• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: ہمسفر

Updated: October 07, 2026, 1:54 PM IST | Ansari Zara Naseem Akhtar | Mumbai

بڑی سی راہداری عبور کرتے ہوئے میرال کے قدم اچانک ایک مردانہ آواز پر رک گئے۔ اونچی ہیلز، اور نفیس لباس پہنے ایک ہاتھ میں بیگ اور دوسرے ہاتھ میں موجود موبائل پر وہ مسلسل مصروف تھی۔ ’’میم، ناشتہ لگا دیا ہے۔‘‘

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بڑی سی راہداری عبور کرتے ہوئے میرال کے قدم اچانک ایک مردانہ آواز پر رک گئے۔ اونچی ہیلز، اور نفیس لباس پہنے ایک ہاتھ میں بیگ اور دوسرے ہاتھ میں موجود موبائل پر وہ مسلسل مصروف تھی۔ ’’میم، ناشتہ لگا دیا ہے۔‘‘

میرال نے پلٹ کر دیکھا بھی نہیں، ’’مجھے دیر ہو رہی ہے، مَیں ناشتہ نہیں کروں گی۔‘‘ اتنا کہہ کر میرال نے ڈرائیور کو آواز دی اور تیزی سے اپنی گاڑی میں جا بیٹھی۔ چند ہی لمحوں بعد گاڑی اسے آفس کی جانب لے جا رہی تھی۔

چھ منزلہ خوبصورت عمارت دور سے ہی ہر آنے جانے والے کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی تھی۔ شیشے کے نفیس ڈیزائن، جدید طرزِ تعمیر اور عمارت کی منفرد ساخت اسے کسی ماہر آرکیٹیکٹ کے شاہکار کا نمونہ بناتی تھی۔ گاڑی سے اتر کر میرال تیز قدموں سے لفٹ کی جانب بڑھی۔

مگر اچانک....

وہ سیڑھیوں کے ایک کونے سے ٹکرا گئی۔ ایک شدید جھٹکے سے اس کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ چند لمحوں بعد جب میرال نے آنکھیں کھولیں تو اس کے سامنے کا منظر یکسر بدل چکا تھا۔

وہ آفس میں نہیں تھی۔

وہ ایک بس میں بیٹھی ہوئی تھی۔

میرال نے حیرت سے اردگرد دیکھا۔ وہ اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد ڈرائیور کی آواز سنائی دی کہ اس کی منزل آگئی ہے۔ میرال بس سے اتری، چند قدم آگے بڑھی اور پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا یقین تھا۔ پھر اس نے وہی جملہ دہرایا جو وہ اکثر اپنے خواب سے بیدار ہونے کے بعد کہا کرتی تھی:

’’ایک دن ضرور وہ وقت آئے گا جب مَیں اپنے خوابوں کو مکمل کروں گی۔‘‘

میرال ایک خوبصورت اور ذہین لڑکی تھی، مگر قسمت نے اسے ایک ایسے گھر میں پیدا کیا تھا جہاں پہلے ہی تین بیٹیاں موجود تھیں۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ گھر کا گزارا کسی نہ کسی طرح ہو جاتا تھا، مگر خواہشوں کی تکمیل ایک خواب سے کم نہ تھی۔ شاید یہی محرومی تھی جس نے میرال کے اندر کچھ کر دکھانے کی آگ روشن کر دی تھی۔ اس کی تینوں بڑی بہنوں کی شادی متوسط گھرانوں میں ہو چکی تھی، جہاں زندگی بس کسی نہ کسی طرح گزر رہی تھی۔ میرال اپنے بوڑھے والدین کے ساتھ ایک بوسیدہ سے گھر میں رہتی تھی۔

والدین کی عمر ڈھلنے لگی تو میرال نے گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ ایک کمپنی میں ملازمت بھی شروع کر دی۔ وہ اپنی بہنوں سے زیادہ پڑھی لکھی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس کے والد نے اسے ملازمت کرنے کی اجازت دی تھی۔ مگر میرال کے لئے یہ ملازمت صرف اپنی ضرورتیں پوری کرنے کا ذریعہ تھی۔ گھر کے اخراجات پورے کرنا اس کی سب سے بڑی ذمہ داری تھی۔

یہ بھی پڑھئے: زندگی کے اس پار

اسے کمپنی میں ملازمت اس کی قابلیت اور رینک کی بنیاد پر ملی تھی۔ اور وہ دن.... وہ دن میرال آج تک نہیں بھولی تھی۔ وہ دن جب کمپنی کی جانب سے اسے ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی اور انٹرویو کیلئے بلایا گیا تھا۔ وہی دن، جس نے میرال کی زندگی کو ایک نیا رخ دیا تھا۔ وہی دن، جب اس کی ملاقات ایک ایسی عورت سے ہوئی تھی.... جس نے میرال کو صرف ملازمت نہیں دی تھی، بلکہ اسے اپنے خواب دیکھنا اور ان خوابوں کو پورا کرنے کا حوصلہ بھی سکھایا تھا۔

تئیس نومبر کی سرد صبح تھی۔ آسمان پر پھیلی ہلکی ہلکی روشنی جیسے رات کی ٹھنڈ کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ سردی اپنی جگہ موجود تھی، مگر میرال نے گرم بستر چھوڑ کر فجر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد اس نے ناشتہ کیا، والدین سے دعائیں لیں اور جاب انٹرویو کیلئے گھر سے روانہ ہو گئی۔

بس میں بیٹھتے ہی میرال نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ اس کیلئے یہ صرف ایک سفر نہیں تھا، بلکہ اس کی منزل کی جانب اٹھایا جانے والا پہلا قدم تھا۔ اس کے دل میں ایک عزم تھا۔ وہ زندگی میں جب تک اپنے خوابوں کو پورا نہیں کر لے گی، تب تک رکنے والی نہیں تھی۔

کچھ دیر بعد بس اسے اس عمارت کے قریب اتار چکی تھی جہاں اسے انٹرویو کیلئے بلایا گیا تھا۔ چھ منزلہ خوبصورت عمارت کو دیکھ کر میرال چند لمحوں کیلئے وہیں رک گئی۔ اس نے حیرت سے عمارت کا جائزہ لیا۔ زندگی میں پہلی بار اسے کوئی عمارت اتنی خوبصورت محسوس ہوئی تھی۔ شیشے کی دیواریں، جدید طرزِ تعمیر اور ہر چیز میں جھلکتی نفاست اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔

میرال نے ایک گہری سانس لی اور عمارت کے اندر داخل ہو گئی۔ انٹرویو کیلئے اسے کچھ دیر انتظار کرنا پڑا، کیونکہ انٹرویو لینے والے باس ابھی آفس نہیں پہنچے تھے۔ میرال خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک آفس کے مرکزی دروازے کی جانب لوگوں کی آمدورفت بڑھ گئی۔ چند ہی لمحوں بعد کئی افراد دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ اور پھر ان تمام مردوں کے درمیان ایک عورت نمودار ہوئی۔ وہ اپنے مغرور مگر پُراعتماد انداز میں چلتی ہوئی اندر آئی۔ آنکھوں پر گلاسیز، خوبصورت لباس اور پاؤں میں اونچی سفید ہیلز۔

وہ جس انداز سے چل رہی تھی، جیسے کسی سلطنت کی ملکہ ہو.... وہ لفٹ کی جانب بڑھی۔ اور جب تک لفٹ کا دروازہ بند نہیں ہوا، وہاں موجود تقریباً ہر شخص کی نظریں اسی پر جمی رہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہم اللہ سے اپنے لئے آسانی مانگتے ہیں مگر دوسروں کیلئے آسانی پیدا کیوں نہیں کرتے؟

مگر میرال....

میرال تو جیسے پلکیں جھپکنا ہی بھول گئی تھی۔

سادہ لباس، سر پر دوپٹہ اور ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی میرال نے زندگی میں پہلی بار کسی عورت کو اس انداز میں دیکھا تھا۔ اس کیلئے وہ عورت کسی ملکہ سے کم نہ تھی۔

میرال نے ہمیشہ عورت کو مرد کے سائے میں زندگی گزارتے دیکھا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:صبح کی جلدی، بچوں کے نخرے اور ناشتے سے فرار کی کہانی

اس کے ذہن میں عورت کا مطلب گھر، ذمہ داریاں اور سمجھوتے تھے۔ مگر آج اس نے ایک ایسی عورت دیکھی تھی جو کسی کے سہارے کے بغیر اپنی دنیا کی خود مالک دکھائی دے رہی تھی۔

اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جس نے میرال کے خوابوں کو ایک نیا رخ دے دیا۔

کامیاب انٹرویو کے بعد جب میرال واپس گھر جانے کیلئے بس میں بیٹھی تو اس کے ذہن میں بار بار وہی عورت گردش کر رہی تھی۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے خاموشی سے مسکرائی۔ اور پھر خود کو اسی عورت کی جگہ تصور کرنے لگی۔

اس دن بس میں میرال صرف اپنے گھر کی طرف واپس نہیں جا رہی تھی۔ وہ اپنے خوابوں کے ایک نئے سفر پر روانہ ہو چکی تھی۔

آفس جوائن کرنے کے بعد میرال نے چند ہی ماہ میں اپنی قابلیت اور ٹیلنٹ کی وجہ سے بہترین کارکردگی دکھانا شروع کر دی۔ آفس کے باس بھی اس کی محنت اور کارکردگی سے متاثر تھے۔ وہ اکثر میرال کو سراہتے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے۔ ہر تعریف میرال کے اندر آگے بڑھنے کا ایک نیا حوصلہ پیدا کرتی۔

وقت خوبصورت انداز میں تیزی سے گزر رہا تھا اور میرال اپنی منزل کی جانب مسلسل بڑھ رہی تھی۔ پھر ایک دن....

میرال آفس سے گھر واپس آئی تو گھر میں کچھ مہمان موجود تھے۔ وہ اندر داخل ہوئی تو سامنے اپنی پھپھو اور ان کے بیٹے ازلان کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اس کی پھپھو کا تعلق ایک اچھے گھرانے سے تھا اور ان کی اکلوتی اولاد ازلان تھا، جو اپنے خاندانی کاروبار کو سنبھالتا تھا۔

ازلان تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت اور سلجھا ہوا نوجوان تھا۔

اور سب سے بڑھ کر....

وہ میرال سے شادی کرنے کی خواہش کا اظہار بہت پہلے کر چکا تھا۔

میرال اور ازلان کا رشتہ بھی خاندان میں کافی عرصے سے طے شدہ سمجھا جاتا تھا....

میرال ہر کسی کی پسندیدہ تھی۔خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اس کے اندر سلیقہ، سمجھداری اور اپنائیت بھی تھی۔ میرال نے بھی ازلان کے رشتے کو قبول کر لیا تھا۔

آخر ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی لڑکی کے لئے ازلان میں ایک بہتر زندگی اور اپنی بہت سی خواہشوں کے پورا ہونے کی امید دکھائی دیتی تھی۔ میرال اور ازلان اکثر ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے۔ دونوں کے مزاج میں بھی کافی مماثلت تھی۔ میرال اپنی زندگی کے خواب ازلان کے ساتھ جوڑنے لگی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے ازلان سے بہتر ساتھی اسے نہیں مل سکتا۔

مگر....

یہ بھی پڑھئے:افسانہ: ریاکاری

تب میرال نے اس ملکہ کو دیکھا نہیں تھا۔ اس نے ابھی یہ جانا نہیں تھا کہ دنیا میں ایک ایسی زندگی بھی ہوتی ہے جہاں خوابوں کو حقیقت بنانے کیلئے کسی مرد کے سہارے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

اور شاید میرال کی زندگی کا سب سے بڑا سوال بھی یہی تھا....

کیا اسے اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے ازلان کا ہاتھ تھامنا تھا؟

یا پھر خود اپنی زندگی کی ملکہ بننا تھا؟

رات گہری ہو چکی تھی۔

میرال آفس کے تمام کاموں سے فارغ ہو کر گھر کی چھت پر بیٹھی آسمان کو تک رہی تھی۔ چاندنی خاموشی سے ہر طرف پھیلی ہوئی تھی اور ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے کو چھو کر گزر رہی تھی۔

تبھی امی آہستہ آہستہ چلتی ہوئی چھت پر آئیں اور میرال کے پاس بیٹھ گئیں۔

کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد انہوں نے کہا، ’’میرال، آج تمہاری پھوپھو اور ازلان آئے تھے۔ وہ شادی کی تاریخ طے کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

میرال خاموشی سے آسمان کو دیکھتی رہی۔

اس کے چہرے پر نہ حیرت تھی نہ پریشانی۔

چند لمحوں بعد اس نے ماں کی طرف دیکھا اور پرسکون لہجے میں کہا، ’’امی، آپ پھوپھو اور ازلان کو اتوار کے دن کھانے پر بلوا لیں۔ پھر سب کے سامنے بات کر لیں گے۔‘‘

میرال نے اپنا فیصلہ اسی وقت کر لیا تھا جب اسے اپنی پہلی بڑی پروموشن ملی تھی۔

اتنے کم عرصے میں اپنی محنت اور قابلیت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد اسے یقین ہونے لگا تھا کہ اگر وہ اسی طرح محنت کرتی رہی تو ایک دن وہ خود بھی کسی کمپنی کی مالک بن سکتی ہے۔

اور اسی دن سے میرال نے اپنے آپ کو پہلے سے کہیں زیادہ کام میں مصروف کر لیا تھا۔

اس کا مقصد صرف ایک اچھی ملازمت حاصل کرنا نہیں تھا۔ وہ ایک ایسی زندگی چاہتی تھی جہاں اسے اپنے فیصلوں کے لئے کسی دوسرے کے سہارے کی ضرورت نہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے:کہانی: خود سے خود کی پہچان

جہاں وہ آزاد ہو۔

جہاں اسکے خواب کسی رشتے کی محتاج نہ ہوں۔

اتوار کے روز پھوپھو اور ازلان گھر آئے۔

گھر میں شادی کی باتیں ہوئیں، رسموں اور تیاریوں کا ذکر ہوا، اور پھر پھوپھو نے میرال کی طرف دیکھتے ہوئے شادی کی تاریخ طے کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

میرال نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد نہایت پرسکون لہجے میں کہا، ’’پھوپھو، میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘

کمرے میں جیسے اچانک خاموشی چھا گئی۔

وہاں موجود ہر شخص کے چہرے پر حیرت نمایاں تھی۔ مگر اس انکار سے سب سے زیادہ تکلیف ازلان کو ہوئی تھی۔

اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ میرال اس قدر سکون اور یقین کے ساتھ اس کے رشتے سے انکار کر دے گی۔

یہ بھی پڑھئے:اسپغول: فائبر سپلیمنٹ کے طور پر استعمال ہوتا ہے

مگر ازلان نے ایک لفظ بھی نہیں کہا.... کیونکہ جس نڈر پن اور پُرسکون لہجے کے ساتھ میرال نے انکار کیا تھا وہ کسی توہین سے کم نہیں تھا.... اس نے خاموشی سے میرال کے فیصلے کو قبول کر لیا۔

اگلے روز میرال آفس جانے کے لئے تیار ہورہی تھی تو اس نے اپنے والدین کے چہروں پر اداسی دیکھی۔

وہ جانتی تھی کہ اس کے فیصلے نے انہیں بھی دکھ پہنچایا ہے۔

میرال ان کے پاس بیٹھی، انہیں سمجھایا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ کبھی انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔

پھر وہ آفس کے لئے روانہ ہوگئی۔

کہیں نہ کہیں اس انکار کا غم میرال کے دل میں بھی تھا، مگر اس نے اس غم کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔

وہ جانتی تھی کہ اگر اس وقت وہ رک گئی تو شاید اپنے خوابوں سے بہت دور ہو جائے گی۔

اور میرال اب رکنا نہیں چاہتی تھی۔

کسی کے لئے بھی نہیں۔

وقت گزرتا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:۲؍گریجویٹس جنہوں نے۴؍ماہ میں اسٹارٹ اَپ بناکر اسے فروخت کردیا

میرال کی محنت، قابلیت اور لگن اسے کامیابی کی ایک نئی منزل تک لے گئی۔ کچھ ہی عرصے بعد اسے آفس کی چیف ڈائریکٹر کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔

اسی دوران میرال نے اپنے والدین کے لئے ایک خوبصورت گھر خریدا اور ان کے ساتھ رہنے لگی۔

اس نے اپنی کئی خواہشیں بھی پوری کر لیں۔

مگر اس کے لئے خواہشوں کی تکمیل ہی سب کچھ نہیں تھی۔

اسے وہ خواب پورا کرنا تھا جس کیلئے اس نے اپنی زندگی کے کئی سال محنت میں گزار دیئے تھے۔

میرال نے اپنے تعلقات اور کاروباری روابط کو وسیع کرنا شروع کیا۔

پھر ایک دن اس نے ایک بڑے رقبے پر اپنے ذاتی آفس کی تعمیر شروع کروا دی۔ تقریباً چھ سے سات ماہ کی مسلسل محنت کے بعد وہاں ایک خوبصورت چھ منزلہ عمارت کھڑی تھی۔

اور اس عمارت کے دروازے پر ’میرال‘ کا نام لکھا تھا۔

وہ اب کسی کی ملازم نہیں تھی۔

وہ خود اپنی کمپنی کی مالک تھی۔

اس کا آفس، اس کی محنت اور اس کی بنائی ہوئی بہترین ٹیم روز بروز ترقی کی نئی منزلیں طے کرنے لگی۔

میرال کے والدین اپنی بیٹی کی کامیابی پر بے حد خوش تھے۔

مگر ان کے دل میں ایک خواہش اب بھی باقی تھی۔

وہ چاہتے تھے کہ میرال شادی کرے اور اپنا گھر بھی بسائے۔

جب بھی وہ اس موضوع پر میرال سے بات کرتے، میرال ہمیشہ تحمل سے مسکرا کر انکار کر دیتی۔ اس کے لئے زندگی کا مطلب صرف شادی نہیں تھا۔

وہ جانتی تھی کہ عورت کی زندگی کی منزل صرف ایک گھر تک محدود نہیں ہوتی۔

میرال کو اپنے آفس کے سلسلے میں اکثر بیرونِ ملک سفر کرنا پڑتا۔

ہر سفر سے واپسی پر وہ اپنے والدین، بہنوں اور اپنی ٹیم کے لئے تحائف ضرور لاتی۔

وہ اپنے خوابوں کے ساتھ ساتھ اپنے اپنوں کی خوشیوں کا بھی خیال رکھتی تھی۔

ایسے ہی ایک دن میرال آفس کے کام سے استنبول گئی۔

کام مکمل ہونے کے بعد واپسی سے پہلے وہ کچھ تحائف خریدنے کے لئے ایک بڑے مال میں چلی گئی۔

خریداری کرتے ہوئے اچانک اس کی نظر ایک شخص پر پڑی۔

وہ اپنی بیوی کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا اور دوسرے بازو میں ایک خوبصورت سا بچہ لئے سیڑھیوں کی جانب بڑھ رہا تھا۔

میرال کے قدم وہیں رک گئے۔

وہ چند لمحوں تک خاموشی سے اس خاندان کو دیکھتی رہی۔

اور پھر اچانک اسے برسوں پرانی ایک گفتگو یاد آ گئی۔

’’تمہیں پتہ ہے ازلان، مجھے استنبول بہت پسند ہے۔ وہاں جانا میرا خواب ہے۔‘‘

ازلان نے مسکراتے ہوئے کہا تھا، ’’کوئی بات نہیں، ایک دن میں تمہارا یہ خواب پورا کرونگا۔‘‘

میرال نے حیرت سے پوچھا تھا، ’’کب؟‘‘

ازلان ہمیشہ کی طرح مسکرایا تھا۔

’’جب مَیں تمہارا ہم سفر بنوں گا، تب ہم دونوں ساتھ استنبول آئیں گے۔‘‘

یاد کا وہ منظر چند لمحوں کے لئے میرال کی آنکھوں کے سامنے زندہ ہوگیا۔

پھر اس نے ہلکے سے سر جھٹکا۔

اس کے ہونٹوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

وہ دوبارہ خریداری میں مصروف ہو گئی۔

اسے آج احساس ہو چکا تھا کہ استنبول آنے کے لئے اسے کسی ہم سفر کی ضرورت نہیں تھی۔

اسے اپنے خواب پورے کرنے کے لئے کسی کے وعدے کی ضرورت نہیں تھی۔

کیونکہ جس سفر کا آغاز کبھی ایک بس کی کھڑکی سے ہوا تھا، آج وہی سفر اسے اس مقام تک لے آیا تھا جہاں وہ اپنی زندگی کی خود مالک تھی۔

میرال نے اپنے خوابوں کو کسی انسان کا محتاج نہیں بنایا تھا۔

بلکہ اپنے خوابوں کو ہی اپنا ہم سفر بنا لیا تھا۔ اسے احساس ہوگیا تھا محبت خوبصورت ہے اگر خود سے کی جائے تو.... اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK