• Sat, 24 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افغانستان میں شدید سردی کی لہر؛ ۲ لاکھ ۷۰ ہزار بچے صحت سے جڑے سنگین خطرات سے دوچار: یونیسیف

Updated: January 24, 2026, 10:08 PM IST | New York/Kabul

یونیسیف نے خبردار کیا کہ طویل عرصے تک سرد اور مرطوب ماحول میں رہنے سے بچوں کو سانس کے انفیکشن، ہائپوتھرمیا اور دیگر بیماریاں ہوسکتی ہیں۔ عارضی پناہ گاہوں میں رہنے والے بچے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بچوں کیلئے سرگرم، اقوامِ متحدہ کی ایجنسی یونیسیف نے افغانستان میں شدید سردی کے باعث لاکھوں بچوں کی صحت کو لاحق سنگین خطرات کے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔ جمعرات کے دن ایک پریس بریفننگ میں ایجنسی نے بتایا کہ افغانستان اس وقت موسمِ سرما کے انتہائی سخت حالات کی زد میں ہے، پورے ملک میں شدید سردی کی لہر کے باعث تقریباً ۲ لاکھ ۷۰ ہزار بچے جان لیوا بیماریوں سے منسلک ”سنگین“ خطرات کا سامنا کررہے ہی۔

یونیسیف نے اپنے بیان میں کہا کہ طویل عرصے سے جاری سرد لہر، بھاری برف باری اور جما دینے والے درجہ حرارت نے پہلے سے ہی نازک انسانی صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے، اس کی وجہ سے خاص طور پر ان خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے جو مشرقی افغانستان میں گزشتہ سال کے زلزلے کے بعد اب بھی سنبھلنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں ۲ لاکھ ۳۰ ہزار سے زائد خواتین اور لڑکیاں طبی سہولیات سے محروم: اقوامِ متحدہ کا انتباہ

یونیسیف نے خبردار کیا کہ جو بچے طویل عرصے تک سرد اور مرطوب ماحول کا شکار رہتے ہیں، ان میں سانس کے شدید انفیکشن، ہائپوتھرمیا (جسمانی درجہ حرارت میں خطرناک حد تک کمی) اور دیگر قابلِ علاج بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ادارے نے زور دیا کہ عارضی بستیوں اور عارضی پناہ گاہوں میں رہنے والے بچے سخت موسم سے محدود بچاؤ اور صفائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ ”عارضی بستیوں میں رہنے والے بچے خاص طور پر بارش، برف اور ناقص صفائی کے حالات کا شکار ہیں۔“ ایجنسی کے مطابق، یہ حالات بیماریوں کے تیزی سے پھیلنے کیلئے سازگار ماحول پیدا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان : شدید برف باری، معمولات متاثر

شدید سردی کے باعث ۱۱ اموات: افغان حکام

دریں اثنا، ملک کے کچھ حصوں میں شدید موسم پہلے ہی جان لیوا ثابت ہو چکا ہے۔ افغان حکام نے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ دو دنوں میں متعدد صوبوں میں بھاری برف باری اور بارش کے باعث کم از کم ۱۱ افراد جاں بحق اور تین دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ شدید موسم نے مشرقی صوبوں پروان اور وردک، جنوبی قندھار، شمالی جوزجان اور فاریاب سمیت وسطی افغانستان کے صوبے بامیان کے رہائشیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

قومی محکمہ موسمیات نے انتباہ جاری کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک کے کئی حصوں میں بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جس کی وجہ سے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں صورتحال کے مزید خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ ان علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال اور امدادی خدمات تک رسائی محدود ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: خیبر پختونخوا میں شادی کی تقریب پر خودکش حملہ، ۷؍ جاں بحق، ۲۵؍ زخمی

یونیسیف نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی ضروریات اور سنگین حالات کے پیش نظر، برطانیہ نے افغانستان میں بچوں کی غذائیت کو بہتر بنانے کی کوششوں کیلئے ۸ ملین پاؤنڈ (تقریباً ۸ء۱۰ ملین ڈالر) عطیہ کئے ہیں۔ افغانستان میں خوراک، ایندھن اور طبی امداد کی کمی کے باعث غذائی قلت ایک بڑے خطرے کے طور پر موجود ہے۔ یونیسیف نے سردی سے بچاؤ کی امداد، صحت کی خدمات اور مناسب پناہ گاہوں کے ذریعے بچوں کی حفاظت کیلئے فوری توجہ دینے پر زور دیا اور خبردار کیا کہ شدید سردی اور انسانی بحران کا یہ امتزاج بچوں کی بقا اور بہبود پر طویل مدتی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK