اس منصوبے کے تئیں عوام میں کافی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ اب تک تقریباً ۱۲ ہزار افراد جزیرے کے ڈجیٹل ”ای-رہائشی“ بننے کیلئے درخواست دے چکے ہیں۔ تھامسن کے مطابق، اس دلچسپی کی وجہ ممکنہ طور پر موجودہ حکومتوں سے وسیع پیمانے پر پائی جانے والی مایوسی ہے۔
EPAPER
Updated: May 20, 2026, 10:10 PM IST | Manila
اس منصوبے کے تئیں عوام میں کافی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ اب تک تقریباً ۱۲ ہزار افراد جزیرے کے ڈجیٹل ”ای-رہائشی“ بننے کیلئے درخواست دے چکے ہیں۔ تھامسن کے مطابق، اس دلچسپی کی وجہ ممکنہ طور پر موجودہ حکومتوں سے وسیع پیمانے پر پائی جانے والی مایوسی ہے۔
ٹیکنالوجی کےشعبے کی ایک کاروباری شخصیت نے فلپائن کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے زیرِ انتظام ایک ’مائیکرونیشن‘ (چھوٹی خود مختار ریاست) قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس مائیکرونیشن کی ورچوئل کابینہ تاریخی لیڈران کے اے آئی خاکوں پر مشتمل ہوگی۔ ان لیڈران میں مہاتما گاندھی، نیلسن منڈیلا، ونسٹن چرچل، ایلینور روزویلٹ، لیونارڈو دا ونچی اور سن تزو (Sun Tzu) شامل ہیں۔
فلپائن کے صوبہ پالاوان (Palawan) کے جزائر میں واقع ۶ء۳ مربع کلومیٹر کے ’سینسے‘ (Sensay) نامی جزیرے پر یہ منصوبہ پلان کیا جا رہا ہے۔ اس جزیرے کے مالک ڈین تھامسن ہیں، جو ایک اے آئی چیٹ بوٹ کمپنی کے بانی ہیں۔ تھامسن ایک ایسا مائیکرونیشن قائم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں جس کا انتظام اے آئی پر مبنی ۱۷ خاکوں پر مشتمل کونسل سنبھالے گی جنہیں منتخبہ تاریخی شخصیات کے انداز میں سوچنے، بحث کرنے اور فیصلے کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ منصوبے کی تفصیلات کے مطابق، یہ اے آئی کونسل تجاویز پر غور کرے گی، ورچوئل ووٹنگ کرائے گی اور آخر کار حقیقی دنیا کے انتظامی و مالیاتی امور کی نگرانی کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ اے آئی بل: حکومت کواے آئی نظام بند کرنے کے نئے اختیارات دینے پر غور
فی الحال، یہ جزیرہ اے آئی سسٹم کے فیصلوں پر عمل درآمد کیلئے انسانی ثالثوں پر انحصار کرتا ہے۔ تاہم، تھامسن کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں اس اے آئی گورننس کے ڈھانچے کو آزاد بینکنگ کارڈز اور کریپٹو کرنسی والٹس سے جوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس سے یہ سسٹم خود مختار طور پر ملازمین کی خدمات حاصل کرنے، ادائیگیاں کرنے اور وسائل کا انتظام کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
سی این این (CNN) سے اس منصوبے سے جڑے خطرات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے، تھامسن نے غیر متوقع نتائج کے امکان کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”اگر یہ ہتھیار حاصل کرنا اور پڑوسی جزائر پر حملہ کرنا شروع کر دے، تو یہ ایک بری صورتحال ہوگی۔“ اگرچہ انہوں نے ایسے نتیجے کو ”انتہائی غیر متوقع“ قرار دیا۔ ممکنہ غلط استعمال یا کنٹرول کھو دینے سے بچنے کیلئے، منصوبے میں ”ہیومن اوور رائیڈ اسمبلی“ (Human Override Assembly) شامل کی گئی ہے، جس کا مقصد اے آئی سسٹم کے خطرناک یا غیر مستحکم ہونے کی صورت میں مداخلت کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گزشتہ سال اوپن اے آئی کے ۶۰۰؍ سے زائد ملازمین ایک دن میں کروڑ پتی بنے: رپورٹ
ابھی تجرباتی مرحلے میں ہونے کے باوجود، اس منصوبے کے تئیں عوام میں کافی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ تھامسن نے بتایا کہ اب تک تقریباً ۱۲ ہزار افراد جزیرے کے ڈجیٹل ”ای-رہائشی“ (e-residents) بننے کیلئے درخواست دے چکے ہیں۔ منصوبے کے مطابق، ای-رہائشیوں کو ایک ڈجیٹل شناختی کارڈ ملے گا جو انہیں مائیکرونیشن سے منسلک آن لائن گورننس اور خدمات تک رسائی فراہم کرے گا۔
تھامسن نے بتایا کہ اس دلچسپی کی وجہ ممکنہ طور پر موجودہ حکومتوں سے وسیع پیمانے پر پائی جانے والی مایوسی ہے۔ منصوبے کی کمیونیکیشن ایڈوائزر ایملی کیوگ کا خیال ہے کہ ایسا اس لئے ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کو اپنی حکومتوں پر بہت کم بھروسہ ہے۔ اس وقت جزیرے پر صرف ایک شخص رہائش پذیر ہے، جو وہاں باغبانی کے فرائض انجام دے رہا ہے۔ اس کی شناخت ”مائیک“ کے نام سے ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس سائنسداں مایوپیا سے نمٹنے کیلئے انسانوں کے ’’ڈجیٹل ٹوینس‘‘ تیار کررہے ہیں
کمپنی اس منصوبے کے تحت جزیرے پر تقریباً ۳۰ ولاز (villas) تعمیر کرنا اور اسے پالاوان کا سفر کرنے والے سیاحوں کیلئے ایک سیاحتی مقام کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ سینسے کی ویب سائٹ کے مطابق، مکمل ای-ریزیڈنسی پروگرام کا باضابطہ آغاز ۲۰۲۷ء میں متوقع ہے۔ اس منصوبے نے ماہرین کے درمیان اس امکان پر تشویش بھی پیدا کر دی ہے کہ اے آئی سسٹمز کافی انسانی نگرانی کے بغیر ہائی رسک (بڑے خطرے والے) یا بھاری لاگت والے فیصلے کرسکتے ہیں۔