میندے بچپاڑہ کی آدیواسی خاتون کو طبی سہولیات بروقت نہ مل پانے سےنومولود نے دم توڑدیا ،سماجی تنظیم نےاحتجاج کیا۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 11:43 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
میندے بچپاڑہ کی آدیواسی خاتون کو طبی سہولیات بروقت نہ مل پانے سےنومولود نے دم توڑدیا ،سماجی تنظیم نےاحتجاج کیا۔
تعلقہ کے میندے بیجپاڑہ آدیواسی بستی میں صحت نظام کی مبینہ لاپروائی کے باعث ایک نومولود کی موت کا دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے سرکاری طبی سہولیات کی کارکردگی پر سنگین سوالات قائم کردئیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ۳۲؍ سالہ آدیواسی خاتون سویتا راوتے کو منگل کی شب اچانک درد زہ اٹھا ۔ اہل خانہ نے فوری طور پر محکمہ صحت اور قریبی دابھاڑ پرائمری ہیلتھ سینٹر سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی، تاہم متعدد بار اطلاع دینے کے باوجود نہ تو ایمبولینس فراہم کی گئی اور نہ ہی کوئی طبی ٹیم موقع پر پہنچی۔ علاقے میں خراب سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جس کے باعث خاتون کو بروقت اسپتال منتقل نہیں کیا جا سکا۔مجبوراً خاتون نے گھر پر ہی بچے کو جنم دیا، مگر مناسب طبی دیکھ بھال اور فوری علاج نہ ملنے کے سبب بدھ کی صبح نومولود کی موت واقع ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اس خاتون کو سلام، جو ملک کی ہر بے بس ماں کی آواز بنی‘‘
اس دردناک معاملے نے نہ صرف متاثرہ خاندان کو غمزدہ کر دیا بلکہ پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ سویتا راوتے، جو اینٹ بھٹہ پر مزدوری کرتی ہیں، نے حمل کے دوران بنیادی طبی سہولیات سے بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا۔ الزام ہے کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران ان کا ایک مرتبہ بھی سونوگرافی نہیں کیا گیا۔ حالانکہ ان کے پاس اپنا آدھار کارڈ موجود تھا، لیکن ان کے شوہر کے پاس آدھار کارڈ نہ ہونے کو بنیاد بنا کر محکمہ صحت نے انہیں لازمی طبی جانچ سے محروم رکھا، جو کہ نہایت افسوسناک اور غیر انسانی رویہ قرار دیا جا رہا ہے۔
واقعہ کے بعد بھومی پُتر ایلگار سنگٹھن کے کارکنان دابھاڑ پرائمری ہیلتھ سینٹر پہنچے اور ذمہ دار افسران سے سخت جواب طلب کیا۔ سنگٹھن کے صدر پرمود پوار نے اس سانحہ کو “نظام کی ناکامی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک نومولود کی موت نہیں بلکہ انتظامی بے حسی کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’۱۵؍ دنوں میں پانی کے مسئلے پر وہائٹ پیپر جاری کیا جائے‘‘
انہوں نے اس معاملے میں زور دے کر کہا کہ غریب آدیواسی خاندانوں کو شناختی دستاویزات کی بنیاد پر طبی سہولتوں سے محروم رکھنا ایک سنگین ناانصافی ہے۔سنگٹھن نے واضح کیا ہے کہ جب تک اس معاملے میں لاپروائی کے مرتکب تمام متعلقہ افسران اور عملہ کے خلاف غیر ارادی قتل کا مقدمہ درج نہیں کیا جاتا، تب تک ان کی تحریک جاری رہے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ دور دراز آدیواسی علاقوں میں فوری طور پر ایمبولینس سروس، سڑکوں کی بہتری اور بنیادی طبی سہولیات کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔