Inquilab Logo Happiest Places to Work

پُرانی درسی کتابیں ردی نہیں، یہ مستحق بچوں کا مستقبل سنوار سکتی ہیں

Updated: April 22, 2026, 5:04 PM IST | Dr. Sharmeen Ansari | Mumbai

عام طور پر بچے کے امتحان کے نتائج آنے کے بعد مائیں پرانی کتابوں کو ردی میں دے دیتی ہیں۔ لیکن اس بار ایسا نہ کریں۔ ہمارے اطراف میں ایسے کئی گھرانے ہوتے ہیں جہاں بچے غریبی کے سبب کتابیں خریدنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم پرانی درسی کتابیں ان تک پہنچا کر انہیں تعلیم کی روشنی سے منور کریں گی۔

Old books can bring light to the lives of deserving children if the need is felt. Photo: INN
پُرانی کتابیں مستحق بچوں کی زندگی میں اُجالے کا سبب بن سکتی ہیں بشرطیکہ اس ضرورت کو محسوس کیا جائے۔ تصویر: آئی این این

رات کا ایک پرسکون لمحہ ہے.... گھر کے سب افراد سو چکے ہیں، مگر ایک ماں جاگ رہی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے بچے کا بستہ سمیٹ رہی ہے۔ پرانی کتابیں، استعمال شدہ کاپیاں، چھوٹا ہوچکا یونیفارم، ایک طرف رکھتی جا رہی ہے۔ بچہ اگلی جماعت میں جا چکا ہے، اور یہ سب چیزیں اب اس کیلئے ضروری نہیں رہیں۔

ماں ایک لمحے کے لئے رکتی ہے.... ان سب چیزوں کو غور سے دیکھتی ہے.... اور دل میں ایک خیال ابھرتا ہے ’’کل یہ سب ردی میں دے دوں گی....‘‘

یہ ایک عام سا خیال ہے.... ایک عام سا فیصلہ.... جو ہر سال، ہر گھر میں، خاموشی سے ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پیکجڈ پنیر خریدتے وقت اِن باتوں پر دھیان دیں

لیکن اگر یہی لمحہ تھوڑا سا رک جائے.... اگر یہی فیصلہ ذرا سا بدل جائے.... تو شاید کسی کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔ یہ وہی کتابیں ہیں جنہیں کبھی بڑے شوق سے خریدا گیا تھا۔ ان کے پہلے صفحے پر بچے کا نام لکھتے وقت ماں کی آنکھوں میں کتنی خوشی ہوتی ہے۔ بچہ جب پہلی بار انہیں بستے میں رکھ کر اسکول جاتا ہے تو گھر والوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ یہ صرف کتابیں نہیں ہوتیں.... یہ امید ہوتی ہیں، یہ خواب ہوتے ہیں، یہ ایک بہتر مستقبل کی پہلی سیڑھی ہوتی ہیں۔ پھر وقت گزرتا ہے.... بچہ آگے بڑھ جاتا ہے.... اور ہم انجانے میں انہی خوابوں کو ’ردی‘ کا نام دے دیتے ہیں۔

اسی معاشرے میں، اسی شہر کے کسی کونے میں ایک اور گھر بھی ہے.... جہاں ایک ماں اپنے بچے کے بال سہلا رہی ہے، مگر اس کے دل میں ایک خاموش درد ہے۔ بچہ اسکول جانے کی ضد کرتا ہے، نئی کتابوں کا ذکر کرتا ہے، اپنے دوستوں کی باتیں سناتا ہے.... مگر اس ماں کے پاس وسائل نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: موسم ِ گرما اور بچوں کی چھٹیاں: معمولات کی ترتیب کیسی ہو؟

وہ چاہ کر بھی اپنے بچے کے لئے کتابیں نہیں خرید سکتی، یونیفارم نہیں لاسکتی، ایک سادہ سا اسکول بیگ بھی اس کے لئے مشکل بن جاتا ہے۔ وہ ماں خاموش ہو جاتی ہے.... کیونکہ اس کے پاس الفاظ نہیں ہوتے.... صرف آنسو ہوتے ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے.... یہاں سوال یہ ہے کہ ہم اپنے پاس موجود چیزوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ وہی کتابیں.... جو ہمارے گھروں میں بے کار پڑی ہیں، کسی اور کے لئے تعلیم کا دروازہ بن سکتی ہیں۔ وہی یونیفارم.... جو اب ہمارے بچے کے کام کا نہیں، کسی اور بچے کو باعزت طریقے سے اسکول جانے کا حوصلہ دے سکتا ہے۔

ایک ماں کی آغوش میں صرف ایک بچہ نہیں پلتا.... یہیں سے ایک سوچ، ایک کردار، اور ایک معاشرہ جنم لیتا ہے۔

جب آپ اپنے بچے سے نرمی سے کہتی ہیں ’’بیٹا، یہ کتابیں ہم کسی ایسے بچے کو دیں گے جس کے پاس نہیں ہیں....‘‘

تو آپ صرف ایک چیز نہیں دے رہی ہوتیں.... آپ اس کے دل میں وہ روشنی جلا رہی ہوتی ہیں جو عمر بھر دوسروں کے کام آتی ہے۔

سوچئے:

جب وہ کتاب کسی ضرورت مند بچے کے ہاتھ میں جائے گی....

* وہ اسے کیسے سنبھال کر رکھے گا....

* کیسے ہر صفحہ کو محبت سے پڑھے گا....

* اس کی آنکھوں میں چمک ہوگی....

* اس کے دل میں شکر ہوگا....

* اور اس کی ماں کی آنکھوں میں وہ آنسو ہوں گے.... جوآپ کے  بچے کیلئے دعا بن جاتے ہیں۔

یہ صرف کتابوں کی بات نہیں ہے.... یہ ایک سوچ ہے.... ایک احساس ہے.... ایک ایسا عمل ہے جو معاشرے کو بدل سکتا ہے۔

آپ کے بچے کا بیگ، اس کے جوتے، اس کا یونیفارم.... یہ سب کسی اور کے لئے زندگی کا سہارا بن سکتے ہیں۔ آج جب آپ اپنے بچے کی پرانی چیزوں کو دیکھیں.... تو انہیں صرف ’فالتو‘ نہ سمجھیں۔

ذرا رک کر سوچیں کہ یہی چیزیں کسی کیلئے سب کچھ بن سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دہی بمقابلہ یوگٹ: صحت، فرق اور انتخاب کی مکمل رہنمائی

آئیے:

* ہم سب ایک عہد کریں۔

* ہم اپنے بچوں کو صرف تعلیم نہیں دیں گے۔

* ہم انہیں احساس بھی دیں گے۔

* ہم انہیں صرف آگے بڑھنا نہیں سکھائیں گے.... ہم انہیں دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا بھی سکھائیں گے۔

* ہم اپنے گھروں میں جمع چیزوں کو ردی نہیں بنائیں گے.... ہم انہیں کسی کے خوابوں کی تعبیر بنائیں گے۔

اور آخر میں:

ایک ایسا پیغام جو ہمیشہ ہمارے دلوں کو روشن رکھتا زندہ ہے:

زندگی جن کی گزرتی ہے اجالوں کی طرح

یاد رکھتے ہیں انہیں لوگ مثالوں کی طرح

علم والوں کو کبھی موت نہیں آتی وہ 

زندہ رہتے ہیں کتابوں میں حوالوں کی طرح!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK