• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

صحیح کہا گیا ہےکہ بہت سہل ہے مکانوں کو گھر کرنا!

Updated: February 02, 2026, 5:28 PM IST | Khalida Fodkar | Mumbai

سکون و آرام کا احساس اُن گھروں میں پایا جاتا ہے جہاں سلیقہ اور صفائی ہو۔ ایسا گھر جہاں نرم روشنی ہو، شور کم ہو، رنگ آنکھوں کو آرام دیں اور سب سے اہم بات کہ چیزیں بکھری ہوئی اور منتشر نہ ہوں، وہاں ہمارا جسم لاشعوری طور پر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ جب گھر کا ماحول پُرسکون ہوتا ہے تو دل کی دھڑکن اور ذہنی کیفیت بھی متوازن رہتی ہے۔

An orderly and clean home gives peace of mind and also leaves a positive impression on a person`s personality. Photo: INN
ترتیب وار اور صاف ستھرا گھر ذہن کو سکون بخشتا ہے اور انسان کی شخصیت پر مثبت تاثر بھی چھوڑتا ہے۔ تصویر: آئی این این

گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ہمارے لاشعور کی ایک ایسی پناہ گاہ ہوتا ہے جو تحفظ کا احساس فراہم کرتا ہے۔ باہری دُنیا کے شور شرابے اور بھاگ دوڑ کے بعد محفوظ و سکون بھرا گھر ہر کسی کی چاہت اور ترجیح ہوتا ہے۔ کوئی تو وجہ ہے کہ انسان خود کو گھر سے زیادہ محفوظ اور کہیں محسوس نہیں کرتا۔ گھر کی تکمیل صرف چھت اور چار دیواری، فرنیچر یا سجاوٹ کے کچھ سامان سے مکمل نہیں ہوتی بلکہ اُس احساس سے مکمل ہوتی ہے جہاں ذہن و دل سکون پائیں۔

سکون و آرام کا یہ احساس اُن گھروں میں پایا جاتا ہے جہاں سلیقہ اور صفائی ہو۔ ایسا گھر جہاں نرم روشنی ہو، شور کم ہو، رنگ آنکھوں کو آرام دیں اور سب سے اہم بات کہ چیزیں بکھری ہوئی اور منتشر نہ ہوں، وہاں ہمارا جسم لاشعوری طور پر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ قدرتی روشنی اور ہوا، صاف ستھری آرام دہ بیٹھنے لیٹنے کی جگہیں اور ایک دوسرے کی پرائیویسی کا احترام مل کر ہمارے ذہن کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ یہ جگہ محفوظ ہے ہم یہاں سکُون پا سکتے ہیں۔ جب گھر کا ماحول پُرسکون ہوتا ہے تو دل کی دھڑکن اور ذہنی کیفیت بھی متوازن رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: روزنامہ انقلاب ۸۷؍ ویں سالگرہ: ’’اوڑھنی‘‘ کیلئے لکھنے والی قارئین کے تاثرات

اگر ہم کبھی بے سکونی یا ذہنی و اعصابی دباؤ محسوس کریں تو ایک نظر اپنے گھر پر بھی ڈال لیں ہوسکتا ہے کہ گھر کا بکھرا ہونا یا بے ترتیبی اس بے سکونی کی وجہ ہو کیونکہ اکثر ہمارا دماغ بےترتیبی کو صرف سامان کا بکھراؤ نہیں سمجھتا بلکہ نامکمل کام، ادھورا پن اور کنٹرول کھو دینے کا اشارہ سمجھتا ہے۔ عورت نے صدیوں سے گھر کو جوڑے رکھا، نظام سنبھالا اور سب کے بیچ توازن قائم کیا اس کے باوجود جب چیزیں بکھرتی ہیں تو اُن کے اندر بھی کچھ ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے جو تھکن اور بےچینی کو معمول بنا سکتی ہے۔

سلیقہ مندی عورتوں کی خوبیوں میں ایک پسندیدہ خوبی ہے، خانہ داری کے معاملات میں اس خوبی کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ گھر کی نفاست یا بکھراؤ خاتونِ خانہ کے ذوق و بدذوقی کا غماز تو ہوتا ہی ہے مگر کسی خرابی یا لاپروائی کا سارا بار صرف عورتوں کے کاندھوں پر رکھ دینا بھی زیادتی ہے کیونکہ گھروں کی آراستگی اور سلیقے یا بگاڑ و بکھراؤ میں گھر میں رہنے والے ہر فرد کی عادت و برتاؤ کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہوتا ہے۔ یہ ایک مشترکہ عمل ہے نہ بہتری کا کریڈٹ کسی ایک کا ہے اور نہ خرابی کا الزام کسی ایک پر۔ یہ مفروضہ کہ عالیشان طرزِ تعمیر اور مہنگے آرائشی سامان سے گھر خوبصورت بنتا ہے بالکل بھی درست نہیں.... بقولِ شاعر: ’’نہیں ہے تم میں سلیقہ جو گھر بنانے کا/ تو اشکؔ جاؤ پرندوں کے آشیاں دیکھو!‘‘ گھروں کو سجانے سنوارنے کے لئے مہنگے آرائشی سامان کی حاجت نہیں ہوتی بلکہ حسب ِ استطاعت جو بھی میسر ہے اُسے ہی سلیقے اور نظم سے ترتیب دینا، صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا، ایک چھوٹے سے معمولی گھر کو بھی خوبصورت اور جاذب نظر بناسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سرد اور خشک موسم میں ہاتھوں کی نگہداشت پر خاص توجہ دیں

وہ گھر جہاں صاف صفائی اور ترتیب و تنظیم کو فوقیت دی جاتی ہو، جو گھر غیر ضروری سامان کے بوجھ تلے دبے نہ ہوں، آرام دہ اور پُر سکون ہوں، جس گھر کے افراد اپنی ذمہ داری سے اپنے حصے کا کام بروقت کرنے کے عادی ہوں وہاں کے ماحول میں ہر دم ایک مثبت توانائی رچی بسی ہوتی ہے جس کے خوش کن اثرات رہنے والوں کی شخصیت اور برتاؤ میں بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ خوش مزاجی، ادب و تمیز جیسے خصائل کے ساتھ یہ افراد ایک دوسرے کے مددگار اور مخلص ہوتے ہیں۔ اس کے بر عکس جہاں بےترتیب فرنیچر، گندے اور میلے پردے و بستر، داغدار آئینے، دیواروں پر جالے، کونوں کھدروں میں کُوڑا کچرا جمع ہو یا صفائی کے انتظار میں پڑے جھوٹے برتنوں اور گندے کپڑوں کے ڈھیر ہوں، اُن گھروں میں مثبت توانائی اور راحت کا گزر کیسے ہوگا؟ یہ بکھراؤ ذہن پر بوجھ بن کر اہل ِ خانہ کے مابین تلخی، لا تعلقی اور چڑچڑاپن جیسی کئی منفی سوچوں کا موجب بنتا ہے۔ ظاہر ہے جب گھراور ماحول میں نفاست نہ ہو تو رویوں اور رشتوں میں نرمی و لطافت کیسے ہوگی؟

سلیقے اور پھوہڑ پن کا فرق اور اس کے نفع نقصان سے آگہی ہو جانے کے بعد کیوں نہ ہم اپنی خامیوں اور کوتاہی و تساہل کو دور کرنے کی کوشش کریں! اگر ہمارے گھر بھی سلیقے اور نفاست کے معیار پر پورے نہیں اُترتے تو یہی وقت ہے کہ اپنے گھروں کو غیر ضروری سامان کے بوجھ سے اور اپنی سستی و کاہلی کی وجہ سے ادھورے پڑے کاموں کے انبار سے آزاد کرکے اس مطلوبہ معیار تک لانے کی کوشش کریں۔ رمضان المبارک کی آمد و استقبال کی خاطر گھروں میں تفصیلی صفائیاں کی ہی جاتی ہیں تو کیوں نہ اس برس صفائی ستھرائی کے اس سالانہ رُوٹین کو ایک نئی جہت دی جائے۔

یہ بھی پڑھئے: غذا اور صحت: فائبر سے بھرپور غذائیں مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں معاون

تھوڑی سی فرصت نکال کر ذرا اپنے کپڑوں کی الماریاں دیکھ لیں جہاں مزید کپڑے رکھنے کی گنجائش نہیں مگر نئے کپڑوں کی خریداری پر کوئی روک نہیں! جوتے پرس، آرائش و سنگھار کے سامان سے گھر کا کوئی کونہ، کوئی دراز خالی نہیں! یہی حال باورچی خانے کا ہے، حرص اور احباب و رشتہ داروں میں نمائش کے لئے مسلسل خریدے جانے والے برتن اور غیر ضروری اشیاء کی بھرمار سے کچن کی سانسیں بھی تنگ ہیں۔ زائد از ضرورت اشیاء کو سالہا سال تک سینت کر رکھنے سے بہتر ہے کہ وہ ضرورتمند افراد کو دے دیں، کچھ غریب گھرانوں کی عیدیں اور شادیاں تک ہمارے ان سامان سے ممکن ہیں۔ چیزوں کو ترتیب سے رکھنا اور بیکار و فالتو چیزوں سے نجات حاصل کرنا صرف صفائی کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ کبھی کبھی یہ سیلف کئیر بن جاتا ہے، چیزیں سمیٹنا اور منظم کرنا دراصل خود کو سمیٹنا، خود کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ گھروں اور طبیعتوں کی بےسکونی کو دور کرنے کا یہ ایک آسان سا نسخہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK