لاک ڈاؤن کے دوران جب اسکول بند ہوئے، کھیل کے میدان ویران ہوگئے اور سماجی روابط محدود ہو گئے تو موبائل فون بچوں کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز بن گیا۔ جو آلہ ابتدا میں مجبوری اور سہولت کے طور پر اختیار کیا گیا تھا، وہی رفتہ رفتہ وباء کے دنوں کی وراثت بن گیا مگر بچوں کو محتاط استعمال کی تاکید کرنا آپ کا فرض ہے۔
بچوں کو موبائل فون سے دور رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں اعتماد میں لیا جائے اور اس کے منفی پہلوؤں کو اُجاگر کیا جائے۔ تصویر: آئی این این
وباء کے دنوں نے انسانی زندگی کو جس طرح بدل دیا، اس کی سب سے گہری چھاپ گھریلو زندگی پر پڑی۔ لاک ڈاؤن کے دوران جب اسکول بند ہوئے، کھیل کے میدان ویران ہوگئے اور سماجی روابط محدود ہو گئے تو موبائل فون بچوں کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز بن گیا۔ جو آلہ ابتدا میں مجبوری اور سہولت کے طور پر اختیار کیا گیا تھا، وہی رفتہ رفتہ وباء کے دنوں کی وراثت بن گیا جس نے والدین، خاص طور پر ماؤں کو بے بسی اور تشویش میں مبتلا کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: دلہن کا سنگار جھومر کے بغیر ادھورا
ابتدا میں والدین کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ بچوں کے ہاتھ میں موبائل فون تھما دیں۔ آن لائن کلاسیز، اساتذہ سے رابطہ اور تعلیمی مواد تک رسائی اسی اسکرین سے ممکن تھی۔ مگر وقت کے ساتھ یہ تعلیمی ضرورت ایک عادت اور پھر لت میں تبدیل ہوگئی۔ کلاس ختم ہوتے ہی گیمز، ویڈیوز اور سوشل میڈیا نے بچوں کے اوقات پر قبضہ جما لیا۔ کتاب، کھیل اور تخلیقی سرگرمیاں پس منظر میں چلی گئیں اور اسکرین مرکزی حیثیت اختیار کر گئی۔
یہی وہ مقام تھا جہاں والدین کی بے بسی نمایاں ہونے لگی۔ ایک طرف وباء کا خوف، معاشی دباؤ اور ذہنی تناؤ تھا، تو دوسری طرف بچوں کی تربیت کی ذمہ داری۔ محدود جگہ اور محدود وسائل کے باعث والدین کے لئے متبادل سرگرمیوں کا انتظام آسان نہ تھا۔ جب موبائل فون کے استعمال پر روک ٹوک کی گئی تو اکثر بچوں کی طرف سے سخت ردِعمل سامنے آیا، جس نے والدین کو مزید پریشان کر دیا۔
یہ ردِعمل آہستہ آہستہ بچوں کی بغاوت میں بدل گیا۔ معمولی پابندی پر ضد، غصہ، چیخ و پکار اور بعض اوقات بدتمیزی روزمرہ کا حصہ بن گئی۔ بچے والدین کو قدامت پسند اور حالات سے ناواقف سمجھنے لگے، جبکہ والدین کے نزدیک بچے نافرمان اور بے قابو دکھائی دینے لگے۔ اس کشمکش نے گھروں کے سکون کو متاثر کیا اور والدین و بچوں کے رشتے میں تناؤ پیدا کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ہر شعبے میں خواتین نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں
وباء کے دنوں کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی رہا کہ خاندان ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے گئے۔ دسترخوان پر بیٹھے افراد بھی اپنی اپنی اسکرینوں میں گم رہتے۔ گفتگو کم اور خاموشی زیادہ ہو گئی۔ مطالعہ، کھیل کود اور جسمانی سرگرمیاں کم ہوئیں، نیند کے اوقات بگڑ گئے اور ذہنی و جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہونے لگے۔ یوں بچپن اپنی فطری شادابی کھوتا چلا گیا۔
تاہم، اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ موبائل فون نے بچوں کے لئے سیکھنے کے نئے دروازے کھولے۔ آن لائن تعلیم، تعلیمی ویڈیوز اور تخلیقی مواد تک رسائی نے کئی بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارا۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مسئلہ موبائل فون کا ہونا نہیں بلکہ اس کا بے مقصد اور بے لگام استعمال ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس وراثت کے ساتھ آگے کیسے بڑھا جائے؟ رواں برس والدین کے لئے ایک اہم موقع بن سکتا ہے۔ اگر والدین اس سال کو اصلاح اور ازسرِنو ترتیب کا سال بنائیں تو وباء کے تجربے کو مفید بنایا جاسکتا ہے۔ اسکرین ٹائم کے واضح اصول طے کئے جائیں، بچوں کو اعتماد میں لے کر مکالمہ کیا جائے اور موبائل فون کو محض تفریح نہیں بلکہ تعلیم اور تخلیق کا ذریعہ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھیل، مطالعہ، گھریلو ذمہ داریوں اور خاندانی وقت کو روزمرہ معمول کا حصہ بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: فریج میں دودھ رکھنے کا درست طریقہ کیا ہے؟
سب سے اہم بات یہ ہے کہ والدین خود عملی نمونہ بنیں۔ اگر والدین ہر وقت موبائل فون میں مصروف رہیں گے تو بچوں سے اعتدال کی توقع بے معنی ہو جائے گی۔ محبت، صبر اور مکالمے کے ذریعے ہی بچوں کی بغاوت کو سمجھا اور سنوارا جاسکتا ہے۔ بے جا روک ٹوک کے بجائے حکمت عملی سے بچوں کو سمجھائیں۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ وباء کے دنوں کی یہ وراثت اگر بے توجہی کے ساتھ قبول کی گئی تو مسئلہ بن جائے گی، اور اگر شعور اور توازن کے ساتھ سنبھالی گئی تو اصلاح کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ بچوں کا موبائل اور والدین کی بے بسی ایک مستقل حقیقت نہیں، بلکہ ایک مرحلہ ہے.... جسے سمجھ داری سے عبور کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ بچوں کا بیشتر وقت ماں کے ساتھ گزرتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ مائیں بچوں کو وقت دیں۔ کبھی کبھی گھر میں کسی کی توجہ بچوں پر نہ ہونے کے سبب بھی وہ موبائل فون میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ بچوں کو توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔