آج کے دور میں جہاں بچے زیادہ تر وقت موبائل پر گزارتے ہیں وہاں ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں مطالعہ کی عادت پیدا کریں۔ اسکرین پر بہت زیادہ وقت گزاری نے بچوں کے تخیل کو محدود کر دیا ہے کتابیں ان کے لئے وسیع آفاق اور لامحدود امکانات کے دروازے کھولتی ہیں۔
ماؤں کی ذمے داری ہے کہ وہ گھر میں ایسا ماحول فراہم کریں جہاں کتاب سے دوستی ایک بوجھ نہیں بلکہ ایک خوشگوار تجربہ بن جائے۔ تصویر: آئی این این
بچپن وہ دور ہوتا ہے جب انسانی ذہن ایک کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔ اُس وقت جو نقوش اس پر ثبت کر دیئے جائیں، وہ مٹائے نہیں مٹتے۔ مطالعہ ایک ایسی غذا ہے جو نہ صرف ذہن کو توانائی بخشتی ہے بلکہ بچے کے اخلاق اور رویوں کو بھی سنوارتی ہے۔ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے اور بچوں کی درست ذہنی و اخلاقی تربیت ہی ایک روشن معاشرہ کی بنیاد بنتی ہے۔ مطالعہ بچوں کی ذہنی نشوونما، تخلیقی صلاحیتوں اور شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ کتابیں نہ صرف علم کا خزانہ ہوتی ہیں بلکہ بچوں کی سوچ، زبان، اخلاق اور رویوں کی تشکیل میں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ مطالعہ بچوں کی مندرجہ ذیل صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے:
(۱) ذہنی نشوونما اور فکری بالیدگی
مطالعہ بچوں کے دماغ کے لئے ایک بہترین ورزش ہے۔ جب بچہ کوئی کہانی یا معلوماتی کتاب پڑھتا ہے تو اس کے ذہن میں کئی عمل ایک ساتھ چل رہے ہوتے ہیں۔
ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ: مطالعہ کرنے والے بچے دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور مؤثر انداز میں گفتگو کرسکتے ہیں۔ ان کے پاس الفاظ کا انتخاب وسیع ہوتا ہے۔
تخلیل کی پرواز: کتابیں پڑھتے ہوئے بچہ اپنے ذہن میں ایک نئی دُنیا بسا لیتا ہے۔ یہ عمل اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے۔
توجہ اور ارتکاز: اسکرین کے برعکس، کتاب پڑھنے کیلئے مستقل مزاجی اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جس سے بچوں میں ’اسپین آف اٹینشن‘ پڑھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تانبے کے برتن میں پانی پینے کے حیران کن فائدے
(۲) شخصیت سازی اور اخلاقی تربیت
مطالعے کے ذریعہ بچوں کی شخصیت میں درج ذیل تبدیلیاں آتی ہیں:
ہمدردی اور سماجی شعور: جب بچے مختلف کرداروں کے دکھ، سکھ اور جدوجہد کے بارے میں پڑھتے ہیں تو اُن میں دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔ وسیع مطالعہ رکھنے والا بچہ کسی بھی محفل میں اعتماد کے ساتھ اپنی بات کہہ سکتا ہے کیونکہ اُس کے پاس معلومات کا خزانہ بھرپور ہوتا ہے۔
مسائل کا حل: کہانیوں کے ذریعے بچے سیکھتے ہیں کہ مشکل حالات میں ہمت نہیں ہارنی چاہئے اور کس طرح عقل و دانش سے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔
مطالعہ کرنے والے بچے عموماً بہتر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کتابیں بچوں کی سوچ کو وسعت دیتی ہیں۔ انہیں مختلف خیالات اور تجربات سے روشناس کرواتی ہیں۔ جس سے اُن کی تخلیقی قوت بڑھتی ہیں۔ مطالعہ زبان دانی کو بھی بہتر بناتا ہے، بچے نئے الفاظ سیکھتے ہیں اور اپنے خیالات کو بہتر انداز میں بیان کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اپنے اور بچوں کے لئے وقت نکالنے کی چند کارآمد تدابیر
کہانیوں، سوانح عمریوں کے ذریعے بچوں میں اخلاقی اقدار، ہمدردی، برداشت اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ مطالعہ بچوں کو خود اعتمادی عطا کرتا ہے اور انہیں مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
آج کے دور میں جہاں بچے زیادہ تر وقت موبائل پر گزارتے ہیں وہاں ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں مطالعہ کی عادت پیدا کریں۔ گھر اور اسکول میں کتابوں کا دوستانہ ماحول بچوں کو مطالعہ کی طرف راغب کرسکتا ہے۔
جب بچہ کسی بہادر یا دیانتدار کردار کے بارے میں پڑھتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر خود کو اس کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ کسی کردار کی مشکلات اور خوشیوں کے بارے میں پڑھتا ہے تو اس میں ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا میں مختلف لوگ اور مختلف جذبات ہوتے ہیں۔ کہانیاں بچوں کو اپنے غصے، اداسی اور خوشی جیسے جذبات کو الفاظ دینے میں مدد دیتی ہیں جس سے اِن کی جذباتی پختگی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہر فرد کی اپنی دُنیا: خواتین کیسے رشتوں کو پھر سے جوڑیں؟
تحقیق سے ثابت ہے کہ جو بچے بچپن سے مطالعے کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ تعلیمی میدان میں دیگر بچوں سے نمایاں طور پر آگے اور کامیاب ہوتے ہیں۔ اور امتحانات میں اور عام زندگی میں اپنا موقف بہتر طریقے سے پیش کرسکتے ہیں۔
مطالعہ محض ایک مشغلہ یا وقت گزاری کا ذریعہ نہیں بلکہ بچوں کی ہمہ جہت نشوونما کا ایک ناگریز تقاضا ہے۔ یہ وہ خاموش استاد ہے جو بچے کی انگلی تھام کر اسے شعور کی منزلوں تک لے جاتا ہے اور اس کی شخصیت میں وہ نکھار پیدا کرتا ہے جو دُنیا کی کوئی اور ٹیکنالوجی نہیں کرسکتی۔ آج کے ڈجیٹل دور میں جہاں اسکرینز نے بچوں کے تخیل کو محدود کر دیا ہے کتابیں ان کیلئے وسیع آفاق اور لامحدود امکانات کے دروازے کھولتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: محض پندرہ منٹ میں میک اَپ کرنا ممکن ہے
اگر مائیں چاہتی ہیں کہ آنے والی نسل ذہنی طور پر بیدار، اخلاقی طور پر مضبوط اور فکر و عمل میں خود مختار ہو، اُس کی ذہنی نشوونما پروان چڑھے اور اُس کی شخصیت میں نکھار پیدا ہو تو اُس کے ہاتھوں میں کتابیں تھمانا ہوں گی۔