آج کی بھارتی عورت محض تغیرِ زمانہ کی خاموش تماشائی نہیں بلکہ وہ جدید معیشت اور ٹیکنالوجی کی اصل معمار بن کر ابھری ہے۔
EPAPER
Updated: March 05, 2026, 4:23 PM IST | Syed Khushnaaz | Mumbai
آج کی بھارتی عورت محض تغیرِ زمانہ کی خاموش تماشائی نہیں بلکہ وہ جدید معیشت اور ٹیکنالوجی کی اصل معمار بن کر ابھری ہے۔
آج کی بھارتی عورت محض تغیرِ زمانہ کی خاموش تماشائی نہیں بلکہ وہ جدید معیشت اور ٹیکنالوجی کی اصل معمار بن کر ابھری ہے۔ وقت کے بدلتے ہوئے دھارے نے امکانات کا وہ افق کھول دیا ہے جہاں کوئی بھی منزل اب عورت کی رسائی سے دور نہیں۔ یہ محض ایک خوش آئند دعویٰ نہیں بلکہ وہ حقیقت ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے تاریخ رقم کر رہی ہے۔ جب ہم بھارت کی بلند ترین مسند پر صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کو متمکن دیکھتے ہیں، تو یہ صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں بلکہ اس قدیم سوچ کی شکست ہے جو عورت کو پسماندگی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنا چاہتی تھی۔ اُدیشہ کے ایک گمنام گاؤں سے راشٹرپتی بھون تک کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ ارادہ اگر آہنی ہو تو مواقع خود راستہ بناتے ہیں۔ اسی عزم کی جھلک ہمیں راجستھان کے ریگزاروں میں چھوی راجاوت کی صورت نظر آتی ہے، جنہوں نے کارپوریٹ دنیا کی رنگینیوں کو ٹھکرا کر اپنے گاؤں کی مٹی کا قرض چکانے کو ترجیح دی اور دیہی قیادت کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان میں یہ عادتیں آپ کو ہشاش بشاش رکھیں گی
سائنس اور ٹیکنالوجی کے وہ میدان، جنہیں کبھی مردوں کی اجارہ داری سمجھا جاتا تھا، آج خواتین کی ذہانت سے منور ہیں۔ ’مشن منگلیان‘ اور ’چندریان‘ کی کامیابی کے پیچھے ریتو کریدھل جیسی ’راکٹ ویمن‘ کی بصیرت کارفرما ہے، جس نے دنیا کو بتا دیا کہ بھارتی عورت کی پرواز خلا کی وسعتوں سے بھی آگے ہے۔ کاروباری دنیا میں بھی خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ فالگونی نائر نے عمر کے اس حصے میں Nykaa کی بنیاد رکھی جسے لوگ ریٹائرمنٹ کا وقت سمجھتے ہیں، اور آج وہ ’سیلف میڈ‘ کامیابی کا استعارہ بن چکی ہیں۔ معاشی خود مختاری کا یہ سفر صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں۔ ایلا بھٹ کی ’سیوا‘ (SEWA) ہو یا لیجت پاپڑ کی تحریک، ان مثالوں نے ثابت کیا کہ جب ایک عام عورت کے ہاتھ میں ہنر اور حوصلہ ہوتا ہے، تو وہ ایک پوری معیشت کو سہارا دینے کی سکت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان میں نعمتوں سے سجے دسترخوان کی قدر کیجئے
آج کا ڈجیٹل انقلاب عورت کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ اروندھتی بھٹاچاریہ جیسی خواتین نے مالیاتی اداروں کی قیادت کرکے وہ رکاوٹیں عبور کیں جو نسلوں سے حائل تھیں۔ حکومت کی ’مدرا لون‘ اسکیم کا کثیر حصہ خواتین کے ذریعے استعمال ہونا اس بات کا غماز ہے کہ بھارت کے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں ایک خاموش معاشی انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جب ایک عورت معاشی طور پر مستحکم ہوتی ہے، تو وہ صرف اپنی ذات پر سرمایہ کاری نہیں کرتی بلکہ اس کی پہلی ترجیح خاندان کی تعلیم اور صحت ہوتی ہے۔ گویا عورت کی ترقی دراصل ایک پوری نسل کی آبیاری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم عورت کو ’حالات کی محتاج‘ سمجھنے کے بجائے اسے ’حالات بدلنے والی قوت‘ کے طور پر تسلیم کریں۔ ہمیں ایک ایسا سماج تخلیق کرنا ہوگا جہاں اسے ’اجازت‘ کی ضرورت نہ ہو بلکہ اسے ’اعتماد‘ کا ایسا ماحول ملے جہاں وہ اپنے پر پھیلا سکے۔ آج کی عورت کے پاس وژن بھی ہے، ہمت بھی اور ہنر بھی.... ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اسے رکاوٹیں نہیں، راستے فراہم کریں۔