Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۵؍ ڈبوں کی لوکل سے کلیان، دیوا اور ڈومبیولی اسٹیشن پر اتر سکتے ہیں

Updated: July 21, 2026, 12:52 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Dombivli

۱۵؍ ڈبوں کی لوکل ٹرین سے ان اسٹیشنوں پر اترنے پر پابندی کی افواہ پرریلوے کی وضاحت۔

Central Railways termed the ban as `fake`. Photo: INN
سینٹرل ریلوے نے پابندی کو ’فیک‘ قرار دیا۔ تصویر: آئی این این

لوکل ٹرین  سے سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کیلئے ایک راحت بخش خبر سامنے آئی ہے۔ سینٹرل ریلوے انتظامیہ نے مسافروں کے سفر کو سہل اور  بھیڑ بھاڑ سے پاک بنانے کیلئے پیر سے ۱۵؍ ڈبوں والی ۱۰؍ نئی لوکل ٹرین سروس شروع کرنے کا ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ ریلوے کے اس اقدام سے کلیان، بدلاپور، کرجت اور کسارا روٹ پر سفر کرنے والے نوکری پیشہ اور عام مسافروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تاہم دوسری طرف سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک فرضی پوسٹ نے مسافروں میں الجھن اور بے چینی پیدا کر دی تھی جس پر ریلوے انتظامیہ نے وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔

  واضح رہے کہ انٹرنیٹ پر تیزی سے گردش کرنے والے مبینہ سرکاری خط میں یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا تھا کہ نئی ۱۵؍ ڈبوں والی لوکل ٹرینوں سے مسافروں کو ڈومبیولی، دیوا اور کلیان جیسے بڑے اسٹیشنوں پر اترنے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔ وائرل پوسٹ میں یہ افواہ بھی پھیلائی گئی تھی کہ مذکورہ اسٹیشنوں پر مسافروں کو صرف ٹرین میں سوار ہونے کی اجازت ہوگی اور اگر کسی نے اترنے کی کوشش کی تو ریلوے پولیس کی جانب سے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ چونکہ اس جعلی خط پر سینٹرل ریلوے کا باقاعدہ لوگو اور اعلیٰ حکام کے ہو بہو فرضی دستخط موجود تھے اس لئے عام مسافروں نے اس معلومات کو سچ مان لیا اور ریلوے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’عمارتوں کے مکان میں تبدیلی کا سبھی کیلئے یکساں قانون ہونا چاہئے‘‘

معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے سینٹرل ریلوے انتظامیہ نے فوری طور پر اس کا سخت نوٹس لیا اور اپنے آفیشل ایکس ہینڈل پر ایک باضابطہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے تمام افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا۔ ریلوے انتظامیہ نے واضح کیاکہ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والا نوٹیفکیشن سراسر فرضی، من گھڑت اور عوام کو گمراہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔

ریلوے نے مسافروں کی آمد و رفت پر اس قسم کی کوئی بھی پابندی عائد نہیں کی ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی افواہوں پر کان نہ دھریں تصدیق کئے بغیر کسی بھی پیغام کو آگے فارورڈ نہ کریں۔ ریلوے حکام کے مطابق اس جعلی سرکیولر کو تیار کرنے اور اسے وائرل کر کے خوف و ہراس پھیلانے والے شرپسندوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK