حکومت کی طرف سے چھوٹ نہ دینے کی وجہ سے اسکول بس اسوسی ایشن نے نئے تعلیمی سال سے کرایوںمیں اضافہ کرنے کافیصلہ کیا۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 12:13 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
حکومت کی طرف سے چھوٹ نہ دینے کی وجہ سے اسکول بس اسوسی ایشن نے نئے تعلیمی سال سے کرایوںمیں اضافہ کرنے کافیصلہ کیا۔
ایندھن کی قیمتوں میں متواتر اضافے اور حکومت سے رعایت کی اپیل کے باوجود مثبت جواب نہ ملنے پر اسکول بس اونرز اسوسی ایشن نے نئے تعلیمی سال۲۷۔۲۰۲۶ء سے ممبئی سمیت مہاراشٹر کے دیگر اضلاع میں بس کے کرایوں میں ۱۵؍ فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جس سے لاکھوں والدین پر مالی بوجھ بڑھنے والا ہے۔ ایس بی او اے کے صدر انیل گرگ نے اعلان کیا کہ یہ اضافہ جون ۲۰۲۶ء سے نافذ ہوگا ۔
انیل گرگ نے کہا ہے کہ ’’ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے پس منظر میں ہم نے کئی بار حکومت، محکمہ ٹرانسپورٹ اور متعلقہ ایجنسیوں سے مالی امداد کیلئے درخواستیں کیں لیکن ہمیں کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، ملازمین کی تنخواہوں، دیکھ بھال کے اخراجات، انشورنس، ٹول، اسپیئر پارٹس اور ای چالان کے ذریعے جرمانے کی وجہ سے ان کیلئے بس خدمات فراہم کرنا مشکل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے نئے تعلیمی سال کے آغاز سے بس کے کرایہ میں ۱۵؍فیصد اضافہ کرنا ناگزیر ہے ۔‘‘
انیل گرگ نے انقلاب کوبتایاکہ ’’ہم نہیں چاہتےہیں کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ والدین اورسرپرستوں پر پڑے ،اسی وجہ سے ہم نے حکومت سے رعایت دینے کی اپیل کی تھی لیکن حکومت نے ہماری اپیل کاکوئی جواب نہیں دیا جس کی وجہ سےمجبوراً کرایہ میں ۱۵؍فیصد اضافہ کیاجائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ممبئی کے ہوٹل، ریسٹورینٹ، پب اور بار چلانے والوں پر فائر بریگیڈ کا شکنجہ
اسوسی ایشن کے باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہمیں ۱۵؍ فیصد کرایہ بڑھانے پر مجبور کیا گیا ہے کیونکہ کوئی قابل عمل متبادل نہیں ہے۔ ہوائی نقل و حمل کی طرح روڈ ٹرانسپورٹ میں لاگت میں اضافے کی وجہ سے کرایہ پر نظر ثانی ناگزیر تھی۔ والدین اور اسکولوں کو ہونے والی تکلیف پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسوسی ایشن کی جانب سے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ محفوظ اور قابل اعتماد خدمات کو برقرار رکھنے کی مکمل کوشش کی جائے گی ۔‘‘
واضح رہے کہ اسکول بس کے کرایوں میں اضافہ کی وجہ ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ ڈرائیوراورا سٹاف کی تنخواہوں ، گاڑیوں کی دیکھ بھال، انشورنس ، نئے حفاظتی اصولوں، ای چالان اور لائسنس فیس میں اضافہ ہونے کی وجہ سے بس کرایہ میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔ اس سے ممبئی، پونے، تھانے اور نوی ممبئی سمیت ریاست بھر میں ہزاروں اسکول متاثر ہوں گے۔ والدین کو اوسطاً ۳؍سے ۵؍ ہزار روپے کا اضافی سالانہ خرچ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب والدین کی متعدد تنظیموں نے اسکول بس کے کرایوں میں اضافے کی سخت مخالفت کی ہے اور حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ۔حالانکہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے ابھی تک اس پر باضابطہ جواب نہیں دیا ہے ۔ سابقہ فیصلے کے مطابق کرایہ طے کرنے کا اختیار ریجنل ٹرانسپورٹ اتھاریٹی کو دیئے جانے کاقیاس ہے لیکن ایس بی اواے نے الگ فیصلہ کیا ہے جبکہ والدین کی رائے ہے کہ اسکول فیس، کتابیں، یونیفارم کے علاوہ بس کا کرایہ بڑھ گیا تو تعلیم مزید مہنگی ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: باندرہ غریب نگر کا ملبہ صاف، ریلوے کی زمین اپنی تحویل میں لینےکی کارروائی شروع
مہا پیرنٹس اسوسی ایشن پونے کے ترجمان دلیپ سنگھ وشوکرماکے بقول ’’ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اسکول بس ڈرائیوروں کو مالی طور پر متاثر کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں لیکن ان بس ڈرائیوروں کو یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایندھن کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوا؟ ساتھ ہی ریاستی حکومت کے محکمہ ٹرانسپورٹ کو بھی اسکول بس ڈرائیوروں کیلئے لائسنس فیس، ٹول اور جرمانے کی فیس میں کچھ چھوٹ فراہم کرنی چاہئے تاکہ بس ڈرائیوروں کے مالی نقصان کی کسی حد تک تلافی کی جا سکے ۔‘‘
پونےاسکول بس اونرز اسوسی ایشن کے صدر راجن جونوانے کے مطابق ’’ڈیزل کی قیمت میں تقریباً ۹؍سے ۱۰؍ روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ٹائروں، بیٹریوں اورا سپیئر پارٹس کے نرخوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۲۰؍ سے۲۵ ؍فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ڈرائیورز اور لیڈی اٹینڈنٹ کی تنخواہوں میں بھی ہر سال اضافہ ہو رہا ہے لہٰذا اگرچہ ہم اسکول بس کرایوں میں اضافے نہ کریں تو ہمارے پاس اس بڑھتے ہوئے بوجھ کو والدین پر ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ ہم اس سے کوئی اضافی رقم کمانا یا نرخوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے۔ کرایہ اس حد تک بڑھے گا جس قدر لاگت بڑھنے والی ہے۔‘‘