Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود عالمی سطح پر افریقی نوجوان ذہنی طور پر سب سے زیادہ مستحکم: رپورٹ

Updated: March 01, 2026, 12:07 PM IST | Washington

اس تحقیق میں دنیا بھر میں نوجوانوں کی ذہنی صحت کے رجحانات پر اثر انداز ہونے والے چار بڑے عوامل کی نشان دہی کی گئی ہے، ان میں کمزور ہوتے خاندانی تعلقات، روحانیت میں کمی، اسمارٹ فون کا کم عمری سے اور زیادہ استعمال اور الٹرا پروسیسڈ (انتہائی مصنوعی) غذاؤں کا بڑھتا ہوا استعمال شامل ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

عالمی سطح پر منعقد کی گئی ایک حالیہ تحقیق نے ذہنی صحت کے بارے میں دیرینہ مفروضوں کو چیلنج کر دیا ہے۔ اس تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کئی افریقی ممالک کے نوجوان، دولت مند اور خوشحال ممالک میں رہنے والے اپنے ہم عمروں کے مقابلے بہتر ذہنی صحت کے حامل ہیں۔

تحقیقی اِدارہ ’سیپیئن لیبز‘ (Sapien Labs) کی `گلوبل مائنڈ ہیلتھ رپورٹ ۲۰۲۵ء` کے مطابق، صحارا ریگستان کے نیچے والے خطے (سب صحارا علاقہ) میں ۱۸ سے ۳۴ سال کی عمر کے افراد نے جذباتی بہبود، لچک اور سماجی کارکردگی کے پیمانے پر برطانیہ، نیوزی لینڈ اور جاپان جیسے خوشحال اور زیادہ آمدنی والے ممالک کے نوجوانوں سے زیادہ اسکور حاصل کیا۔ اس مطالعے میں ’مینٹل ہیلتھ کوشینٹ‘ (ایم ایچ کیو) کے اسکور کا استعمال کیا گیا۔ یہ جذباتی، علمی، سماجی اور لچکدار عوامل کا جائزہ لینے والے والا جامع اشاریہ ہے جو زندگی کے چیلنجوں سے نمٹنے کی انسانی صلاحیت کو تشکیل دیتے ہیں۔ عالمی درجہ بندی میں افریقی ملک گھانا سرفہرست رہا جہاں کے نوجوانوں کا ایم ایچ کیو اسکور ۶۰ سے اوپر تھا۔ اس میدان میں نائجیریا، کینیا، تنزانیہ اور زمبابوے جیسے ممالک کی کارکردگی بھی مضبوط رہی۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی مشمولات انسانوں کے ذہنوں میں غلط یادیں بنارہے ہیں: ماہرین کا انتباہ

محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج دولت اور فلاح و بہبود کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔ تھیراپی، حفظان صحت اور ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کے پروگراموں تک زیادہ رسائی کے باوجود، خوشحال ممالک میں نوجوانوں کی ذہنی صحت میں مسلسل گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ ایم ایچ کیو اسکور کا عالمی اوسط ۶۶ رہا جو ترقی یافتہ معیشتوں میں نوجوان نسل کے حوالے سے جمود اور بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔

امیر ممالک کے برعکس، بہت سے افریقی ممالک کے نوجوانوں، جو معاشی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، نے زیادہ لچک کا مظاہرہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق، قریبی خاندانی تعلقات، کمیونٹی روابط اور ثقافتی روایات جیسے سماجی ڈھانچے، محض مالی وسائل کے مقابلے میں تحفظ فراہم کرنے میں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس تحقیق میں دنیا بھر میں نوجوانوں کی ذہنی صحت کے رجحانات پر اثر انداز ہونے والے چار بڑے عوامل کی نشان دہی کی گئی ہے، ان میں کمزور ہوتے خاندانی تعلقات، روحانیت میں کمی، اسمارٹ فون کا کم عمری سے اور زیادہ استعمال اور الٹرا پروسیسڈ (انتہائی مصنوعی) غذاؤں کا بڑھتا ہوا استعمال شامل ہیں۔ محققین نے نوٹ کیا کہ طرزِ زندگی اور سماجی ڈھانچے میں یہ تبدیلیاں خاص طور پر امیر معاشروں میں زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں کیونکہ خوشحال ممالک میں ڈجیٹل دنیا سے رابطہ کم عمری سے ہی قائم ہو جاتا ہے اور روزمرہ کے معمولات زیادہ انفرادی ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: چیٹ جی پی ٹی صحت سے جڑے سنگین معاملات میں ہنگامی حوالہ جات سے محروم ہے؛ احتیاط کرنا ضروری: تحقیق

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج، عالمی سطح پر ذہنی صحت کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پالیسی سازوں کو محض طبی خدمات یا معاشی ترقی پر انحصار کرنے کے بجائے، نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے کمیونٹی کے باہمی تعلق، صحت مند طرزِ زندگی اور ڈجیٹل توازن کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK