• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدنپورہ کے پہلے مہیلابچت گٹ کی سرگرمیاں اور فیض یاب ہونے والی خواتین خود اس کا تعارف ہیں!

Updated: September 10, 2026, 10:53 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

۲۰۲۰ء میں شروع ہونےوالا سپر ۲۰؍ مہیلا بچت گٹ کامیابی کی جانب گامزن ہے۔ ایسے ادارے محض خود کفیل نہیں بناتے، اعتماد بھی جگاتے ہیں اور دوسروں کی مدد کا جذبہ بیدار کرتے ہیں۔

An exhibition is organized every year in December at Jhoola Maidan by the Area Level Federation. Photo: INN
رئیس ایریا لیول فیڈریشن کے ذریعے ہر سال دسمبر میں جھولا میدان میں نمائش کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این

مدنپورہ کی متوسط اور پسماندہ طبقےکی باہنر، باہمت اور باحوصلہ خواتین میں اُمید، خوداعتمادی اور خودکفیل بننےکی خواہش پید اکرنےکیلئے ۲۰۲۰ءمیں پہلی مرتبہ مہیلابچت گٹ اسکیم کے طرز پر رئیس ایریا لیول فیڈریشن ( آر اے ایل ایف) کا قیام عمل میں آیاتھا۔ اس کامقصد خواتین کو صرف ایک تنظیم سے جوڑنا نہیں بلکہ ان کے اندر چھپے ہنر، صلاحیت اور قابلیت کو ذریعہ بنا کر انہیں عزت کیساتھ روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مولانا آزاد اُردو ہائی اسکول ۱۹۷۵ء میں قائم کیا گیا تھا

آر اے ایل ایف سے آج ایسی سیکڑوں خواتین وابستہ ہیں، جو پڑھی لکھی ہیں، کچھ معاشی طور پر پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتی ہیں، متعدد خوشحال زندگی گزار رہی ہیں، اور بیشتر ایسی ہیں جو بے پناہ ہنر اور صلاحیتوں کی مالک ہیں، لیکن ان کےپاس اپنے ہنر سے عوام کو متعارف کرانے کا ذریعہ نہیں ہے ۔ آر اے ایل ایف نے ایسی خواتین کو ایک ایساپلیٹ فارم دیاہے۔ ابتداء میں یہاں کی خواتین مہیلا بچت گٹ کے تصور اور اس کے فوائد سے آگاہ نہیں تھیں۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے،جواس وقت وہاںکے کارپوریٹر تھے، نے ان خواتین کو مہیلا بچت گٹ کی معلومات فراہم کیںاور اس سے منسلک ہونےکی ترغیب دی۔ یہاں سے اس مہم کا آغاز ہوا ۔ ۲۰۲۰ء میں پہلاممکنہ مہیلا بچت گٹ قائم ہوا، جو سپر ۲۰؍ مہیلا بچت گٹ سےمنسوب تھا۔ ابتداء میں چند بہنیں گروپ میں شامل تھیں۔ یہ سفر آسان نہیں تھا، کیونکہ سب سے زیادہ وقت خواتین کو سمجھانے، اعتماد میں لینے اور انہیں بچت گٹ  سے آگاہ کرنے میں لگالیکن مسلسل محنت، صبر اور کوشش کا خوشگوار نتیجہ برآمد ہوا۔ آج اس ادارہ سے تقریباً ۱۲۰؍خواتین وابستہ ہیں۔

اس تنظیم کو مضبوط بنانے، اسے منظم انداز میں آگے بڑھانے اور اس کی ذمہ داریوں کو نبھانے میں مدنپورہ کےموجودہ میونسپل کارپوریٹر وقار خان کا بھی بھرپور تعاون رہا۔   پہلے مرحلہ میںمختلف سرکاری اسکیموں اور سماجی پروگراموں کے ذریعے گروپ کی خواتین اور ضرورت مند افراد تک فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ گروپ کی خواتین نے سب سے پہلے یوم آزادی پر اپنے ہاتھوں سے کپڑے کے ترنگے تیار کئے ۔تیار شدہ پرچم مختلف دکانوں اور اداروں کو سپلائی کئے گئے۔ خواتین کی یہ کوشش صرف کاروبار نہیں بلکہ اس بات کی ضمانت تھی کہ اگر موقع اور رہنمائی ملے تو وہ اپنے ہنر کے ذریعے معاشی طور پر خود کفیل بن سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:مسلسل تیسرے روز شیئر بازار میں گراوٹ، سینسیکس ۸۱۳؍ پوائنٹس پھسلا

اتناہی نہیں آر اے ایل ایف نےباہنرخواتین کے تیارکردہ کروشیا، مصنوعی زیورات،زردوزی ، موم بتی، سلائی پینٹنگز، پائپ فلاور، تزئین کاری اور دستکاری کےفنی نمونوں کےعلاوہ چاکلیٹس ،بیکنگ اور گھریلو پکوان کو صارفین تک پہنچانے کیلئے مختلف وارڈوں اور سرکاری سطح پر منعقد ہونے والی نمائشوں میں پیش کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ جس سے متعدد خواتین اپنی محنت اور ہنر کے ذریعے منافع کمارہی ہیں۔  اس کےعلاوہ سنجے گاندھی نرادھار یوجناکے تحت ضرورت مند خواتین اور ساوتری بائی پھلے بال سنگوپن یوجنا کے تحت یتیم اور معذور بچوں کو مالی تعاون پہنچانے کی کوشش جاری ہے ۔ اسی طرح معذور افراد کیلئے بی ایم سی اور دیگر متعلقہ اسکیموں کے معرفت ماہانہ امداد اور پنشن سے جوڑنے کا کام بھی کیا جارہاہے۔

آر اے ایل ایف کے ذریعے ہر سال دسمبر میں جھولا میدان اگری پاڑہ میں عظیم الشان نمائش کا انعقاد کیا جاتا ہے۔جس میں مہیلا بچت گٹ کی خواتین کے علاوہ معذور وں، بیوہ خواتین اور نابینا افراد کے علاوہ با ہنر ضرورت مند، بہنوں کو مفت میں اسٹال فراہم کئے جاتے ہیں ۔اس کا مقصد ان لوگوں کو پلیٹ فارم فراہم کرناہے جو وسائل نہ ہونے سے اپنے ہنر کامظاہرہ نہیں کر پاتے ہیں۔ اس موقع پر مقامی اچیورز کی عزت افزائی بھی کی جاتی ہے۔ قلیل عرصہ میں آراے ایل ایف کی کامیابی کااندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ گروپ کی بہن آفرین خان اور ادارہ کی صدر عائشہ عقیل انصاری کو مختلف سماجی اداروں کی جانب سے قومی سطح کے ایوارڈ سے دہلی میں نوازا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:عازمین حج ۲۰۲۷ء ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے تعلق سے غیرمصدقہ لنکس سے محتاط رہیں

ناگپاڑہ کی آفرین خان نے مہیلابچت گٹ کےتعلق سےکہاکہ ’’ میرے کروشیا ورک سے تیار کردہ مصنوعات کی نمائش کیلئےمجھے دہلی اور پونےکادورہ کرنےکا موقع ملا۔ جہاں میرے کام کو بے حد پسند کیاگیااور مجھے سراہاگیا۔ آر اے ایل ایف سے جڑنے کے بعد میرے ہنر کوایک نئی شناخت ملی ہے،جومیرے نزدیک بڑی کامیابی ہے۔‘‘ 

مدنپورہ کی شاہین انصاری کےبقول’’میں زردوزی کا کام کرتی ہوں۔آر اےایل ایف کےمعرفت مجھے اپنے ہنرکو عوام تک پہنچانےمیں جو مددملی ہے ،اسے فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ شہر ومضافات کےمتعدد نمائش میں اپنے ہنر کو پیش کرنےکیلئے یہ ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔‘‘ مورلینڈروڈ کی ناہید جمال شیخ کےمطابق ’’میں چاکلیٹ سے خوبصورت گلدستے بناتی ہوں۔ مہیلا بچت گٹ سے جڑنے کے بعد مجھےمتعدد آرڈرز ملنے لگے ہیں،جو میرے روزگار کا ذریعہ بن گیا ہے۔‘‘قصہ مختصر، یہ ہے مہیلا بچت گٹ جسے مدنپورہ کیلئے باعث افتخار کہا جائے تو غلط نہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK