Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’احتجاج کرنے والے طلبہ کیخلاف تمام کیس واپس لئے جائیں‘‘

Updated: July 25, 2026, 12:40 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

ملّی تنظیموں کا مطالبہ۔ حکومت سے سوال کیا کہ اگر بار بار پیپر لیٖک نہ ہوتا تو طلبہ احتجاج پر کیوں مجبور ہوتے۔

The police action against protesting students and youth is being strongly condemned. (File photo)
احتجاج کرنے والے طلبہ و نوجوانوں پر پولیس کی کارروائی کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔(فائل فوٹو)

پیپر لیٖک کے خلاف طلبہ کے احتجاج اور سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال جسے انہوں نے حکومت کی یقین دہانی کے بعد ختم کردیا ہے نیز طلبہ کے خلاف درج کردہ ایف آئی آر کے تعلق سے ملّی تنظیموں کے ذمہ داران نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے تمام کیس واپس لینے کا مطالبہ کیاہے ساتھ ہی حکمراں محاذ کو گھیرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہ حکومت کی غفلت ہے ورنہ اگر پیپر لیٖک نہ ہوتا تو طلبہ کیوں احتجاج پر مجبور ہوتے۔ 

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ طلبہ مسلسل پر امن احتجاج کررہے ہیں اور ان کے مطالبات ماننے کے بجائے ان پر لاٹھیاں چلائی جارہی ہیں اور آنسو گیس کے گولے داغے جارہے ہیں  پھر یہ کہ ان کے ہی خلاف غیر ضروری طور پر ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ اس لئے طلبہ کے اوپر لگائے گئے تمام کیس اور مقدمات واپس لئے جائیں ورنہ وہ مزید نقصان کا شکار ہوجائیں گے اور آگے کی زندگی ان کے لئے اور دشوار ہوجائے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: طلبہ کے ساتھ یکجہتی کیلئے کالج کےاساتذہ کا سیاہ فیتہ باندھ کراحتجاج

جماعت اسلامی ممبئی کے امیر ہمایوں شیخ نے کہا کہ طلبہ کا پرامن  احتجاج درست ہی نہیں بلکہ یہ ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے ، اس پر طاقت کا استعمال اور تشدد کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کے ساتھ  ہی ان پر کیس درج کیا جانا یہ تو مزید شرمناک ہے، اسے فوراً واپس لیا جائے اور طلبہ کی بات سن کران کے مطالبات مانے جائیں، وہ تعلیم اور اپنے مستقبل کے لئے سوال کررہے ہیں۔ 

رضااکیڈمی کے سربراہ محمد سعید نوری نے کہا کہ احتجاج کرنا ہر ہندوستانی کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ طلبہ کا احتجاج درست ہے اور ان کے مطالبات جائز ہیں۔ ان کے خلاف طاقت کا استعمال کسی طرح درست نہیں ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ان کے مطالبات پر توجہ دی جائے اور کیس واپس لئے جائیں  اور آئندہ پیپر لیٖک نہ ہوں ، اس کی ضمانت دی جائے۔

یہ بھی پڑھئے: آج کانگریس کا پورے مہاراشٹر میں کینڈل مارچ اور ستیہ گرہ

امام الہند فاؤنڈیشن کے ذمہ دار مولانا نوشاد احمد صدیقی نے کہا کہ طلبہ کے خلاف معاملات   درج کیا جانا ان پر مزید ظلم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر بار بار پیپر لیٖک نہ ہوتا تو طلبہ کیوں احتجاج پر مجبور ہوتے ۔ یہ تو حکومت کی مجرمانہ غفلت ہے جس کی سزا طلبہ کو دی جارہی ہے۔ حکومت فوراً تمام کیس واپس لینے کا اعلان کرے۔

ممبئی امن کمیٹی کے صدر فرید شیخ نے کہا کہ طلبہ کے ساتھ حکومت نے ظلم کی انتہا کردی ہے مگر یہ بھی خوش آئند ہے کہ ہمارے بچے جاگ گئے ہیں اور پورا ملک ان کا درد محسوس کررہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا  ہے کہ ایف آئی آر درج کیا جانا دوہرا ظلم ہے۔ حکومت فوراً تمام کیس واپس لے اور لاٹھی چلانے والے پولیس والوں کے خلاف سخت ایکشن لے، یہ محض ممبئی امن کمیٹی کی نہیں، پورے ملک کے عوام کے دل کی آواز ہے‌۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK