Updated: April 24, 2026, 12:31 PM IST
| Mumbai
انہوں نے واضح کیا کہ اس ملاقات میں قانون ساز کونسل کے انتخابات پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، مگر کانگریس کا مؤقف پہلے ہی واضح ہے کہ راجیہ سبھا کا انتخاب کانگریس کو لڑنا چاہئے اور ادھو ٹھاکرے مہاوکاس اگھاڑی کا اہم چہرہ ہونے کے ناطے قانون ساز کونسل کیلئے موزوں امیدوار ہو سکتے ہیں۔
ادھو ٹھاکرے۔ تصویر: آئی این این
کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے جمعرات کو شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے سے ان کی رہائش ‘ماتو شری’ پر ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ریاست کی بدلتی سیاسی صورتحال، اپوزیشن کی حکمت عملی اور آئندہ چیلنج پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس کے بعد سپکال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ادھو ٹھاکرے کے ساتھ موجودہ سیاسی حالات پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور مہاوکاس اگھاڑی کے تینوں اتحادی پارٹیوں کے درمیان بہتر تال میل برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: نومولود کی موت کا معاملہ، غیر ارادی قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ
انہوں نے واضح کیا کہ اس ملاقات میں قانون ساز کونسل کے انتخابات پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، مگر کانگریس کا مؤقف پہلے ہی واضح ہے کہ راجیہ سبھا کا انتخاب کانگریس کو لڑنا چاہئے اور ادھو ٹھاکرے مہاوکاس اگھاڑی کا اہم چہرہ ہونے کے ناطے قانون ساز کونسل کیلئے موزوں امیدوار ہو سکتے ہیں۔ہرش وردھن سپکال نے ورلی میں بی جے پی کے احتجاجی مارچ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس مظاہرے کے باعث علاقے میں شدید ٹریفک جام پیدا ہوا، لیکن کارروائی صرف منتظمین تک محدود رکھی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس مارچ میں شریک وزراء کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی اور مطالبہ کیا کہ قانون سب کیلئے یکساں ہونا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اس خاتون کو سلام، جو ملک کی ہر بے بس ماں کی آواز بنی‘‘
یاد رہے کہ اس سے قبل کانگریس کے سینئر لیڈر وجے وڈیٹیوار میڈیا کے سامنے بیان دے چکے ہیں کہ ادھو ٹھاکرے اگر دوبارہ ودھان پریشد کا الیکشن لڑنا چاہتے ہیںتو کانگریس ان کا خیرمقدم کرے گی۔ جبکہ این سی پی (شرد) کی کارگزار صدر سپریہ سلے نے بھی کہا ہے کہ ادھو ٹھاکرے کو دوبارہ ودھان پریشد کی رکنیت حاصل کرنی چاہئے۔ ایسی صورت میں قومی امکان ہے کہ شیوسینا سربراہ دوبارہ ایوان میں دکھائی دیں گے۔ یاد رہے کہ ادھو ٹھاکرے نے کبھی الیکشن نہیں لڑا تھا لیکن وزیر اعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے ودھان پریشد ا لیکشن کے ذریعے ایوان کی رکنیت حاصل کی تھی۔ ان کی میعاد اسی سال ۱۲؍ مئی کو ختم ہو رہی ہے۔