Inquilab Logo Happiest Places to Work

نجی و خانگی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈالنے کا چکر، نیا بوجھ ہے

Updated: May 05, 2026, 2:58 PM IST | Sahar Asad | Mumbai

شادی ہر انسان کی زندگی کا ایک خوبصورت اور اہم سفر کا آغاز ہوتی ہے لیکن جب سنت ایک ادائیگی کے بجائے طویل فہرستوں پر مشتمل اخراجات ، لین دین ، قرض،بے جا رسومات، فضول خرچیاں اور دکھاوا غالب آجاتا ہے تو یہی شادی بوجھ بننے لگتی ہے۔

With the promotion of new customs here, marriage has become a source of fame and fortune, more than just the union of two families. Photo: INN
نئی نئی رسموں کو اپنے یہاں فروغ دینے سے شادی دو خاندانوںکے ملن سے زیاد ہ نام ونمود کا ذریعہ بن گئی ہے۔ تصویر: آئی این این

شادی ہر انسان کی زندگی کا ایک خوبصورت اور اہم سفر کا آغاز ہوتی ہے لیکن جب سنت ایک ادائیگی کے بجائے طویل فہرستوں پر مشتمل اخراجات ، لین دین ، قرض،بے جا رسومات، فضول خرچیاں اور دکھاوا غالب آجاتا ہے تو یہی شادی بوجھ بننے لگتی ہے۔آئیے ہم ان اسباب کا مختصر جائزہ لیتے ہیں:

رسومات: شادی بوجھ تب بن جاتی ہے جب ہم سالوں سے چلی آرہی رسومات کو ختم کرنے کے بجائے بڑھاوا دینے لگتے ہیں، بہت سی رسمیں ایسی تھیں جو پرانے وقتوں میں خوشی کا باعث بنتی تھیں، مثال کے طور پر مہندی اور ہلدی کی رسم لے لیجئے، پہلے بس گھر والوں اور چند قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں دولہن کو ابٹن لگایا جاتا تھا لیکن اب باقاعدہ اس کے لئے شادی سے پہلے ایک فنکشن منعقد کیا جاتا ہے، سسرال والوں کی طرف سے ہلدی سجی سجائی آتی ہے۔پھر ہلدی کے ساتھ ہلدی والا جوڑا بھی ہوتا ہے اور اب اس ایک جوڑے کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے، سسرال والوں اور دوسرے لوگوں کے کھانے پینے کا اعلیٰ انتظام کیا جاتا ہے، پھر اسی طرح مہندی کے لیے اگلے دن ایک دوسرا فنکشن منعقد کیا جاتا ہے جس میں پھر وہی ساری چیزیں دوہرائی جاتی ہیں۔ اگر یہی دونوں رسمیں صرف گھر والوں کی موجودگی میں ہوتیں تو اس کی گنجائش بھی تھی۔ تب ان کا حسن بھی برقرار رہتا، گھر والوں کے ساتھ ہنسی مذاق اور تفریح کے مواقع فراہم ہوتے مگر ان کو باقاعدہ ایک تقریب کی شکل دے کر صرف تھکان، پیسوں کی بربادی اور وقت کا ضیاع ہی ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہمیں میڈیا، ڈراموں اور فلموں کی شادیوں کے تصورات سے نکلنا ہوگا!

نئی رسموں کا فروغ :  نئی نئی رسموں کو اپنے یہاں فروغ دینا شادی بیاہ کو اور بھی زیادہ مشکل بنانا ہے۔اس کی مثال سوشل میڈیا پہ وائرل ہونے والی نئی رسمیں ہیںجیسے bride to beکے نام سے ایک نیاٹرینڈچل پڑ اہے اور اس کے لئے بھی باقاعدہ فنکشن منعقد کیا جانے لگاہے۔ڈراموں، انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر سوشل پلیٹ فارم سے متاثر ہوکر یہ رسم لڑکیوں میں خوب مقبول ہورہی ہے۔ سوشل میڈیا پرسیلیبریٹیز کی شادیوں کی تقاریب کے پُرکشش مناظر دیکھ کر لڑکیاں بھی اپنی تقریبات کو انوکھی اور یادگار بنانا چاہتی ہیں۔ دراصل سوشل میڈیا پہ پوسٹ کرنے اور وہاٹس ایپ اور انسٹا گرام پہ اسٹوریز لگانا ہی اس طرح کے فنکشن کے انعقاد کا اہم سبب ہوتا ہے۔ 

فضول خرچی:  شادی بیاہ میں غیر ضروری رسومات، سماجی دباؤ، دولت اور حیثیت دکھانے کی خواہش وغیرہ کے سبب لاکھوں روپے اڑادیے جاتے ہیں، والدین کی پوری جمع پونجی ختم ہوجاتی ہے، بہت سے لوگ تو دکھاوے کے لیے قرض تک لے کر شادی کرتے ہیں اور پھر اس قرضے کو عرصہ دراز تک ادا کرتے رہتے ہیں۔ عروسی کمرے کی ہزاروں روپوں کے پھولوں سے سجاوٹ ہے جو چند گھنٹوں میں ضائع ہوجاتی ہے، دولہن کے کپڑے جو محض شادی کے روز پہنے جاتے ہیں اس کے لئے اب لوگ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں خرچ کرتے ہیں، انواع و اقسام کے کھانے رکھے جاتے ہیں جن کا زیادہ ترحصہ ضائع ہوجاتا ہے، بینڈ باجوں، پٹاخوں پر بھی کثیر رقم اٹھتی ہے، گھر کو روشنیوں سے سجایا جاتا ہے، مہنگے شادی ہالز اور ہوٹلوں میں تقریبات رکھی جاتی ہیں۔ کیا ان سے بچا نہیں جا سکتا؟

یہ بھی پڑھئے: آفس کاکام کرنے کے ساتھ بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت کیسے دیا جا سکتا ہے؟

نمود و نمائش: شادی کے بوجھ بننے کی ایک اہم وجہ دکھاوا ہے، یہی وجہ ہے کہ لڑکی کا جہیز سجا کر رکھا جاتا ہے، سسرال والے اپنی طرف کے کپڑے بیش قیمت پیکٹوں اور نت نئے اسٹائل میں سجا کر لے جاتے ہیں، کیمرے کی فلیش لائٹ میں دولہا دلہن کو تحائف پیش کیے جاتے ہیں، اسنیپس بنتے ہیں، سوشل میڈیا پر عروسی جوڑے کے کمرے کی تصاویر اپ لوڈ جاتی ہیں، کہنے والے اگر یہ کہیں کہ بھئی ہم تو اپنی مرضی اور خوشی سے یہ سب کررہے ہیں تو ان سے ایک سادہ سا سوال ہے کہ ہدیہ اور تحفہ دینے کے لئے لوگوں کو دکھانے کی کیا ضرورت ہے۔تحفہ دیناتو صلہ رحمی کے ضمن میں آتا ہے تو آپ اسے ریاکاری میں کیوں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ 

گراں قدر تحائف:کہتے ہیں کہ تحائف کا تبادلہ محبت میں اضافے کا سبب ہوتا ہے لیکن آج کل کی تقاریب میں یہ تبادلے محبت کے بجائے زحمت کا سبب بننے لگے ہیں۔ بہت ساری جگہوں پہ مشاہدہ کیا گیا کہ شادی بیاہ کی تقاریب ہوں یا دوسرے مواقع، لوگ تحائف اس طرح دیتے ہیں گویا جرمانہ بھررہے ہوں۔ اور اس طرح سے یہ خوبصورت تعلق اب ایک بوجھ بنتا جارہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے معاشرے کی فرسودہ اور خودساختہ رسمیں ہیں جن کو نبھانے کے چکر میں لوگ ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ 

شادی ، سامانِ راحت کیسےبنے؟

٭اکثر شادیوں میں مہنگے تحفے دیئے جانے کا رواج ہے جو غریب رشتہ داروں پر بوجھ بنتے ہیں۔ آپ اس سلسلے میں پہل کرتے ہوئے لوگوں کو ایسے گراں بار تحائف لانے سے منع کردیں ۔

٭اگر آپ اپنی بیٹی کو یا کسی دوست وغیرہ کو تحائف دینا چاہتی ہیں تو اس کی نمائش کرنے کے بجائے صرف متعلقہ شخص کو ہی دیں۔

یہ بھی پڑھئے: نتائج کا دباؤ: طلبہ کے اہل خانہ کو کیا نہیں کرنا چاہئے؟

٭شادیوں میں ون ڈش رکھیں۔ یہ فضول خرچی سے بچنے اور خوراک کے ضیاع کو بچانے کے لیے بہترین عمل ہے۔ 

٭بے جا رسومات کے خلاف آواز اٹھائیں چاہے یہ احتجاج تقریر و تحریر کے ذریعے ہو مگر یہ ساری کوششیں اسی وقت کارگر ہوں گی جب آپ بارش کا پہلا قطرہ بنتے ہوئے تنقید کرنے والوں کی پروا کئے  بغیر غیرضروری رسومات اور فضول خرچی خود ترک کریں گی۔ قارئین ہمیں اس سلسلے میں کی گئی اپنی کوششوں سے آگاہ کرسکتے ہیں اور انقلاب کو بتاسکتے ہیں کہ ان کی کوششیں کتنی کامیاب رہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK