آج کے دور میں ہر مہارت کو اہم سمجھا جاتا ہے، مگر گھر سنبھالنے کو اکثر معمولی ذمہ داری سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گھر سنبھالنا ایک مکمل فن، شعور اور ذمہ داری کا نام ہے۔
EPAPER
Updated: February 16, 2026, 3:07 PM IST | Umme Hamdan | Mumbai
آج کے دور میں ہر مہارت کو اہم سمجھا جاتا ہے، مگر گھر سنبھالنے کو اکثر معمولی ذمہ داری سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گھر سنبھالنا ایک مکمل فن، شعور اور ذمہ داری کا نام ہے۔
آج کے دور میں ہر مہارت کو اہم سمجھا جاتا ہے، مگر گھر سنبھالنے کو اکثر معمولی ذمہ داری سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گھر سنبھالنا ایک مکمل فن، شعور اور ذمہ داری کا نام ہے۔
گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ تربیت گاہ ہوتا ہے جہاں بچوں کی شخصیت بنتی ہے اور اخلاق کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ ایک سمجھدار خاتون محدود وسائل میں گھر کا بجٹ ترتیب دیتی ہے، مہنگائی کے باوجود گھر کا نظام سنبھالتی ہے، بچوں کی تعلیم و تربیت پر نظر رکھتی ہے اور ان کے اخلاق سنوارنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ گھر کے ماحول کو محبت، برداشت اور احترام سے بھرنے کی کوشش کرتی ہے، جو کسی بھی گھر کے سکون کی اصل بنیاد ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بچوں کی ذہنی نشوونما اور شخصیت سازی میں مطالعہ کی اہمیت
ازدواجی زندگی میں بھی گھر کا سکون بہت بڑی نعمت ہے۔ ایک باحکمت خاتون اپنے حسنِ تدبیر سے معمولی باتوں کو بڑھنے نہیں دیتی، رشتوں میں توازن قائم رکھتی ہے اور گھر کو جھگڑوں کا میدان بننے سے بچاتی ہے۔ یہی صلاحیت گھر کے استحکام کی اصل بنیاد ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرہ میں گھریلو خواتین کی محنت کو اکثر تسلیم نہیں کیا جاتا، حالانکہ اگر یہی ذمہ داریاں کسی ادارے کو دی جائیں تو اس کیلئے کئی افراد درکار ہوں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم گھر سنبھالنے کو ایک باوقار خدمت سمجھیں اور ان خواتین کی قدر کریں جو خاموشی سے خاندانوں کو مضبوط بنا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اپنے اور بچوں کے لئے وقت نکالنے کی چند کارآمد تدابیر
مضبوط گھر ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں، اور اس بنیاد کو قائم رکھنے میں ایک خاتون کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔