۲۰؍ تا ۲۷؍ اپریل جنوبی ممبئی اور مشرقی مضافات کے ۱۲؍ وارڈوں میں پانی سپلائی متاثر ہوگی، عوام کو پانی سنبھال کر استعمال کرنے کا مشورہ۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 10:36 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
۲۰؍ تا ۲۷؍ اپریل جنوبی ممبئی اور مشرقی مضافات کے ۱۲؍ وارڈوں میں پانی سپلائی متاثر ہوگی، عوام کو پانی سنبھال کر استعمال کرنے کا مشورہ۔
’برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن‘ (بی ایم سی) کے ذریعہ پانی سپلائی کی اہم سرنگوں اور پائپ لائن کی دیکھ بھال کے کاموں کی وجہ سے قلب شہر اور مشرقی مضافات کے کئی علاقوں میں ۸؍ دنوں تک ۵؍ فیصد کٹوتی کے ساتھ پانی سپلائی کیا جائے گا۔ شہری پہلے ہی گرمی سے پریشان ہیں ایسے میں پانی کٹوتی کی وجہ سے پانی کی کمی سے جوجھ رہے علاقوں میں مزید پریشانیاں بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
بی ایم سی کے مطابق جنوبی ممبئی اور مشرقی مضافات کے متعدد علاقوں میں پیر ۲۰؍ اپریل سے پیر ۲۷؍ اپریل تک ۵؍ فیصد پانی کٹوتی کی جائے گی اس لئے اس دوران عوام کو پانی سنبھال کر استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ شہری انتظامیہ کے ذریعہ ۵؍ فیصد پانی کٹوتی کا مطلب ہے کہ جن علاقوں میں پانی کا پریشر کم رہتا ہے ان جگہوں پر کٹوتی کا اثر ۵؍ فیصد سے بڑھ جائے گا جس کی وجہ سے ان افراد کو زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھئے: سحرشیخ کا کارپوریٹر کا عہدہ خطرے میں، والد کا اوبی سی سرٹیفکیٹ فرضی !
مذکورہ تاریخوں کے دوران واٹر ٹنل نمبر ایک (اے ایم ٹی) اور واٹر ٹنل نمبر ۲ (اے ایم ٹی) کے ذریعے پانی کی سپلائی کیلئے چارجنگ، فلشنگ، کلورینیشن اور ڈی کلورینیشن کا کام کیا جانا ہے۔
اے ایم ٹی ایک کے ذریعہ امر محل (ہیگڈے وار ُاُدیان) سے وڈالا (پرتیکشا نگر) تک پانی سپلائی کیا جاتا ہے اور پھر یہاں سے آگے اسے پریل (سدا کانت دھون اُدیان) تک پہنچایا جاتا ہے۔
اے ایم ٹی ۲؍ کے ذریعے امر محل (ہیگڈے وار ادیان) سے ٹرامبے نچلی سطح کے ریزرور اور آگے ٹرامبے ہائی لیول ریزرور تک پانی پہنچایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گوریگاؤں: موتی لال نگر کے ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے ماسٹر پلان کا اجراء
ان دونوں سرنگوں کے مین ٹیننس کے کام کی وجہ سے ایل (کرلا ایسٹ)، ایم ایسٹ، ایم ویسٹ، این، ایس، ٹی اور جنوبی ممبئی میں اے، بی، سی، ای، ایف نارتھ اور ایف سائوتھ میں پانی کٹوتی کا سب سے زیادہ اثر دیکھنے کو ملے گا۔ بی ایم سی افسران کے مطابق اس دیکھ بھال کے کام کی وجہ سے شہریوں کو عارضی طور پر پریشانی ہوگی لیکن اس کی مدد سے زیادہ طویل عرصہ تک بہتر طور پر پانی سپلائی کرنے میں مدد ملے گی جس سے عوام کو زیادہ وقفہ تک راحت ملے گی۔
مشرقی مضافات کے جو علاقے متاثر ہوں گے ان میں کرلا (ایسٹ)، گوونڈی، دیونار، شیوجی نگر، مانخورد، چیتا کیمپ، گھاٹ کوپر، بھانڈوپ اور ملنڈ جیسے علاقے آتے ہیں۔جبکہ جنوبی ممبئی میں فورٹ، چرچ گیٹ، چوپاٹی، اوپیرا ہائوس، کرافورڈ مارکیٹ، مسافر خانہ، محمد علی روڈ، ڈونگری، جے جے، ناگپاڑہ، مستان تالاب، گرانٹ روڈ، نل بازار، بائیکلہ، پریل، لال باغ، لوور پریل سیوڑی، انٹاپ ہل کے کچھ حصے، وڈالا اور سائن شامل ہیں۔
مئی سے ۱۰؍ فیصد پانی کٹوتی کا خدشہ
گزشتہ برس ممبئی میں تقریباً ۶؍ مہینوں تک بارش کا سلسلہ جاری تھا اس کے باوجود ممبئی کو پانی سپلائی کرنے والی ساتوں جھیلوں میں پانی تقریباً اتنا ہی جمع ہوسکا تھا جتنا گزشتہ دو سے تین برسوں کا ریکارڈ رہا ہے۔ البتہ اب ان جھیلوں میں پانی کی سطح تقریباً ۳۳؍ فیصد بچی ہوئی ہے جس کی وجہ سے بی ایم سی یکم مئی سے پانی سپلائی میں ۱۰؍ فیصد کٹوتی پر غور کررہی ہے۔مزید یہ کہ موسم کا حال بتانے والے ماہرین نے اس سال معمول سے کم بارش ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ اس سال ممبئی میں بارش کی ابتداء معمول سے قبل یعنی جون سے پہلے ہوسکتی ہے لیکن چند روز بارش کے بعد برسات میں ایک طویل خلاء کا اندیشہ ہے۔ واضح رہے کہ جب پانی کی کمی کی وجہ سے بی ایم سی پانی کٹوتی شروع کرتی ہے تو جھیلوں میں اطمینان بخش پانی جمع ہونے تک یہ کٹوتی جاری رکھی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مکینوں کو غیرقانونی قرار دینے کیخلاف احتجاج کی تیاری
کون سے علاقے متاثر ہوں گے؟
مشرقی مضافات کے جو علاقے متاثر ہوں گے ان میں کرلا (ایسٹ)، گوونڈی، دیونار، شیواجی نگر، مانخورد، چیتا کیمپ، گھاٹ کوپر، بھانڈوپ اور ملنڈ جیسے علاقے آتے ہیں۔ جبکہ جنوبی ممبئی میں فورٹ، چرچ گیٹ، چوپاٹی، اوپیرا ہائوس، کرافورڈ مارکیٹ، مسافر خانہ، محمد علی روڈ، ڈونگری، جے جے، ناگپاڑہ، مستان تالاب، گرانٹ روڈ، نل بازار، بائیکلہ، پریل، لال باغ، لوور پریل سیوڑی، انٹاپ ہل کے کچھ حصے، وڈالا اور سائن شامل ہیں۔
بی ایم سی افسران کاکیاکہنا ہے؟
’’اس دیکھ بھال کے کام کی وجہ سے شہریوں کو عارضی طور پر پریشانی ہوگی لیکن اس کی مدد سے زیادہ طویل عرصہ تک بہتر طور پر پانی سپلائی کرنے میں مدد ملے گی جس سے عوام کیلئے زیادہ وقفہ تک راحت رہے گی۔‘‘