عورت، فطرت کی وہ حسین تخلیق ہے جس میں خلوص، قربانی، محنت، بصیرت اور برداشت کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے۔ آج کی عورت روایتی حدود سے نکل کر ہر میدان میں اپنی قابلیت، جدوجہد اور خود اعتمادی سے نئی تاریخ رقم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ یہ کامیابی مزید کامیابیوں کو جنم دے گی۔
دنیا آج مختلف شعبوں میں برق رفتاری سے ترقی کر رہی ہے، اس ترقی میں خواتین خاطر خواہ طریقے سے شامل ہیں۔ تصویر: آئی این این
علم انسان کو دور رس نگاہ بخشتا ہے، اور نیک نیتی اعلیٰ مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس سے ہی دنیا میں انقلابات رونما ہوتے ہیں۔اسی لئے شیخ محمد الغزالی فرماتے ہیں: ’’علم میں وسعت ہو تو فکر و نظر میں وسعت ہوتی ہے، نیت صالح ہو تو سینے میں وسعت اور ظرف میں کشادگی پیدا ہوتی ہے۔‘‘
دنیا میں مختلف میدانوں کی ترقی اس قول کی حقیقی ترجمان ہوتی جارہی ہے۔ دنیا آج مختلف شعبوں میں برق رفتاری سے ترقی کر رہی ہے۔ اس ترقی میں خواتین بھی اپنا بھرپور حصہ لے رہی ہیں۔ ہر شعبے میں خواتین نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ لیکن یہ تعداد اطمینان بخش نہیں ہے۔ آج کا دور ترقی اور مواقع کا دور ہے۔ ایسے میں خواتین کیلئے دنیا کےتقریباً ہر شعبے میں آگے بڑھنے کے دروازے کھلے ہیں۔ اس مضمون میں اس جانب توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی گئی ہے:
تعلیم و تدریس
تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جہاں خواتین کی شمولیت ہمیشہ سے نمایاں رہی ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خواتین اساتذہ نہ صرف تعلیم دیتی ہیں بلکہ نئی نسل کی کردار سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ آن لائن تعلیم کے بڑھتے رجحان نے بھی خواتین کیلئے گھر بیٹھے تدریس کے مواقع فراہم کئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فریج میں دودھ رکھنے کا درست طریقہ کیا ہے؟
طب و صحت
خواتین فطری طور پر ہمدرد اور مہربان ہوتی ہیں، یہی صفات انہیں طب کے شعبے میں بھی کامیاب بناتی ہیں۔ ڈاکٹر، نرس، فارماسسٹ، فزیو تھیراپیسٹ یا سائیکولوجسٹ کی حیثیت سے خواتین مریضوں کی صحت کی بحالی میں پیش پیش رہتی ہیں۔ خصوصاً زچگی، بچوں کی دیکھ بھال، اور نفسیاتی علاج کے شعبوں میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔
انجینئرنگ و ٹیکنالوجی
روایتی طور پر مردوں کا میدان سمجھے جانے والے انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی خواتین کی شرکت دیکھنے کو ملتی ہے۔ کمپیوٹر سائنس، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، سول، الیکٹریکل اور میکینیکل انجینئرنگ میں خواتین نے شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لیکن اس میں مزید اضافےکی ضرورت ہے۔
میڈیا اور صحافت
خواتین کا اظہارِ خیال، جذبات کی ترجمانی اور تخلیقی صلاحیتیں انہیں میڈیا اور صحافت کے میدان میں ممتاز مقام کی حامل بنا سکتی ہیں۔ صحافت میں خواتین کی آواز کو آج پر اثر اور باوقار سمجھا جاتا ہے۔ خواتین اس شعبے کا انتخاب کرکے نہ صرف اپنی بلکہ پوری دنیا کی خواتین کی آواز بن سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سیب کا سرکہ وزن کم کرنے کے علاوہ توانائی بڑھانے میں معاون
کاروبار و قیادت
کاروباری دنیا میں بھی خواتین اب پیچھے نہیں رہیں۔ کئی خواتین انٹرپرینیورز نے چھوٹے کاروبار سے آغاز کرکے بڑے برانڈز قائم کئے ہیں۔ خواتین نہ صرف اپنی معاشی خودمختاری حاصل کر رہی ہیں بلکہ دوسروں کو بھی روزگار فراہم کر رہی ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر میں خواتین سی ای اوز، منیجرز اور پالیسی میکرز کی حیثیت سے مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس میدان میں خواتین بھر پور تعاون پیش کرسکتی ہیں۔
سیاست و سماجی خدمات
سیاست جیسے چیلنجنگ فیلڈ میں بھی خواتین نے اپنی موجودگی تسلیم کروائی ہے۔ اندرا گاندھی، پرتیبھا تائی پاٹل، میدھا پاٹکر جیسی خواتین نے سماج میں مثبت تبدیلی کیلئے آواز بلند کی۔ سماجی خدمت کے میدان میں خواتین فلاحی اداروں، این جی اوز، اور تنظیموں کے ذریعے کمزور طبقات کی امداد کر رہی ہیں۔ اس سمت میں بھی خواتین کی پیش قدمی ضروری ہے۔
سائنس و تحقیق
بلاشبہ سائنسدان، ماہرین ماحولیات، بایو ٹیکنالوجسٹ، ریسرچ اسکالرز جیسے پیچیدہ میدانوں میں بھی خواتین کی موجودگی قابلِ ستائش ہے۔ ان کی علمی جستجو اور تحقیقی صلاحیتیں دنیا کو نئی دریافتوں سے روشناس کروا رہی ہیں۔ خواتین اپنے کریئر کے لئے اس میدان کا بھی تعین کرسکتی ہیں۔
کھیل و دفاع
کھیل کے میدان میں ثانیہ مرزا، متھالی راج، میری کوم، پی وی سندھو جیسے نام خواتین کی طاقت اور عزم کا نشان ہیں۔ دفاعی میدان میں بھی خواتین اب پائلٹ، پولیس آفیسر، فوجی افسر اور کمانڈو کے طور پر ملک کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ پھر بھی ایک کمی سی محسوس ہوتی ہے۔ خواتین اس طرف بھی توجہ دیں۔ خود نہیں تو آنیوالی نسل کو اس کیلئے تیار کریں۔
یہ بھی پڑھئے: بچے کی پیدائش اور صحت کی بحالی: نئی ماں کیلئے مشورے
اسکے علاوہ ادب، آرٹ اور کلچر ، فائن آرٹ، مصوری، شاعری، اداکاری، ہدایتکاری اور اینکرنگ جیسے شعبوں میں بھی خواتین اپنا کریئر کرسکتی ہیں۔
عورت، فطرت کی وہ حسین تخلیق ہے جس میں خلوص، قربانی، محنت، بصیرت اور برداشت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ آج کی عورت روایتی حدود سے نکل کر ہر میدان میں اپنی قابلیت، جدوجہد اور خود اعتمادی سے نئی تاریخ رقم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ معاشرہ کتنی مدد کرتا ہے، کتنا حوصلہ دیتا ہے اس پر دھیان نہ دیتے ہوئے خواتین کو ایک دوسرے کیلئے خود مدگار بننا چاہئے۔ وہ خود ہی ایک دوسرے کا رول ماڈل بنیں تو یہ رجحان خوش آئندہ ہوگا۔