بچے ایس ایس سی بورڈ کے امتحانات سے فارغ ہو چکے ہیں۔ اب یہ نہایت اہم اور فیصلہ کن مرحلہ ہے، جہاں ہمیں سنجیدگی کے ساتھ یہ طے کرنا ہے کہ ہمارے بچے کا مستقبل کس سمت میں آگے بڑھے گا۔ اس وقت ضروری ہے کہ مائیں کچھ قیمتی وقت نکال کر اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھیں، ان سے کھل کر بات کریں اور ان کی بات سمجھنے کی کوشش کریں۔
گھر میں یہ بات چیت ہونی چاہئے کہ بچے مستقبل میں کیا بننا چاہتے ہیں اور بحیثیت ماں آپ ان کی کتنی مدد کرسکتی ہیں؟ تصویر: آئی این این
میری آج کی یہ تحریر خاص طور پر اُن معزز والدین کے لئے ہے جن کے بچوں نے امسال دسویں کا امتحان دیا ہے۔ الحمدللہ، بچے ایس ایس سی بورڈ کے امتحانات سے فارغ ہو چکے ہیں۔ اب یہ نہایت اہم اور فیصلہ کن مرحلہ ہے، جہاں ہمیں سنجیدگی کے ساتھ یہ طے کرنا ہے کہ ہمارے بچے کا مستقبل کس سمت میں آگے بڑھے گا۔
والدین، خاص طور پر ماؤں سے گزارش ہے کہ کچھ قیمتی وقت نکال کر اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھیں، ان سے کھل کر بات کریں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں:
٭ان کی دلچسپی کس شعبے میں ہے؟ ٭وہ دل سے کیا بننا چاہتے ہیں؟ ٭کس میدان میں وہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں؟
بچوں کی رائے اور رجحان کو سامنے رکھتے ہوئے ہی یہ فیصلہ کریں کہ انہیں سائنس، کامرس یا آرٹس میں سے کس اسٹریم کا انتخاب کرنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: عورت کی صحت ایک مضبوط معاشرہ اور روشن مستقبل کی بنیاد
ساتھ ہی ساتھ، منتخب کئے جانے والے کورس کا مستقبل میں اسکوپ بھی ضرور دیکھیں۔ اس ضمن میں خوش قسمتی سے یوٹیوب پر بہت سی معلوماتی ویڈیوز دستیاب ہیں۔ ایسا شعبہ اختیار کریں جس کی آنے والے وقت میں مانگ ہو، جس میں ترقی کے زیادہ مواقع ہوں، اور نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرونِ ملک بھی روزگار یا کاروبار کے امکانات موجود ہوں۔
مؤدبانہ گزارش ہے کہ والدین اپنی پسند اور اپنی نا تمام آرزوؤں کا بوجھ بچوں پر ہرگز بھی مسلط نہ کریں۔ کورس کے انتخاب کے بعد دوسرا اہم مرحلہ کالج کا انتخاب ہے۔
ایک اچھا کالج بچے کی تعلیم اور شخصیت دونوں کی بہتر نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
آپ سبھی والدین اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے خواہاں ہیں، اور یقیناً آپ میں سے بہت سے لوگ کافی معلومات بھی رکھتے ہیں۔ تاہم، ایک معلمہ ہونے کی حیثیت سے میرا فرض بنتا ہے کہ میں آپ تک درست اور ضروری معلومات پہنچاؤں۔
یہ بھی پڑھئے: گرمی کے موسم میں گل قند کا شربت پئیں، کئی فائدے حاصل ہوں گے
آج کے دور میں ۱۲؍ ویں کے بعد پروفیشنل کورسیز میں داخلہ زیادہ تر کامن انٹرینس ٹیسٹ (سی ای ٹی) کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس لئے بچوں کو ۱۱؍ ویں اور ۱۲؍ ویں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر ہیلتھ اینڈ ٹیکنیکل کامن انٹرینس ٹیسٹ (ایم ایچ-سی ای ٹی) کی باقاعدہ تیاری کرنا نہایت ضروری ہے۔
جو طلبہ پیرامیڈیکل کورسیز میں جانا چاہتے ہیں، ان کے لئے ۱۲؍ ویں کے بعد پی سی بی (فزکس کیمسٹری بائیولوجی) کی سی ای ٹی دینا ضروری ہے۔
جو طلبہ انجینئرنگ کے شعبے میں جانا چاہتے ہیں، انہیں پی سی ایم (فزکس، کیمسٹری، میتھمیٹکس) ساتھ ایم ایچ-سی ای ٹی دینا لازمی ہے، جس کے ذریعے مہاراشٹر کے کالجز میں داخلہ حاصل ہوتا ہے۔ پورے ہندوستان میں کسی بھی اسٹیٹ کے بہترین انجینئرنگ کالجز میں داخلہ پانے کے لئے جے ای ای یہ داخلہ امتحان دینا ہوتا ہے، جو کہ سی بی ایس ای سلیبس کے فزکس کیمسٹری اور میتھس پر مبنی ہوتا ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھیں کہ ۱۲؍ ویں کے بورڈ امتحانات میں تقریباً ۵۰؍ فیصد نمبرات کافی ہوتے ہیں، جبکہ اصل داخلہ سی ای ٹی میں حاصل ہونے والے پرسنٹائل پر منحصر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر بننے کے لئے نیٹ (این ای ای ٹی) انٹرنس امتحان دینا ہوتا ہے، جو سی بی ایس ای کے فزکس کیمسٹری اور بائیولوجی ۱۱؍ ویں اور ۱۲؍ ویں کے مکمل سلیبس پر مبنی ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: متوازن اور معتدل زندگی کا راز داخلی سکون میں مضمر ہے
لاء (قانون کی تعلیم) کے شعبے میں جانے والے طلبہ کے لئے بھی ۱۲؍ ویں کے بعد الگ سے لاء کی سی ای ٹی ہوتی ہے۔ بی ایس سی نرسنگ کے لئے مہاراشٹر اسٹیٹ میں الگ سے سی ای ٹی ہے۔ جس میں پی سی بی اور انگریزی جیسے مضامین شامل ہوتے ہیں۔
آخر میں، یہی کہنا چاہوں گی کہ بچوں کے مستقبل کے اس اہم مرحلے پر صحیح رہنمائی بے حد ضروری ہے۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی رہنمائی درکار ہو تو بلا جھجھک کسی بھی جانکاری رکھنے والے مخلص انسان سے رابطہ کریں تاکہ منزل مقصود تک رسائی پانے کے لئے آسانی ہو۔ کورس سے متعلق اہم معلومات، جیسے مضامیں، فیس، اچھے کالجز اور تمام اونچ نیچ سے بر وقت آپ کو آگاہی ہوسکے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں کو کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے اور اُمت کے لئے فیض رساں بنائے (آمین)۔