رشتے معاشرہ کی بنیاد، تہذیب کی شناخت اور اخلاقی اقدار کے محافظ ہوتے ہیں۔ جب ان رشتوں کی حرارت کم ہونے لگتی ہے تو معاشرہ بظاہر ترقی یافتہ ہونے کے باوجود اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔ اس وقت ضرورت ہے کہ نئی نسل کو رشتوں سے جوڑا جائے تاکہ وہ سمجھ سکے کہ زندگی کا اصل لطف اپنوں کے ساتھ جینے میں ہے۔
بچوں کو بتائیں کہ رشتے وہ سرمایہ ہیں جو زندگی کو سکون سے بھر دیتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
گزشتہ چند برسوں سے ایک بات شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے کہ خاندانی تعلقات میں پہلے جیسی اپنائیت، بے تکلفی اور خلوص باقی نہیں رہا۔ مصروفیات، مادّہ پرستی اور انفرادیت نے انسان کو اپنے ہی لوگوں سے دور کر دیا ہے۔ کسی عزیز کے انتقال کی خبر ملتی ہے تو دل افسردہ ضرور ہوتا ہے، مگر معمولی سی مصروفیت یا فاصلے کو عذر بنا کر تعزیت میں شرکت نہ کرنا اب معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ حالانکہ غم کی گھڑی میں چند لمحوں کی اپنوں کی موجودگی ایسی ڈھارس بندھنے کا کام کرتی ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
ایک وقت تھا جب خاندان صرف چند افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ محبتوں کا ایک گلستان ہوتا تھا۔ پھوپھی، خالہ، ماموں، چچا، تایا، دادی، نانی، دادا اور نانا سب اپنی اپنی جگہ شفقت، محبت، تربیت اور دعاؤں کا سایہ تھے۔ ان کے گھروں میں جانا، ان کی آمد کا انتظار کرنا، عیدیں، شادی بیاہ اور خوشی و غم کے مواقع پر سب کا اکٹھا ہونا زندگی کا لازمی حصہ تھا۔ محلے کے بزرگ بھی اپنے محسوس ہوتے تھے۔ ہر بزرگ خاتون کو دادی، نانی، چچی یا خالہ کہہ کر پکارا جاتا اور ہر بزرگ مرد چچا یا ماموں کہلاتا تھا۔ یہ محض الفاظ نہیں تھے بلکہ ہماری تہذیب، اخلاق اور خاندانی نظام کی خوب صورت علامت تھے۔ آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ رشتے موجود ہیں، مگر ان میں وہ حرارت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ملاقاتوں کی جگہ موبائل فون نے لے لی ہے، خیریت دریافت کرنے کی جگہ رسمی پیغامات نے، اور تعزیت و مبارکباد بھی چند الفاظ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ سوشل میڈیا رابطے تو بڑھا سکتا ہے، مگر تعلقات کی گہرائی پیدا نہیں کرسکتا۔ رشتوں کو زندہ رکھنے کیلئے وقت، توجہ، قربانی اور عملی شرکت درکار ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بارش کا موسم: چھتری اور رین کوٹ خریدتے وقت اِن باتوں کو دھیان میں رکھیں
خاندانی رشتوں کے سکڑنے کی ایک اہم وجہ محدود خاندانی نظام بھی ہے۔ پہلے ایک خاندان میں کئی بہن بھائی ہوتے تھے، اس لئے پھوپھیاں، خالائیں، ماموں، چچا، تایا، بھتیجے، بھانجے اور چچیرے، ممیری، خالہ زاد اور پھوپھی زاد بھائی بہنوں کا ایک وسیع حلقہ وجود میں آتا تھا۔ بچے انہی رشتوں کے درمیان محبت، احترام، ایثار اور باہمی تعاون کے آداب سیکھتے تھے۔ آج بہت سے گھروں میں ایک یا دو بچوں پر خاندان محدود ہو گیا ہے۔ یوں رشتوں کی پوری ایک دنیا آہستہ آہستہ سمٹتی جا رہی ہے۔
اسلام نے صلۂ رحمی کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم نے رشتہ داری جوڑنے والوں کی تعریف کی ہے اور رسولِ اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں برکت ہو اور اس کی عمر میں خیر و برکت نصیب ہو، اسے چاہئے کہ صلۂ رحمی کرے۔ والدین کی خدمت، بزرگوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت اور عزیز و اقارب سے حسنِ سلوک اسلامی معاشرت کی بنیادی اقدار ہیں۔ اگر ہم ان تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دے دیں تو معاشرت کی بہت سی تلخیاں خود بخود ختم ہو جائیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر جگہ مایوسی کی تصویر نہیں۔ الحمدللہ آج بھی ایسے بے شمار خاندان موجود ہیں جہاں محبت، احترام اور باہمی تعلقات کی خوشبو باقی ہے۔ راقمہ خود کو اس اعتبار سے خوش نصیب سمجھتی ہے کہ ہمارے ددھیال اور ننھیال میں آج بھی رشتوں کی مٹھاس، باہمی احترام اور بے لوث محبت پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ ہماری خالائیں آج بھی بے پناہ شفقت فرماتی ہیں بلکہ محبت میں جان نچھاور کرتی ہیں۔ گھر کے بزرگ اکثر یہ کہتے ہیں کہ شکل و صورت میں میری مشابہت میری سب سے چھوٹی خالہ سے ہے، اور یہ بات ہمیشہ دل کو ایک عجیب سی خوشی سے بھر دیتی ہے۔ یہ بھی خوشگوار اتفاق ہے کہ جب یہ مضمون قلم بند کیا جا رہا ہے تو راقمہ گرمیوں کی تعطیلات اپنی اسی چھوٹی خالہ کے گھر میں گزار رہی ہے۔ ان کے گھر کا محبت بھرا ماحول، خلوص سے لبریز گفتگو اور اپنائیت سے بھرپور برتاؤ بار بار یہ احساس دلاتا ہے کہ اگر نیتیں سلامت ہوں اور دلوں میں اخلاص باقی ہو تو زمانے کی رفتار بھی رشتوں کی گرمی کو سرد نہیں کرسکتی۔
یہ بھی پڑھئے: رائل بلیو لُک آپ کو بخشے شاہانہ انداز
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف اعلیٰ تعلیم، اچھی ملازمت اور روشن مستقبل ہی نہ دیں بلکہ انہیں رشتوں کی قدر بھی سکھائیں۔ انہیں پھوپھی، خالہ، ماموں، چچا، تایا، دادا، دادی، نانا اور نانی کے پاس لے جائیں، ان کے ساتھ وقت گزارنے کی عادت ڈالیں، عیادت، تعزیت، صلۂ رحمی اور بزرگوں کے احترام کا عملی سبق دیں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو نسلوں کو جوڑتا اور معاشرہ کو مضبوط بناتا ہے۔
ترقی یقیناً وقت کی ضرورت ہے، لیکن اگر اس ترقی کی قیمت رشتوں کی محبت، بزرگوں کا احترام اور خاندانی نظام کی مضبوطی ہو تو یہ خسارے کا سودا ہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی مصروف زندگی میں اپنے عزیزوں کیلئے بھی وقت نکالیں گے، خوشیوں میں شریک ہوں گے، غم میں سہارا بنیں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیں گے کہ انسان کی اصل دولت اس کے رشتے ہیں۔ رشتوں کی حرارت برقرار رہے تو گھر صرف اینٹ اور پتھر کا مکان نہیں رہتا بلکہ محبت، سکون اور رحمت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ دولت ہے جسے سنبھالنا ہماری سب سے بڑی اخلاقی، سماجی اور دینی ذمہ داری ہے۔