یہ تجربات و مشاہدات ایسے طلبہ کیلئے راہنما ہیں جو بیرون ملک جاکر بہترین یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر فکر و اندیشوں کے سبب پس و پیش میں ہیں۔
EPAPER
Updated: August 12, 2026, 7:16 PM IST | Aamir Ansari | Mumbai
یہ تجربات و مشاہدات ایسے طلبہ کیلئے راہنما ہیں جو بیرون ملک جاکر بہترین یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر فکر و اندیشوں کے سبب پس و پیش میں ہیں۔
عفان انصاری ،ممبئی کے مدن پورہ علاقے کے ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نےانزا ہائی اسکول سے اسکولی تعلیم کے بعد مہاراشٹر کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس سے جونیئر کالج مکمل کیا۔بعد ازیں ترکی گئے اور صباح الدین زائم یونیورسٹی سے پالیٹکل سائنس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا یہ سفر صرف ڈگری کا حصول نہیں تھا بلکہ اپنے شہر اور اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکل کر دنیا کو دیکھنے، سمجھنے، مختلف ثقافتوں کو قریب سے دیکھنے کا بھی ایک ذریعہ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۹؍ سالہ نوجوان کو مائیکروسافٹ میں ’سافٹ ویئر انجینئر‘ کی ملازمت
عموماً سائنس کے طلبہ انجینئرنگ یا میڈیکل کی طرف جاتے ہیں۔ آپ نے پالیٹکل سائنس کیوں منتخب کیا؟
عفان: میر ے لئے سائنس سے سوشل سائنس کا رخ کرنا دراصل سماجی دباؤ اور ذاتی دلچسپی کے درمیان ایک کشمکش کا نتیجہ تھا۔ہمارے ہاں اگر کوئی طالب علم سائنس میں اچھا مظاہرہ کرے تو اسے انجینئرنگ یا میڈیکل کی طرف جانے کے لیے کہا جاتا ہے۔ میں نے بھی اسی دباؤ میں سائنس کا انتخاب کیا۔لیکن کووڈ لاک ڈاؤن کےدوران مجھے اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کا وقت ملا۔ مجھے احساس ہوا کہ میری اصل دلچسپی پالیٹکل سائنس، انٹرنیشنل ریلیشنز اور جیوپالیٹکس اور دنیا کے مختلف معاشروں کو سمجھنے میں ہے۔بچپن سے ہی میرے اندر یہ تجسس رہا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں لوگ کس طرح زندگی گزارتے ہیں، حکومتیں کس طرح کام کرتی ہیں، تنازعات کیوں پیدا ہوتے ہیں اور ان کا حل کس طرح نکالا جا سکتا ہے۔ نیز الطاف حسین حالی کا ایک شعر مجھے ہمیشہ متاثر کرتا رہا ہے:یہ پہلا سبق ہے کتابِ خدا کا،کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا۔اسی لئے میںنے اس کا انتخاب کیا۔
طلبہ عام طور پر یو ایس اے، کنیڈا یا آسٹریلیاکو ہدف بناتے ہیں۔ آپ نے ترکی کو کیوں منتخب کیا؟
عفان: ترکی کا انتخاب میرے لئے بنیادی طور پر افورڈیبلٹی اور موقع کا امتزاج تھا۔میرے والدین چاہتے تھے کہ میں نویں کے بعد ترکی میں تعلیم حاصل کروں، کیونکہ وہاں بین الاقوامی طلبہ کیلئے اسکالرشپ کے اچھے مواقع موجود ہیں۔ اس وقت میں اس کیلئے تیار نہیں تھا، اسلئے میں نے ہندوستان میں اپنی جونیئر کالج کی تعلیم مکمل کی۔ بعد میں ہمیں ترک حکومت کی’ترکیہ اسکالرشپ‘کے بارے میں معلوم ہوا۔ اس کے ذریعے ٹیوشن فیس، رہائش، وظیفہ اور بعض سفری سہولیات سمیت مختلف نوعیت کی مالی معاونت حاصل ہو سکتی ہے۔ مقابلہ بہت سخت تھا اور مجھے سرکاری اسکالرشپ نہیں مل سکی لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔ میں نے ترکی کی مختلف یونیورسٹیوں میں آزادانہ طور پر درخواستیں دیں اور مجھے استنبول صباح الدین زائم یونیورسٹی میں۵۰؍ فیصد اسکالرشپ ملی۔
یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو کا ۱۷؍سالہ طالب علم ۵۵ء۳؍کروڑ روپے کا حقداربنا
بہت سے والدین کہتے ہیں کہ’اسٹڈی ابراڈ‘بہت مہنگا ہے اور یہ صرف بہت ذہین یا امیر طلبہ کیلئے ہے۔ آپکا کیا خیال ہے؟
عفان: بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنا یقیناً آسان نہیں ہے، لیکن یہ صرف امیر طلبہ کیلئے بھی نہیں ہے۔میرا تجربہ ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ ہمیشہ پیسہ نہیں ہوتا، بلکہ معلومات اور منصوبہ بندی کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ہماری کمیونٹی میں والدین اور اساتذہ طلبہ کیلئے سب سے اہم گائیڈ ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر والدین یا استاد کے پاس بیرونِ ملک تعلیم کے تمام آپشنز کے بارے میں تفصیلی معلومات موجود ہو۔ اسی وجہ سے طلبہ یہ سمجھتے ہیں کہ بیرونِ ملک تعلیم کا مطلب صرف یوکے، یوایس اے، کنیڈا یا آسٹریلیا ہے، جہاں فیس بہت زیادہ ہوتی ہے۔لیکن یورپ میں بھی نسبتاً کم خرچ تعلیم کے مواقع موجود ہیں۔ جرمنی کی کئی پبلک یونیورسٹیوں میں روایتی معنوں میں ٹیوشن فیس نہیں ہوتی، اگرچہ طلبہ کوسیمسٹر کنٹربیوشن اور رہائش سمیت دیگر اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اٹلی، فرانس، پولینڈ، چیک ریپبلک اور دیگر یورپی ممالک میں بھی مختلف اسکالرشپس اور نسبتاً کم خرچ تعلیم کے مواقع موجود ہیں۔البتہ قوانین ہر یونیورسٹی اور پروگرام کے لحاظ سے کافی مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یونیورسٹی اور حکومت کی سرکاری ویب سائٹس سے معلومات کی تصدیق کرنا بہت ضروری ہے۔میرا مشورہ ہے کہ گیارہویں یا بارہویں میں پہنچ کر بیرونِ ملک تعلیم کے بارے میں سوچنا شروع نہ کریں۔ اس کی منصوبہ بندی اسکولی دنوں سے ہی شروع کی جا سکتی ہے۔اس طرح طلبہ کے پاس زبان، انٹری ٹیسٹس، اسکالرشپس اور مالی معاملات کی تیاری کےلئے مناسب وقت ہوتا ہے۔
اسکالرشپ اور ایجوکیشن لون
عفان: اس کیلئے اہم چیز Early Planning ہے۔اگر طالب علم اسکولی دنوں سے اپنی تعلیمی کارکردگی کو نکھارے، انگریزی کو بہتر بنائے، غیرنصابی سرگرمیاں(مباحثہ/تقریر/کھیل) اور مجموعی پروفائل پر کام کرتا ہے تو اسکالرشپ کے امکانات بہتر ہو جاتے ہیں۔ میرے معاملے میں یونیورسٹی کی۵۰؍ فیصد اسکالرشپ نے ترکی میں میری تعلیم کو مالی طور پر ممکن بنایا ہے۔ایجوکیشن لون بھی ایک مددگار آپشن ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کم سرمایہ میں شروع ہونے والے کاروبار آپ کیلئے اچھے متبادل بن سکتے ہیں
اسکالرشپ اور ملازمت کے مواقع
عفان: یہ صورتحال ملک اور معیشت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ اسلئے میں طلبہ کو کسی ایک شعبے کی اندھی تقلید کرنے کا مشورہ نہیں دوں گا۔ٹیکنالوجی کے شعبے میں اے آئی ، سائبر سیکوریٹی،ڈیٹا سائنس اور سافٹ ویئرسے متعلق شعبوں میں مواقع موجود ہیں۔ انجینئرنگ، رینیوایبل انرجی، ہیلتھ کیئرماہرین اور ورکرز کی طلب کئی ممالک میں موجود ہے۔طلبہ کو پہلے یہ جاننا چاہئے کہ میری دلچسپی کس شعبے میں ہے؟
باہرتعلیم کیساتھ پارٹ ٹائم جاب؟
عفان: جی ،کئی ممالک میں بین الاقوامی طلبہ کے لئے پارٹ ٹائم کام کرنا ممکن ہوتا ہے، لیکن اسکے قوانین ملک، ویزا اور پروگرام کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں اور وقت کیساتھ تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔اسلئے طلبہ کو اپنے ویزا سے متعلق سرکاری قوانین ضرور چیک کرنے چاہئیں۔پارٹ ٹائم کام کو اضافی مالی مدد کے طور پر دیکھنا زیادہ بہتر ہے۔ پارٹ ٹائم کام طالب علم کو مالی خودمختاری اور نظم و ضبط سیکھاتا ہے۔
ابراڈکیلئے کیا زیادہ نمبر ضروری ہیں؟
عفان: یقیناً فائدہ دیتے ہیں، خاص طور پر مقابلے کی اسکالرشپس میں۔ لیکن صرف نمبر ہی سب کچھ نہیں، ہر یونیورسٹی کا داخلہ نظام مختلف ہوتا ہے۔ کچھ تعلیمی نمبروں کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں، جبکہ کچھ انٹرنس ٹیسٹ، عملی کام،Extracurricular Activities یا مجموعی پروفائل کو بھی مدِنظر رکھتی ہیں۔اگر کسی طالب علم کے نمبر اوسط ہیں لیکن صلاحیت اورکچھ کرنے کا عزم ہے تو موقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’ریزیومے بوٹوکس‘ کیا ہے اور یہ اس وقت کیوں ٹرینڈنگ میں ہے؟
ترکی میں دوران تعلیم آپ کیلئے سب سے بڑا چیلنج کیا رہا؟
عفان: اس تعلق سے میں سب سے پہلے واضح کردوں کہ میرے لئے سب سے بڑا چیلنج صرف تعلیم نہیں تھا۔ گھر سے دور رہنا، مالی منصوبہ بندی، نئے کلچر میں خود کو ایڈجسٹ کرنا اور اپنے فیصلے خود کرنا بھی ایک بہت بڑا تعلیمی تجربہ تھا۔ہندوستان میں خاندان کی مدد قدرتی طور پر بہت مضبوط ہوتی ہے۔ لیکن بیرونِ ملک جا کر طالب علم کو چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی خود سنبھالنی پڑتی ہے۔کبھی تنہائی محسوس ہوتی ہے، کبھی مالی دباؤ ہوتا ہے اور کبھی تعلیم مشکل محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اسی عمل کے دوران طالب علم خود مختار بننا سیکھتا ہے۔میرے لیے ترکی میں تعلیم حاصل کرنا اور پھر پولینڈ میں ایکسچینج سمسٹر کرنا صرف کلاس روم کی تعلیم تک محدود نہیں تھا۔ مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ رہ کر میں نے دنیا کو سمجھنا سیکھا۔
بیرون ملک تعلیم کے حوالے سے طلبہ اور والدین کو عفان کا پیغام
عفان: میں والدین سے کہوں گا کہ اپنے بچے کو صرف اسلئے کسی شعبے میں نہ بھیجیں کہ معاشرہ میں اس شعبے کو کامیاب سمجھا جاتا ہے۔طالب علم کی صلاحیت، دلچسپی اور مستقبل کے مواقع کو ایک ساتھ دیکھیں۔ طلبہ سے میں کہوں گا کہ بیرونِ ملک تعلیم کو سوشل میڈیا کی عینک سے نہ دیکھیں۔ بیرونِ ملک جانا کوئی پکنک نہیں ، یہ ایک ذمہ داری ہے۔ منصوبہ بندی کریں، اسکالرشپس اور کم خرچ یونیورسٹیوں کو تلاش کریں، غیرملکی زبان اور امتحانات کیلئے پہلے سے تیاری کریں اور اپنے خاندان کے بجٹ کو سمجھ کر فیصلہ کریں۔ فارین ایجوکیشن کا پہلا قدم ایئر پورٹ نہیں پلاننگ ہے۔ معلومات حاصل کرنے کے بعد اس کی چھان بین کریں اور سرکاری و مستند ذرائع سے اس کی تصدیق کریں۔میں چاہتا ہوں کہ ممبئی اور مہاراشٹر کے طلبہ بیرونِ ملک تعلیم کو ایک ناممکن خواب نہ سمجھیں۔
متوسط طبقے کا خاندان اپنے بچے کو بیرون ملک تعلیم دلوانا چاہے تو؟
عفان: سب سے پہلے طالب علم کو اپنی انگریزی مضبوط کرنی چاہیے اور اگر ممکن ہو تو کوئی غیر ملکی زبان بھی سیکھنی چاہیے۔اگر طالب علم بیرونِ ملک گریجویشن کرنا چاہتا ہے تو اسے بارہویں میں اپنا تعلیمی ریکارڈ مضبوط رکھنا چاہیے اور بہتر ہے کہ کم از کم۷۰؍ فیصد یا اس سے زیادہ کا ہدف رکھے۔اسکے ساتھIELTS، TOEFL اورپروگرام کے لحاظ سے SAT یا دیگر داخلہ تقاضوں کو بھی سمجھنا چاہیے۔اگر طالب علم ماسٹرز کے لیے بیرونِ ملک جانا چاہتا ہے تو پروگرام کے لحاظ سے IELTS، TOEFL، GRE، GMAT یا دیگر ضروریات کے لیے پہلے سے تیاری کرنی چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسکالرشپ کیلئے صرف نمبر ہی نہیں بلکہ پروفائل بھی اہمیت رکھتی ہے۔ انٹرن شپ،والنٹیئرنگ ، ریسرچ، لیڈر شپ ایکٹیوٹیز کوبہتر بنائیں۔