اس موسم میں آب و ہوا میں رطوبت اور نمی بڑھ جاتی ہے جو جراثیم کو پنپنے کا موقع دیتی ہے۔ اس لئے اس موسم میں کھانا جلد خراب ہوجاتا ہے اور جس کے استعمال سے فوڈ پوائزنگ ہوجاتی ہے۔ اس صورت میں صاف صفائی کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 4:57 PM IST | Odhani Desk | Mumbai
اس موسم میں آب و ہوا میں رطوبت اور نمی بڑھ جاتی ہے جو جراثیم کو پنپنے کا موقع دیتی ہے۔ اس لئے اس موسم میں کھانا جلد خراب ہوجاتا ہے اور جس کے استعمال سے فوڈ پوائزنگ ہوجاتی ہے۔ اس صورت میں صاف صفائی کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔
بارش کے موسم میں فوڈ پوائزنگ کا خطرہ بڑھنے کی وجوہات
موسم ِ باراں میں آب و ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے۔ یہ بیکٹیریا، وائرس اور فنگس کو پنپنے کا موقع دیتی ہے۔ اس وجہ سے کھانا جلد خراب ہوجاتا ہے اور جس کے استعمال سے فوڈ پوائزنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بارش کے موسم میں پانی بھی جلد آلودہ ہوجاتا ہے۔ سبزیاں، پھل، اسٹریٹ فوڈ اور کھلے میں رکھا ہوا کھانا پانی یا مکھیوں کے ذریعہ جلد آلودہ ہوجاتا ہے۔ اس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔ اس کے علاوہ، بارش کے موسم میں نظام ہضم بھی دھیما پڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے جسم جراثیم سے لڑنے میں ناکام رہتا ہے۔
فوڈ پوائزنگ کی علامات
فوڈ پوائزنگ کی ابتدا قے اور دست جیسی علامات سے ظاہر ہوتی ہیں۔ فوری طور پر دھیان نہ دینے کی وجہ سے یہ علامات سنگین شکل اختیار کرسکتی ہے۔ جیسے کہ بار بار الٹی اور دست ہوسکتے ہیں، باڈی ڈی ہائیڈریٹ ہوسکتی ہے، پیٹ میں درد اور اینٹھن محسوس ہوسکتی ہے، بخار آسکتا ہے، کمزوری اور تھکان محسوس ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مسائل کا حل اور اس کے ساتھ جینے کا فن!
علامات کتنے وقت میں ظاہر ہوتی ہیں؟
عام طور کھانے کے کچھ ہی گھنٹوں میں فوڈ پوائزنگ کی علامات ظاہر ہونے شروع ہوجاتی ہیں۔ کچھ معاملات میں ایک سے ۲؍ دن بھی لگ سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ متاثر ہونے والے بیکٹیریا اور وائرس پر منحصر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کچھ معاملات میں ۲؍ سے ۶؍ گھنٹے میں قے اور دست شروع ہوسکتے ہیں۔ کئی بار ۱۲؍ سے ۲۴؍ گھنٹے کے بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ کچھ انفیکشن کی علامات ۲؍ سے ۳؍ دن بعد دکھائی دے سکتی ہیں۔
کسے فوڈ پوائزنگ جلد ہوتا ہے؟
جن افراد کی قوتِ مدافعت کمزور ہوتی ہیں انہیں فوڈ پوائزنگ جلدی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ذیابیطس اور گردے کے مریض بھی جلد متاثر ہوتے ہیں۔ جو لوگ باہر کا کھانا یا اسٹریٹ فوڈ زیادہ کھاتے ہیں، وہ بھی فوڈ پوائزنگ کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ۵؍ سال سے کم عمر کے بچے، حاملہ اور بزرگ بھی جلد متاثر ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جینے کیلئے کھا نا ہے یا کھانے کیلئے جینا ہے؟
فوڈ پوائزنگ سے بچنے کیلئے کیا کریں؟
* سب سے اہم بات، گھر اور آس پاس صاف صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
* کھانا پکانے سے قبل دونوں ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں۔
* بازار سے لائی ہوئی سبزیوں کو اچھی طرح دھونے کے بعد ہی پکائیں۔
* کھانے سے قبل بھی ہاتھوں کو دھوئیں۔
* پھل کو اچھی طرح دھو کر کھائیں۔
* تازہ اور گرم کھانا کھائیں۔
* بچا ہوا کھانا فوراً فریج میں رکھیں۔
* اُبلا ہوا یا فلٹر والا پانی پئیں۔
* کچا اور پکا کھانا، الگ رکھیں۔
* دیر تک رکھا ہوا کھانا گرم کرکے کھائیں۔
فوڈ پوائزنگ سے بچنے کیلئے کیا نہ کریں؟
* دیر تک رکھے ہوئے پھل نہ کھائیں۔
* فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ سے پرہیز کریں۔
* اسٹریٹ فوڈ سے دوری بنائیں۔
* کھلے میں بننا والا جوس نہ پئیں۔
یہ بھی پڑھئے: لہسن، کڑی پتہ یا ثابت لال مرچ، کون سا تڑکا کس پکوان کے لئے استعمال کرنا چاہئے؟
یہ صحتمند عادتیں اپنائیں
* تازہ، گرم اور اچھی طرح پکا ہوا کھانا کھائیں۔
* گھر کا بنا کھانا کھائیں۔
* دال، کھچڑی، سوپ جیسی ہلکی غذا کھائیں۔
* اپنی خوراک میں اُبلی یا اسٹیم (بھاپ پر پکی ہوئی)کی ہوئی سبزیاں شامل کریں۔
* دہی، چھاچھ جیسے پروبائیوٹک کو اپنی ڈائٹ کا لازمی حصہ بنائیں۔
* موسمی پھل کھائیں۔
کھانا محفوظ کرتے وقت اِن باتوں پر توجہ دیں
* فریج میں ہمیشہ کھانا ایئر ٹائٹ کنٹینر میں رکھ کر محفوظ کریں۔
* فریج اور کچن کی باقاعدگی سے صفائی کریں۔
* فریج کا درجہ حرارت تقریباً منفی ۴؍ ڈگری سیلیس پر رکھیں۔
* کھانے کو بار بار گرم کرکے فریج میںنہ رکھیں۔
* خمیر شدہ اشیاء فوراً استعمال کرلیں۔
فوڈ پوائزنگ ہوجائے تو کیا کریں؟
اس صورت میں جسم کو ہائیڈریٹ رکھنا اور نظام ہضم کو آرام دینا ضروری ہوتا ہے۔ معمولی نوعیت کی علامات ظاہر ہونے پر گھر پر دیکھ بھال سے طبیعت میں بہتری آسکتی ہے۔ اس دوران اِن باتوں کا خاص خیال رکھیں:
* وقتاً فوقتاً پانی پیتے رہیں۔
* او آر ایس یا ناریل پانی پئیں تاکہ جسم ہائیڈریٹ رہیں۔
* جسم کو مناسب آرام دیں۔
لیکن مرض بڑھنے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اس دوران اپنے سے کوئی دوا کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔