Inquilab Logo Happiest Places to Work

متوازن اور معتدل زندگی کا راز داخلی سکون میں مضمر ہے

Updated: April 06, 2026, 2:22 PM IST | Nikhat Anjum Nazimuddin | Mumbai

ہر ذمہ داری کو قبول کرنا اور ہر مطالبے کو پورا کرنے کی کوشش ایک غیر حقیقی طرزِ عمل ہے۔ ایک متوازن زندگی کیلئے ترجیحات کا واضح ہونا ضروری ہے۔ خواتین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بعض موقعوں پر انکار کرنا شخصیت کے وقار کے منافی نہیں بلکہ ان کے ذہنی سکون کا حصہ ہوتا ہے جسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہئے۔

Taking time out of your daily routine to spend a few moments with yourself will be beneficial for your mental health. Photo: INN
روزمرہ کی مصروفیات سے وقت نکال کر چند لمحات اپنے ساتھ گزاریں، ذہنی صحت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ تصویر: آئی این این

زندگی کے پیچیدہ تقاضے ہمیں بیک وقت کئی سمتوں میں متحرک رکھتے ہیں۔ کئی طرح کی ذمہ داریاں، توقعات کا بوجھ اور وقت کی قلت مل کر ایک ایسی کیفیت کو جنم دیتے ہیں جو بظاہر خاموش ہوتی ہے مگر اندرونی سطح پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ اسی کیفیت کو ’اموشنل برن آؤٹ‘ کہا جاتا ہے، جو ذہنی اور جذباتی توانائی کے بتدریج زوال کا نام ہے۔ جدید نفسیات میں اس تصور کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ماہر نفسیات ہربرٹ فرائیڈنبرگر نے ۱۹۷۴ء میں سب سے پہلے برن آؤٹ کی اصطلاح کو متعارف کروایا۔ انہوں نے اپنے تحقیقی مقالے ’اسٹاف برن آؤٹ‘ میں اس کیفیت کی وضاحت کی۔ انہوں نے مسلسل ذہنی دباؤ اور جذباتی تھکن کو ایک سنجیدہ نفسیاتی مسئلہ قرار دیا۔ ان کے بعد کرسٹینا مسلاچ نے اس تصور کو مزید واضح کرتے ہوئے اسے تین بنیادی عناصر سے مربوط کیاہے: جذباتی تھکن، شخصیت کا بے حس ہوجانا اور انفرادی کارکردگی میں کمی ہونا۔

یہ بھی پڑھئے: گرمی کے موسم میں جلد کی نگہداشت کے چھ نسخے

بالخصوص خواتین کے تناظر میں یہ عناصر نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ جذباتی تھکن کے نتیجے میں وہ کام جنہیں انجام دے کر خوشی محسوس ہوتی تھی اب بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ شخصیت میں بے حسی ایک ایسے رویے کو جنم دیتی ہے جہاں وابستگی کمزور پڑنے لگتی ہے اور انفرادی کارکردگی میں کمی خود اعتمادی کو متاثر کرتی ہے۔ یہ تینوں عناصر مل کر ایک ایسا دائرہ قائم کرتے ہیں جس سے نکلنا کسی بھی خاتون کے لئے آسان نہیں ہوتا۔

خواتین بیک وقت مختلف کرداروں کی ادائیگی میں مصروف رہتی ہیں۔ گھریلو کام، ملازمت سے متعلق اور پروفیشنل ذمہ داریاں اور رشتوں کی دیکھ بھال کرنا۔ یہ تمام کام ان کی مسلسل توجہ اور توانائی کا تقاضا کرتے ہیں۔ جب یہ تقاضے ایک حد سے بڑھ جائیں اور ان کے مقابل مناسب ذہنی سکون اور آرام میسر نہ ہو تو داخلی توازن متاثر ہونے لگتا ہے۔ اموشنل برن آؤٹ کی بنیاد دراصل مسلسل ذہنی دباؤ سے ہی مضبوط ہوتی ہے۔ ایک خاتون جب اپنی توانائی کو مسلسل صرف کرتی ہے اور اس کی تجدید کیلئے اسے مواقع نہیں مل پاتے تو اس کے احساسات میں تھکن سرایت کرنے لگتی ہے۔ بے سکونی طاری ہوجاتی ہے، معمولی کام بھی بوجھ محسوس ہوتے ہیں اور توجہ منتشر ہونے لگتی ہے۔ یہ کیفیت جسمانی تھکاوٹ سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق براہِ راست ذہن اور احساسات سے ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بچوں کی تربیت کیلئے ماں کے اوصاف: حکمت، دانائی اور صبر

اس کیفیت کے تدارک کیلئے سب سے پہلا قدم خود آگہی ہے۔ اپنی ذہنی اور جذباتی حالت کا ادراک ہمیں ایک ایسی بنیاد فراہم کرسکتا ہے جس پر بہتری کی عمارت قائم کی جاسکتی ہے۔ ایک باشعور خاتون اپنی کیفیت کو سمجھتے ہوئے اپنی ضروریات کو بھی اہمیت دیتی ہے اور انہیں نظر انداز نہیں کرتی۔ اسی طرح وہ حدود متعین کرتی ہے۔ حدود کا تعین اس عمل کا ایک لازمی جزو ہے۔ ہر ذمہ داری کو قبول کرنا اور ہر مطالبے کو پورا کرنے کی کوشش ایک غیر حقیقی طرزِ عمل ہے۔ ایک متوازن زندگی کیلئے ترجیحات کا واضح ہونا ضروری ہے۔ خواتین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بعض موقعوں پر انکار کرنا شخصیت کے وقار کے منافی نہیں بلکہ ان کے ذہنی سکون کا حصہ ہوتا ہے۔ اسی طرح وقت کو مناسب حصوں میں تقسیم کرنا اور اپنے کاموں کو انجام دینا بھی مؤثر طرز عمل ثابت ہوتا ہے۔ روزمرہ کے معمول میں ایسے لمحات شامل کرنا جو ذہنی سکون کا باعث ہوں داخلی توازن کو بحال رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ جیسے پسندیدہ کتب کا مطالعہ کرنا، عبادت کرنا، فطرت سے قریب ہونا یا کچھ وقت ایک جگہ بیٹھ کر صرف خود کے ساتھ وقت گزارنا۔ یہ ساری مثبت سرگرمیاں ذہنی توانائی کی تجدید میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دارچینی اور لونگ بے خوابی اور سر درد جیسے مسائل میں اکسیر

جذباتی اظہار بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ کسی قابل اعتماد شخص سے گفتگو کرکے بھی ہم اپنے دن کو بہتر بناسکتے ہیں، اپنے بوجھ کو ہلکا کرسکتے ہیں۔ دوشیزہ کیلئے سہیلیاں، والدہ اور بہنیں قریبی اور قابل اعتماد انسان ثابت ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح شادی شدہ خواتین اپنے دل کی بات اپنے شویر سے کرسکتی ہیں۔ تحریر کے ذریعے بھی اپنے احساسات کو ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ اپنی ڈائری میں دل کی بات لکھ دینا ذہنی بوجھ کو کم کرتا ہے۔ احساسات کا اعتراف اور ان کی صحتمند ترجمانی ذہنی سکون کی راہ ہموار کرتی ہے۔ مزید برآں مثبت سوچ کا فروغ بھی اس عمل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ خود سے غیر ضروری تقاضے کم کرنا، اپنی کامیابیوں پر خوش ہونا، اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا اور ناکامیوں کو سیکھنے کا موقع سمجھنا ذہنی توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ بطور خاتون جب ہم اپنی ذات کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے ہیں تو ہمارے اندر ایک فطری سکون پیدا ہوتا ہے اس لئے خود کے ساتھ بھی نرم رویہ اختیار کریں۔ ایک متوازن زندگی کا راز داخلی سکون میں مضمر ہے۔ جب خواتین اپنی توانائی، وقت اور احساسات کو متوازن انداز میں ترتیب دیتی ہیں تو ان کی شخصیت میں استحکام اور وقار پیدا ہوتا ہے۔ اموشنل برن آؤٹ اسی توازن کے فقدان کا نتیجہ ہے اور اسکا تدارک شعور، اعتدال اور سیلف کیئر کے ذریعہ ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK