کریٹ سومیا کے دورے کے بعد کے ڈی ایم سی نے پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ کا اجراء معطل کردیا تھا۔شیوسینا (ادھو) کے وفد نے کمشنر سےملاقات کی تھی
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 12:28 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
کریٹ سومیا کے دورے کے بعد کے ڈی ایم سی نے پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ کا اجراء معطل کردیا تھا۔شیوسینا (ادھو) کے وفد نے کمشنر سےملاقات کی تھی
کلیان (اعجاز عبدالغنی): کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) میں مبینہ جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ گھوٹالے کے انکشاف کے بعد گزشتہ کئی ہفتوں سے پیدائش اور موت کے نئے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا عمل معطل تھا جس کے باعث ہزاروں طلبہ اور والدین شدید مشکلات سے دوچار تھے۔ خصوصاً تعلیمی اداروں میں داخلوں کے موسم کے دوران ضروری دستاویزات کی عدم دستیابی نے شہریوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔واضح رہے کہ مئی کے مہینے میں بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے کے ڈی ایم سی کا دورہ کرتے ہوئے مبینہ جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ گھوٹالے کو منظر عام پر لایا تھا جس کے بعد میونسپل کمشنر نے معاملے کی تحقیقات کے لئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے کر پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ کے اجراءپر عارضی پابندی عائد کر دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: چلتی لوکل ٹرین میں نوجوان کےقتل کا ملزم۳۰؍ جون تک پولیس تحویل میں
گزشتہ کئی دنوں سے پیدائشی اور موت کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا عمل متاثر ہونے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔بالخصوص اسکولوں اور کالجوں میں داخلوں کے جاری عمل کے دوران ضروری دستاویزات نہ ملنے سے طلبہ اور سرپرستوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ جبکہ اس مسئلے پر عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا تھا۔اس سلسلے میں سابق کارپوریٹر سچن باسرے نے بتایا کہ گزشتہ ۲۹ ؍مئی کو بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے میونسپل کمشنر ابھینو گوئل سے ملاقات کرکے الزام عائد کیا تھا کہ کارپوریشن کے محکمہ پیدائش و موت کی جانب سے جاری کئے گئے تقریباً ۲؍ ہزار سرٹیفکیٹ فرضی اور بوگس ہیں۔اس سنگین الزام کے بعد میونسپل کمشنر نے مبینہ طور پر ہدایات جاری کرتے ہوئے پیدائش اور موت کے ریکارڈ میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تصحیح پر روک لگا دی تھی۔ان احکامات کے نتیجے میں متعلقہ محکمہ میں سرٹیفکیٹ کی تصدیق اور اندراج کا پورا عمل تقریباً مفلوج ہو کر رہ گیا۔ چونکہ یہ تعلیمی اداروں میں داخلوں کا اہم مرحلہ ہے۔ اس لئے ہزاروں طلبہ کو مطلوبہ دستاویزات بروقت نہ ملنے کے باعث ان کے تعلیمی مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا تھا۔سچن باسرے کے مطابق عوام کو درپیش مشکلات اور بڑھتی ہوئی بے چینی کے پیش نظر شیوسینا (ادھو) کے ایک وفد نے میونسپل کمشنر ابھینو گوئل سے ملاقات کرکے انہیں صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا عمل فوری طور پر بحال کیا جائے۔انہوں نے مزید بتایا کہ وفد کی نمائندگی کے بعد میونسپل کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ اب پیدائشی اور موت کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں کوئی قانونی یا انتظامی رکاوٹ باقی نہیں رہی ہے اور متعلقہ عمل معمول کے مطابق جاری رکھا جا سکتا ہے۔