Updated: February 24, 2026, 3:01 PM IST
| New Delhi
اتر پردیش کے شہر پریاگ راج سے تعلق رکھنے والی انجم آرا نے چھتیس گڑھ صوبائی عدالتی خدمات کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے جج کے طور پر تقرری پائی۔ ذاتی صدمے سے شروع ہونے والا ان کا سفر نظم و ضبط، خود تیاری اور خاندانی تعاون کی بدولت کامیابی میں بدل گیا، جس پر شہر بھر میں جشن منایا گیا۔
پریاگ راج سے تعلق رکھنے والی انجم آرا نے بتایا کہ ان کے چچا، جو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج تھے، ان کی زندگی میں سب سے بڑی تحریک تھے۔ ان کے انتقال کے بعد انجم نے عدلیہ میں جانے کا عزم کیا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم جھانسی کے سینٹرل اکیڈمی میں مکمل کی اور بعد ازاں یونیورسٹی آف الہ آباد سے بی اے اور ایل ایل بی کیا۔ ان کے مطابق لاء فیکلٹی نے انہیں قانون کو سمجھنے اور عملی انداز میں پڑھنے کا سلیقہ سکھایا۔ انجم کے والد شمیم احمد اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں اسسٹنٹ مینیجر ہیں جبکہ والدہ اختری بیگم خاتون خانہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: راجستھان: سابق بی جے پی ایم پی نے مسلم خواتین سے کمبل واپس لیا، تنازع
انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ پانچ سے چھ گھنٹے مکمل توجہ کے ساتھ مطالعہ کرتی تھیں۔ مہنگی کوچنگ کے بجائے انہوں نے خود تیاری کو ترجیح دی۔ مینز امتحان کے لیے انہوں نے جج منٹ رائٹنگ پر خصوصی توجہ دی اور چھتیس گڑھ کی عدالتوں کے فیصلوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا تاکہ قانونی ڈھانچے کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ انجم کو راجستھان اور دہلی کے عدالتی امتحانات میں ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے اسے سیکھنے کا موقع بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ناکامیوں نے انہیں اپنی کمزوریاں سمجھنے اور جوابی تحریر بہتر بنانے میں مدد دی۔ آخرکار ان کی محنت رنگ لائی اور انہوں نے چھتیس گڑھ جوڈیشل سروس میں ریاستی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ پریاگ راج کے باشندوں نے ان کی کامیابی کو شہر کے لیے اعزاز قرار دیا۔ ان کے سابق اساتذہ نے کہا کہ انجم ہمیشہ سنجیدہ اور محنتی طالبہ رہی ہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی اور ناکامی کے باوجود ہمت نہ ہارنے کا مشورہ دیا۔
یہ بھی پڑھئے: کانپور: ۱۰؍ ہزار کلو ایکسپائری کھجور ضبط، تاریخ بدلنے کا الزام
بطور جج تقرری کے بعد انجم کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کو دیانت اور حساسیت کے ساتھ نافذ کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق انصاف صرف قانونی نہیں بلکہ انسانی بھی ہونا چاہیے۔ ان کی کامیابی کو خاص طور پر اقلیتی برادریوں اور نوجوان خواتین کے لیے ایک تحریک قرار دیا جا رہا ہے جو عدلیہ میں کیریئر بنانے کا خواب دیکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تجارتی معاہدہ پر کانگریس نے پھر تنقید کی
طلبہ کے لیے مشورہ
انجم نے عدالتی خدمات کی تیاری کرنے والے طلبہ کو مشورہ دیا کہ قانون کی بنیادی زبان پر مضبوط گرفت حاصل کریں۔ مینز کے لیے باقاعدہ جواب لکھنے کی مشق کریں۔ روزانہ کم از کم پانچ سے چھ گھنٹے مرکوز مطالعہ کریں۔ ناکامی سے گھبرانے کے بجائے اس سے سبق سیکھیں۔ انہوں نے کہا، ’’کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا، مستقل مزاجی اور خود اعتمادی ہی کامیابی کی کنجی ہے۔‘‘