سکل ہندو سماج کے کارکنان ‘جانچ‘ کرنے اسکول پہنچے، کارروائی کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 10:20 AM IST | Z. A. Khan | Mumbai
سکل ہندو سماج کے کارکنان ‘جانچ‘ کرنے اسکول پہنچے، کارروائی کا مطالبہ۔
بیڑضلع کے امباجوگائی علاقے میں واقع ایک معروف تعلیمی ادارے کی اسکول میں عیسائی مذہب کی تبلیغ کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ یہ الزام سکل ہندو سماج کی طرف سے لگایا گیا ہے۔ اطلاع کے مطابق، سوامی رامانند تیرتھ سرکاری اسپتال کے احاطے میں موجود اس اسکول میں عیسائی مذہب کی تبلیغ ہونے کی شکایت ملنے ’’سکل ہندو سماج‘‘ کے کارکنان نے اسکول پہنچ کر ہنگامہ کیا اور وہاں رکھی چیزوں کی جانچ کی۔ اس دوران ایک الماری پر ’ایس آئی این‘ لکھا ہوا پایا گیا، جس میں مبینہ طور پر مذہبی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔‘‘ تنظیم کے کارکنان کا الزام ہے کہ اس میںجادو ٹونے سے متعلق اشیاء اور کچھ نشہ آور ادویات بھی تھیں۔کارکنان نے الزام لگایا کہ یہ تمام سرگرمیاں اسکول کے بعض اساتذہ اور عملے کی ملی بھگت سے چل رہی ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایک غیر متعلقہ شخص گزشتہ تقریباً ۱۵؍ برس سے ہر اتوار کو اسکول میں آکر عیسائی مذہب کی دعائیہ تقریب کرواتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ریاست میں درجہ ٔ حرارت پھر بڑھنے لگا، شدید گرمی
اس معاملے پر اعتراض کرتے ہوئےسکل ہندو سماج نے کہا کہ تعلیمی ادارے علم کا مرکز ہوتے ہیں، وہاں اس طرح کی مذہبی سرگرمیوں کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟اسکے بعد کارکنان نے ادارے کے دفتر جا کر ذمہ داران سے وضاحت طلب کی۔سکل ہندو سماج کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دو دن کے اندر اندر اس معاملے میں ملوث اساتذہ، عملے اور غیر مجاز شخص کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا جائے، بصورت دیگر ادارے کے سامنے شدید احتجاج کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں سب ڈیویژنل آفیسر ( ایس ڈی او)، تحصیلدار اور گروپ ایجوکیشن آفیسر کو بھی تحریری شکایت پیش کی گئی ہے۔دوسری جانب، تعلیمی ادارے کے صدر نے وضاحت کی کہ کوئی بھی تعلیمی ادارہ مذہب کی تبلیغ کا مقام نہیں ہوتا۔ اگر اسکول میں اس نوعیت کی کوئی سرگرمی ہوئی ہے تو اس کی فوری جانچ کی جائے گی اور قصورواروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔