان کی یا ملازمت اور دفتری ماحول کی۔ ہم میں سے بہت سارے لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی کی تعریف اِس کے سامنے نہیں کرنی چاہئے۔ درحقیقت اگر کسی کے عمل کو پسند کرتے ہوئے سراہا جائے، کسی کے عاجزانہ مزاج  سے متاثر ہو کر یہ کہا جائے کہ اُن کا یہ روّیہ انتہائی متاثر کن اور قابل قدر ہے، تو یہ چیزیں ایک طرح کی حوصلہ افزائی کا باعث ہوتی ہیں۔ جو دوسروں کو اچھائیوں پر قائم رہنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں بلکہ انہیں مزید اچھے رویوں اور اچھی عادات اپنانے میں بھی معاونت کرتی ہیں۔ خیال رہے کہ کسی کی تعریف اور خوشامد میں فرق ہوتا ہے۔ اس فرق کو سمجھئے۔ کسی کی تعریف میں مناسب الفاظ کہنے سے نہ صرف اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ رشتے بھی مستحکم ہوتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر شخص میں اچھائیاں اور برائیاں ہوتی ہیں۔ وقت اور صورتحال کے مطابق انسان کی اچھائیوں اور برائیوں کا تذکرہ ہونا چاہئے۔ ابتدا میں بیان کی گئی مثال میں بہو کو ٹوکنا ٹھیک نہیں تھا، اس وقت ساس کو بہو کی خامی یا غلطی کو نظرانداز کرنا چاہئے تھا۔ حالانکہ تنہائی میں اس بارے میں بات کرنی چاہئے تھی۔ اس طرح بہو اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی اصلاح کرتی۔ اگر سب کے سامنے کوئی بات کہنی بھی ہو تو الفاظ کا انتخاب درست ہونا چاہئے۔ مقصود فقط اتنا ہے کہ بات کا انداز بدل دیا جائے تاکہ مزاج میں تلخی اور ماحول میں تناؤ پیدا کئے بغیر اصلاح کی جاسکے۔

یہ بھی پڑھئے: بچوں کے کریئر کی منصوبہ بندی میں مائیں کیا کرسکتی ہیں؟

اچھا سوچنا اور اچھائی پر نظر رکھنا ہمارے مزاج میں بھی ایک مسرور کن احساس پیدا کرتا ہے۔ اپنے اندر اور باہر کے ماحول کو بہتر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر چیز کے روشن پہلوؤں کو اہمیت دی جائے اور لوگوں پر تنقیدی نگاہ رکھنے کے بجائے ان کے اچھے رویوں کو سراہا جائے اور ان کی تعریف کی جائے۔ خوش کلامی اختیارکی جائے۔ جب کوئی چیز خامیوں سے پاک نہیں، پھر تنقید کس کام کی۔

اگر دوسروں کی اچھائیوں پر نظر رکھی جائے تو خامیاں خود بخود چھپ جاتی ہیں۔ اس لئے ہمیشہ ناقد بننے کی کوشش نہ کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK