• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستانی آئی ٹی سیکٹر پر اے آئی کا وار: ۴۷؍ ارب ڈالر کا صفایا

Updated: February 26, 2026, 9:09 PM IST | New Delhi

عالمی سطح پر ابھرتی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجیز کے باعث ہندوستان کی سافٹ ویئر سروسیز انڈسٹری شدید دباؤ میں آ گئی ہے۔ صرف چند ہفتوں میں اسٹاک مارکیٹ سے تقریباً ۴۷؍ ارب ڈالر کا صفایا ہوگیا ہے جبکہ بڑے آئی ٹی اسٹاکس میں دوہرے ہندسوں کی گراوٹ دیکھی گئی۔ سوال یہ ہے: کیا یہ عارضی جھٹکا ہے یا ایک ساختی تبدیلی کا آغاز؟

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان کی سافٹ ویئر سروسیز صنعت، جو دہائیوں سے عالمی آؤٹ سورسنگ کا ستون رہی ہے، حالیہ ہفتوں میں اسٹاک مارکیٹ میں شدید دباؤ کا شکار ہوئی۔ رائٹرز کے مطابق، صرف فروری میں ہندوستانی آئی ٹی سیکٹر کے تقریباً ۴۷؍ ارب ڈالر کافور ہوگئے۔ بروکریج فرم جیفریز کی ایک بیئرش رپورٹ نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا، جس میں خبردار کیا گیا کہ چھ بڑی کمپنیاں انفوسس، ٹی سی ایس، ایچ سی ایل، ایل ٹی آئی مائنڈ مری، ام فیسیس اور ہیکسا ویر ٹیکنالوجیز ، اے آئی کی تیز رفتار ترقی سے شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کے حصص ۳۳؍ فیصد تک گر سکتے ہیں۔
گزشتہ ایک ماہ میں میں ٹی سی ایس کے حصص ۳؍ ہزار ۲۲۰؍ روپے سے گر کر ۲؍ ہزار ۵۸۱؍ روپے پر آ گئے۔ انفوسس کے حصص میں ۹۲ء۲۳؍ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کو امریکہ میں اب ۱۲۶؍ فیصد ڈیوٹی کا جھٹکا

کیا اے آئی آؤٹ سورسنگ ماڈل کو بدل دے گا؟
خوف یہ ہے کہ جو کام پہلے ہزاروں انجینئروں کی ٹیمیں ہفتوں میں مکمل کرتی تھیں، وہ اب اے آئی ٹولز چند منٹوں میں انجام دے سکتے ہیں۔ انفوسس کے شریک بانی نندن نیل کنی نے اس بحران کو ’’بڑا موقع‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’بنیادی طور پر، یہ ہمارے لیے اچھا ہے کیونکہ ان کے لیے اسے کون بنائے گا؟‘‘ ان کے مطابق، کمپنیوں کو مہارتوں اور کاروباری ماڈلز میں بنیادی تبدیلی لانی ہوگی۔
دوسری طرف، اینتھروپک کے سی ای ا داریو اموڈی خبردار کرتے ہیں کہ ’’ہم اس وقت سے چھ سے ۱۲؍ مہینے دور ہو سکتے ہیں جب ماڈل زیادہ تر کام کر رہا ہو، شاید وہ سب کچھ جو ایک سافٹ ویئر انجینئر کرتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ پر ٹیرف سے وصول کی گئی رقم واپس کرنے کا دباؤ

عالمی سطح پر بھی بحران
یہ بحران صرف ہندوستان تک محدود نہیں۔ سیلیس فورس کے حصص تقریباً ۱۸؍ فیصد گر گئے۔ پے پال اور تھامسن نے بھی نمایاں گراوٹ دیکھی۔یہاں تک کہ آئی بی ایم بھی دباؤ کا شکار ہے۔ 

انڈسٹری میں تنظیمِ نو کا رجحان
ماہرین کے مطابق، اب آئی ٹی کمپنیاں بڑے پیمانے پر اسٹارٹ اپس خرید رہی ہیں، ملازمتوں میں کٹوتی کر رہی ہیں اور اے آئی پر مبنی پلیٹ فارم ماڈلز کی طرف بڑھ رہی ہیں۔مثال کے طور پر اسینچر نے ۲۰۲۴ء میں ۳۹؍ اور ۲۰۲۵ء میں تقریباً ۲۴؍ کمپنیوں کا حصول کیا اور ہزاروں ملازمین کو برخاست کیا گیا۔ 
Anthropic نے بنگلور میں دفتر کھولا اور انفوسس سمیت کئی ہندوستانی کمپنیوں سے شراکت داری کی ہے۔ ہندوستان اب اس کے عالمی کاروبار کا تقریباً ھ فیصد حصہ بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عوامی اثاثوں کی مونیٹائزیشن سے ۷۲ء۱۶؍ لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کا ہدف

ملازمتوں کا مستقبل: تباہی یا تخلیق؟
اگرچہ معمول کے اور بار بار کیے جانے والے کام متاثر ہوں گے، تاریخ بتاتی ہے کہ ہر بڑی ٹیکنالوجیکل تبدیلی نئی ملازمتیں بھی پیدا کرتی ہے۔ متوقع نئے شعبے: اے آئی گورننس اور سیفٹی، سسٹم انٹیگریشن، ڈیٹا ویریفیکیشن اور انسانی فیصلے پر مبنی رولز۔

کیا یہ عارضی اصلاح ہے یا ساختی انقلاب؟
سوال یہ نہیں کہ اے آئی آئے گا یا نہیں، بلکہ یہ کہ کمپنیاں کتنی تیزی سے خود کو ڈھال سکتی ہیں۔شواہد اشارہ کرتے ہیں کہ سافٹ ویئر سروسیز انڈسٹری دہائیوں کے سب سے بڑے تکنیکی انفلیکشن پوائنٹ سے گزر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK