رواں مہینے میں تیسرا بڑا حادثہ ۔ جس جگہ بس ٹکرائی ،وہاں پہلے بھی ۵؍ بسیں حادثہ سے دوچار ہوچکی ہیں۔زخمی مسافروں کے مطابق حادثہ کے وقت بس کی رفتارکافی تیز تھی۔
EPAPER
Updated: July 21, 2026, 12:38 PM IST | Shahab Ansari | Mankhurd
رواں مہینے میں تیسرا بڑا حادثہ ۔ جس جگہ بس ٹکرائی ،وہاں پہلے بھی ۵؍ بسیں حادثہ سے دوچار ہوچکی ہیں۔زخمی مسافروں کے مطابق حادثہ کے وقت بس کی رفتارکافی تیز تھی۔
یہاں پیر کو بیسٹ کی ویٹ لیز بس سے ایک اورحادثہ ہوا جس میں ایک معمر شخص کی موت ہوگئی اور بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر سمیت ۷؍ افرادزخمی ہوگئے۔ یہ بس صبح کے وقت ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی اور جس شخص کی موت ہوئی ، وہ ڈیوائیڈر کے قریب کھڑا تھا ۔ اس حادثہ میں بس کے مسافر معمولی طورپر زخمی ہوئے ہیں۔
اندوہناک سڑک حادثہ
یہ حادثہ صبح تقریباً سوا ۹؍ بجے پیش آیا۔ حادثہ کے وقت بس نمبر ۵۰۱؍ کرلا بس اسٹیشن مشرق سے ایرولی جارہی تھی اور جب یہ بس سائن- پنویل ہائی وے پر مانخورد میں واقع وشوا کرما اسپتال کے قریب پہنچی تو بریج کے پاس موڑ پر توازن بگڑ جانے سے وہ ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی۔ یہ ٹکر اتنی شدید تھی کہ ڈیوائیڈر کے پاس کھڑے ۶۵؍ سالہ بھاسکر رائو صاحب پانڈے شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر گھاٹکوپر میں واقع راجا واڑی اسپتال پہنچایا گیا جہاں میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ہیرو نے انہیں داخلے سے قبل ہی مردہ قرار دے دیا۔
بھاسکر کے علاوہ بس کا ڈرائیور بنواری سیتا رام پرساد شرما (۵۱) اور کنڈکٹر ویبھو واگھمارے (۴۱) کو بھی زخمی ہونے کی وجہ سے راجا واڑی اسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی حالت بہتر بتائی گئی ہے۔ ڈرائیور نے دعویٰ کیا ہے کہ بس کا بریک فیل ہوجانے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔
دیگر زخمیوں کو گوونڈی کے شتابدی اسپتال لے جایا گیا ہے جن کی شناخت شیو منگل میٹی (۴۲)، گنیش پٹیل (۲۴)، کتاوگھیلا (۴۳)، راجیش وروگمانیا (۳۵) اور انیکتا جادھو (۲۲) کے طور پر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شیواجی پارک: ادھو ٹھاکرے کی سی جے پی کی حمایت میں بنا اجازت ریلی کیخلاف۳؍کیس درج
بیسٹ کمیٹی کی چیئرپرسن نے اسپتال میں زخمیوں سے ملاقات کی
حادثہ کے بعد بیسٹ کمیٹی کی چیئر پرسن ترشنا وشواس رائو نے اسپتال جاکر زخمیوں سے ملاقات کی اور پھر صحافیوں سے گفتگو کے دوران بتایا کہ اسپتال میں زیر علاج مسافروں نے انہیں بتایا ہے کہ ڈرائیور انتہائی تیز رفتاری سے بس چلا رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جس جگہ یہ حادثہ پیش آیا ہے، وہاں پہلے بھی ۵؍ حادثات ہوچکے ہیں اس لئے ڈرائیور کو گاڑی کی رفتار کا خیال رکھنا چاہئے۔‘‘ ان کے مطابق اس تعلق سے تفتیش کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور زخمیوں کی مالی اعانت کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ زخمیوں میں ایک شخص اپنی والدہ کا تنہا سہارا ہے جس کی وجہ سے وہ خاتون بہت رو رہی تھیں اور سخت پریشان تھیں۔ ان حالات میں ان کی مالی اعانت ضروری ہوجاتی ہے۔
ترشنا وشواس رائو کے مطابق یہ بس بیسٹ نے ’ویٹ لیز‘ پر لی تھی جسے ڈرائیور اور کنڈکٹر کے ساتھ مہیشوری کمپنی نے فراہم کیا تھا۔ اس لئے بیسٹ کی چیئر پرسن نے مہیشوری کمپنی کے نمائندوں کو منگل کو میٹنگ کیلئے بلایا ہے جس میں ان سے پوچھا جائے گا کہ ڈرائیوروں کا کیا تربیت دی جاتی ہے اور معاوضہ کے تعلق سے بھی بات کی جائے گی۔
ڈپٹی میئرشتابدی اسپتال پہنچے
ممبئی کے ڈپٹی میئر سنجے گھڑی نے بھی شتابدی اسپتال کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ ایک مریض شدید زخمی ہے لیکن امید ہے وہ صحتمند ہوجائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیسٹ کی چیئرپرسن نے جو میٹنگ بلائی ہے ،اس میں آر ٹی او اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران کو بھی بلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جائے حادثہ پر ’ڈیوائیڈر‘ بنانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن اب تک ڈیوائیڈر بنا نہیں ہے اس لئے کوشش کی جائے گی کہ یہاں جلد از جلد ڈیوائیڈر بنادیا جائے۔
اگرچہ ڈرائیور نے دعویٰ کیا ہے کہ حادثہ بریک فیل ہوجانے کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ تاہم پولیس حادثہ کی صحیح وجہ معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس سلسلے میں کیس بھی درج کرلیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مدنپورہ: اسپین کی فتح پر فٹ بال شائقین نے جشن منایا۔ ارجنٹائنا کے مداح مایوس
رواں مہینے ہونے والے حادثات
اس سے قبل ۸؍ جولائی کو بیسٹ کی ویٹ لیز پر لی گئی الیکٹرک بس نے بھانڈوپ علاقے میں چند گاڑیوں کو ٹکر ماردی تھی جس میں ان گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ایک شخص شدید زخمی ہوگیا تھا۔اس کے بعد ۱۰؍ جولائی کواندھیری میں بیسٹ بس نے ۱۴؍ گاڑیوں کو ٹکر ماردی تھی۔ اس حادثہ میں تقریباً ۸؍ افراد زخمی ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ بیسٹ کمیٹی ممبران نے ویٹ لیزبسوں میں پائی جانے والی تکنیکی خرابیوں کے باوجود شہر کے مسافروں اور راہگیروں کی جان کی پرواہ کئے بغیر بس چلانے کی اجازت دینے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ویٹ لیز کی خامیوں پر مشتمل رپورٹ کو عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ بیسٹ کمیٹی کے اراکین اور ملازمین کی یونینوں نے الزام لگایا تھا کہ خود ویٹ لیز بسوں کے ڈرائیوروں نے بسوں میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ کمیٹی کے رکن نتن نندگاونکر نے بیسٹ کو خط لکھ کر ویٹ لیز بسوں میں موجود سنگین تکنیکی خرابیوں سے آگاہ کیا تھا۔