Inquilab Logo Happiest Places to Work

پلے اسکول کا انتخاب کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے؟

Updated: August 27, 2026, 3:48 PM IST | Gul-e-Afshan Shaikh | Osmanabad

جس طرح بچے کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے، اسی طرح بچے کی تعلیمی زندگی کی پہلی سیڑھی پلے اسکول ہے۔ یہاں بچہ رہن سہن اور بول چال سیکھتا ہے۔ اس کی ذہنی نشوونما ہوتی ہے اور تخلیقی صلاحیتوں کو اُبھارنے میں مدد ملتی ہے۔

In play schools, efforts are made to teach children through activities. Picture: INN
پلے اسکول میں ایکٹیویٹی کے ذریعہ بچوں کو سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تصویر: آئی این این

جس طرح بچے کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے، اسی طرح بچے کی تعلیمی زندگی کی پہلی سیڑھی پلے اسکول ہے۔ یہاں بچہ رہن سہن اور بول چال سیکھتا ہے۔ اس کی ذہنی نشوونما ہوتی ہے اور تخلیقی صلاحیتوں کو اُبھارنے میں مدد ملتی ہے۔ پلے اسکول کا انتخاب کرتے وقت ہمیں چند باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے:

ماحول کی اہمیت:

پلے اسکول کا انتخاب کرتے وقت والدین اکثر ماحول کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو بہت بڑی غلطی ہے۔ ماحول کا بچوں پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے، بچہ ماحول سے بہت جلد سیکھتا ہے، اس لئے ماحول کو دھیان میں رکھتے ہوئے پلے اسکول کا انتخاب کرنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: عفان انصاری کا مدنپورہ سے یورپ تک کا تعلیمی سفر، طلبہ کیلئے مشعل راہ

صاف صفائی:

پلے اسکول میں صاف صفائی کا خیال رکھا جاتا ہے یا نہیں؟ یہ بات اہمیت رکھتی ہے۔ دیکھیں کہ اسکول، واش روم اور بچوں کے کھلونے صاف ہیں یا نہیں۔ بچوں کا زیادہ وقت وہیں گزرتا ہے اس لئے وہاں پر صفائی بہت ضروری ہے۔

حفاظت کے اقدامات:

والدین کو دیکھنا چاہئے کہ اسکول میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں یا نہیں؟ گیٹ پر تعینات سیکوریٹی گارڈ اور بچوں کی مدد کے لئے موجود اہلکار کے متعلق جانکاری حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لہسن، کڑی پتہ یا ثابت لال مرچ، کون سا تڑکا کس پکوان کے لئے استعمال کرنا چاہئے؟

پڑھائی کا طریقہ:

معلوم کریں کہ پڑھائی کا طریقہ کیسا ہے۔ اچھے پلے اسکول میں ایکٹیویٹی کے ذریعہ تعلیم دی جاتی ہے، بچے پر بوجھ نہیں ڈالا جاتا، جو اچھی بات ہے۔ ایسے پلے اسکول کا انتخاب کرنا درست ثابت ہوتا ہے۔

بچے کی خوشی:

سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچہ اسکول میں خوش ہے یا نہیں۔ جس اسکول میں بچہ خوشی سے جائے اور ہنستا کھیلتا سیکھے، وہی اس کے لئے بہترین ہے۔ اگر بچہ خوش نہیں ہوگا تو وہ کچھ بھی نہیں سیکھ پائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK