اپنی زندگی کا جائزہ لیجئے، آپ کو اندازہ ہوجائیگا کہ آپ روزانہ ایک جیسی زندگی گزار رہی ہیں۔ ایک جیسے معمولات پر عمل کرنے سے انسان کے ذہن پر بیزاری طاری ہوجاتی ہے جس کا اظہار انسان چیخ کر کرتا ہے۔ اس دائرہ سے باہر آنے کیلئے ضروری ہے کہ معمولات میں تبدیلی لائی جائے، گھبرائیے نہیں یہ کام مشکل نہیں ہے۔
نت نئے پکوان آزمائیے، اس تجربے سے آپ کا اعتماد بڑھے گا اور خوشی بھی محسوس ہوگی۔ تصویر: آئی این این
مشینی دور میں انسان نے خود کو مشین ہی سمجھ لیا ہے۔ یقین نہ آئے تو اپنی زندگی کا جائزہ لے لیجئے۔ تقریباً ہر شخص اپنی زندگی کے شب و روز میں بے انتہا مصروف ہے۔ جاب کرنے والا فرد ہفتے میں چھ دن ایک جیسے روٹین پر عمل کرتا ہے۔ خاتونِ خانہ کے معمولات تو انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں۔ وہ صبح سے لے کر رات تک مسلسل اپنے کام میں مصروف رہتی ہے۔ حالانکہ وہ صبح سب سے پہلے بیدار ہوتی ہے اور رات کو سب سے آخر میں سوتی ہے۔ ملازمت پیشہ افراد کے لئے یہ آسانی ہوتی ہے کہ وہ ہفتے میں ایک یا دو دن ملی چھٹی میں آرام کرسکتے ہیں لیکن خواتین سال بھر ایک جیسے معمولات پر کاربند رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی طبیعت میں بیزاری اور اکتاہت شامل ہوجاتی ہے۔ ایک جیسی زندگی گزارنے سے انسان پر عجیب قسم کی مایوسی طاری رہتی ہے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ کبھی کبھی خواتین معمولی بات پر بھی مشتعل ہوجاتی ہے۔ دراصل یہ ایک جیسے معمولات پر عمل کرنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس دائرہ سے باہر نکلنے کی کوشش ہونی چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: متوازن اور معتدل زندگی کا راز داخلی سکون میں مضمر ہے
یہ حقیقت ہے کہ بعض لوگ ایک جیسی زندگی گزارنے کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ وہ ذرا بھی معموملات میں تبدیلی ہونے پر بے چینی محسوس کرتے ہیں، لیکن یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ زندگی کے معموملات میں تبدیلی انسان کے ذہن پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس روشنی میں خواتین اپنے معمولات میں تھوڑی تبدیلی لاکر اپنے زندگی میں خوشگوار اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔
جاگنے اور سونے کے اوقات
عام طور پر خواتین صبح سب سے پہلے بیدار ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی ان کا صبح اٹھنے کو جی نہیں چاہتا لیکن وہ بوجھل من سے اُٹھ کر اپنے کام میں مصروف ہوجاتی ہیں۔ اس صورت میں وہ تھوڑی سی تبدیلی لاسکتی ہیں۔ جیسے کہ اس میں آپ اپنے اہل خانہ کی مدد لے سکتی ہیں، یعنی کسی دن صبح ناشتے کی ذمہ داری کسی دوسرے کو سونپ دیں اور یہ کام آپ اتوار کے دن کرسکتی ہیں، کیونکہ اس دن عموماً بچوں اور شوہر کی چھٹی ہوتی ہے۔ یا آپ باہر سے ناشتہ منگوالیں۔ اس طرح ہفتے میں ایک دن آپ سونے کا شوق پورا کرسکتی ہیں اور جب آپ نیند پوری کر کے اٹھیں گی، تو خود کو بہت تازہ دم محسوس کریں گی۔ جہاں تک رات سونے کی بات ہے، تو ویسے تو رات کی نیند صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے، لیکن ہم آج کچھ معمول سے ہٹ کر کر رہے ہیں تو کبھی کبھی دیر رات تک جاگنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گرمی کے موسم میں جلد کی نگہداشت کے چھ نسخے
نیا ذائقہ
کبھی کبھی ہم ایک جیسا کھانا کھا کر بھی اکتا جاتے ہیں اور خاتون خانہ تو ویسے ہی باورچی خانے کی ملکہ ہوتی ہے، تو کبھی کبھی آپ مختلف کھانوں کی ترکیبیں آزما کر بھی نہ صرف تبدیلی لاسکتی ہیں، بلکہ شوہر کا بھی دل جیت سکتی ہیں۔ بعض خواتین کوئی نئی چیز پکانے سے ڈرتی ہیں کہ کہیں خراب نہ ہو جائے یا اچھا نہیں بنا تو کیا ہوگا۔ اب یہاں تھوڑا سا خطرہ مول لیں اور کوئی بھی چیز جو آپ کو لگے کہ آپ بنا سکتی ہیں، تو دیر نہ کیجئے، کھانا ایک بار خراب بنے گا لیکن اگلی بار آ پ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ اسے کیسے بہتر بنانا ہے۔ اس سے نہ صرف آپ کچھ نیا سیکھ پائیں گی، بلکہ نت نئی چیزوں کو آزمانے سے آپ کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا اور آپ نئی توانائی محسوس کریں گی۔
گھر کی آرائش میں تبدیلی
گھر وہ پُرسکون گوشہ ہوتا ہے، جو خاتون خانہ کے سلیقے کا آئینہ ہوتا ہے، کیونکہ سب سے پہلی نظر گھر پر ہی پڑتی ہے اور اس ہی سے خاتون خانہ کے بارے میں رائے قائم کی جاتی ہے۔ یقیناً آپ گھر کی صفائی ستھرائی کا بہت خیال رکھتی ہوں گی۔ اب ذرا اس میں تھوڑی سی تبدیلی کریں یعنی آپ گھر کی سیٹنگ بدلتی رہیں۔ اس سے ذہن پر ایک خوشگوار تاثر پڑتا ہے یعنی آپ صوفوں کی سیٹنگ بدل سکتی ہیں یا ایسی اشیاء جو بآسانی اِدھر سے اُدھر کی جاسکے اور جن کی جگہ تبدیلی سے آپ کو کمرے میں نئے پن کا احساس بھی ہو۔
اپنے آپ سے ملاقات کیجئے
ہم بعض دفعہ اس لئے بھی یکسانیت کا شکار ہو جاتے ہیں کہ دن بھر کے کام کے بعد ہمارے پاس اپنے لئے ہی وقت نہیں بچتا۔ اس لئے کوشش کریں کہ اپنے معمولات ایسے رکھیں کہ آپ اپنے لئے وقت نکال سکیں۔ اس وقت میں آپ وہ کام سر انجام دے سکتی ہیں، جس سے آپ کو خوشی ملتی ہو۔
یہ بھی پڑھئے: بچوں کی تربیت کیلئے ماں کے اوصاف: حکمت، دانائی اور صبر
بچہ بن جائیں
بعض مائیں اپنے بچوں کو ہی وقت نہیں دے پاتی اور اتنا مصروف ان کا شیڈول ہوتا ہے کہ بچوں کو ذرا ذرا دیر میں اپنی ماں کو پورے گھر میں ڈھنونڈنا پڑتا ہے اور مائیں کبھی تو انہیں باورچی خانے کے مسالوں میں الجھی نظر آتی ہیں اور کبھی برتن دھوتے۔ تھوڑا وقت اپنے بچوں کو بھی دیں۔ آپ ان کے ساتھ چھوٹے موٹے کھیل کھیل سکتی ہیں۔ بچوں کے ساتھ بچہ بن جانے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ تھوڑی دیر بچہ بن کر خود کو پریشانیوں سے دور کرکے آپ کو اندر سے خوشی کا احساس ہوگا۔ ساتھ ہی بچوں کو بھی آپ کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملے گا۔