• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان میں نعمتوں سے سجے دسترخوان کی قدر کیجئے

Updated: February 26, 2026, 2:41 PM IST | Naheed Rizvi | Mumbai

بلاشبہ اس مبارک مہینے میں ہمارے گھروں کا دسترخوان بے شمار نعمتوں سے بھرا ہوتا ہے۔ لیکن اکثر اوقات ان کی ناقدری کی جاتی ہے۔ غذا ضائع کرتے وقت ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم ان غریبوں کا حق مار رہے ہوتے ہیں جنہیں ایک وقت کا کھانا بھی میسر نہیں ہوتا۔ اس رمضان کوشش کیجئے کہ ایسا نہ ہو۔

Instead of making a lot of preparations for Iftar, prefer to make just one `special item` every day. Photo: INN
افطار میں بہت زیادہ اہتمام کرنے کے بجائے روزانہ صرف ایک ’اسپیشل آئٹم‘ بنانے کو ترجیح دیں۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک وہ مقدس مہینہ ہے جس کے بارے میں حضور سرور کائناتؐ نے فرمایا ہے کہ یہ برکتوں کا مہینہ ہے۔ اور قرآن حکیم میں ہے ’’مسلمان تم پر روزے اس طرح فرض کر دیئے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں اور قوموں پر اس سے پہلے فرض کئے گئے تھے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔

چنانچہ ہمیں چاہئے کہ جب اللہ تعالیٰ ہمیں سعادت عطا فرمائے کہ ہم صحت کی حالت میں رمضان المبارک کو پائیں تو پورے احترام کے ساتھ روزے رکھیں اور روزے کی برکات حاصل کرنے کے لئے دن بھر ایسا طرز عمل اختیار کریں جو تقویٰ کے تقاضے پورے کرے۔ نماز، تلاوت یہ نہایت اہم ہیں اور اس کے ساتھ ہی جو غذا گھروں میں بنائی جاتی ہے ان کا ضیاع نہ ہو اس کا خیال رکھنا بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بچوں کی تربیت کے دوران ماؤں کا رویہ نہ تو سخت ہو نہ بہت زیادہ نرم

رمضان کا اصل مقصد روزہ رکھ کر عبادت میں وقت گزارنا ہوتا ہے۔ لیکن اکثر خواتین دن کی شروعات سے افطاری کی تیاریوں میں جٹ جاتی ہیں۔ افطار میں چکنائی سے بھرپور غذائیں تیار کی جاتی ہیں۔ افطار کے وقت زیادہ تلا ہوا کھانے سے معدہ پر بوجھ آجاتا ہے جس سے تیزابیت، سینے میں جلن اور سستی پیدا ہوجاتی ہے۔

رمضان نعمتوں، رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ماہِ رمضان میں بے تحاشا نعمتوں سے نوازتا ہے۔ ان نعمتوں کا ضیاع اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ اور کھانے پینے کی اشیاء کا ضیاع ناشکری اور گناہ ہے۔ ان نعمتوں کے بارے میں اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ کھاؤ پیو لیکن حد سے نہ بڑھو کیونکہ وہ ضائع کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔ کھانے کے ضیاع کے سلسلے میں ایک بات اور واضح کرنا چاہوں گی کہ جب ہم کھانا ضائع کرتے ہیں تو ہم ان غریبوں اور بھوکے لوگوں کا حق مار رہے ہوتے ہیں جنہیں ایک وقت کا کھانا بھی میسر نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: حساس جلد کی حامل خواتین میک اَپ کے دوران یہ غلطیاں نہ کریں

رمضان میں کھانے کا ضیاع ایک بہت بُری عادت ہے۔ عوامی صفائی کارپوریشن کے اعداد و شمار کے مطابق، رمضان میں کھانے کی بربادی اوسط مہینوں کے مقابلے میں ۱۵؍ سے ۲۰؍ فیصد زیادہ ہوتی ہے۔ اسلام میں قرآن کی کئی آیات، کھانے اور اس سے منسلک معاملات پر متعدد احادیث ہیں۔ کھانا نہ صرف اپنی ضرورت یا بھوک کو پورا کرنے کرنے کے لئے اہم ہے بلکہ یہ ہمارے جسمانی، ذہنی اور جذباتی فلاح و بہبود کے لئے بھی فائدہ مند ہے۔ کھانے کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے مسلمانوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا۔ خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء کو خریدنے، تیار کرنے اور کھانے میں اعتدال برتنا چاہئے۔ ہم ایک ایسے نبیؐ کے پیروکار ہیں جن پہ عالم فخر کرتا ہے۔ ہم تو جدید دور کے اخلاقیات پر عمل کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور اپنے مشروب اور کھانے کو مکمل کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہمارے نبیؐ تو کھانے کے بعد اپنی انگلیاں بھی چاٹتے تھے۔ آج ہم ماضی کے بادشاہوں سے بہتر کھاتے ہیں۔ اپنی طشتری میں موجود کھانے کے لئے شکر گزار رہیں۔ کھانے کا ضیاع اللہ کی ناشکری کا ثبوت ہے۔ ہمارے پاس کھانے کے لئے بہت کچھ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ کی محبت کی علامت ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ جنہیں دنیا میں جنت کی خوشخبری ملی تھی اور جن کا شمار صحابہ میں سب سے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا۔ وہ ڈرتے تھے کہ دنیا میں شاندار کھانا انہیں آخرت میں نعمتوں سے محروم کر دے گا۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان اور ملازمت پیشہ خواتین: یوں معمولات کو آسان بنائیں

کھانے کی قدر کرنا اور اس کا ضیاع نہ کرنا اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ کھانا اللہ کی نعمت ہے اور اسے ضائع کرنا اصراف ہے۔ اس سلسلے میں خواتین ِ خانہ کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہیں گھر کے افراد کے مطابق پکوان تیار کرنے چاہئیں۔ افطار میں بہت زیادہ اہتمام کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ روزے کی حالت میں خواتین خود کو ہلکان کرکے بہت کچھ تیار کر لیتی ہیں لیکن افطار کے دسترخوان پر کئی چیزیں بچ جاتی ہیں۔ بہتر ہوگا کہ مینو بنا لیں۔ جیسے پھل اور شربت کے علاوہ صرف ایک تلی ہوئی شے تیار کی جائے گی۔ اس طرح روزانہ الگ الگ تلی ہوئی اشیاء کھانے کو ملے گی اور کھانے ضائع ہونے سے بھی بچ جائے گا۔ اس کے علاوہ بچ جانے والی اشیاء کو حفاظت سے ہوا بند ڈبے میں محفوظ کرلیں، انہیں اگلے دن استعمال کرلیں۔ ایک اور طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ اگر آپ کو افطار کے لوازمات بہت زیادہ لگ رہے ہیں تو تھوڑا تھوڑا آس پڑوس میں دے دیں تاکہ غذا کا ضیاع نہ ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK