ہندوستانی صارفین کسی بھی ٹیکنالوجی یا سروس پر رقم خرچ کرنے سے پہلے اس کی حقیقی افادیت اور قیمت کے تناسب کو پرکھتے ہیں۔ شادی ڈاٹ کام کے بانی انوپم متل کے مطابق اب اے آئی کمپنیوں کو بھی ہندوستانی صارفین کے اسی سخت ’’قدر کے امتحان‘‘ کا سامنا ہے۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 7:10 PM IST | New Delhi
ہندوستانی صارفین کسی بھی ٹیکنالوجی یا سروس پر رقم خرچ کرنے سے پہلے اس کی حقیقی افادیت اور قیمت کے تناسب کو پرکھتے ہیں۔ شادی ڈاٹ کام کے بانی انوپم متل کے مطابق اب اے آئی کمپنیوں کو بھی ہندوستانی صارفین کے اسی سخت ’’قدر کے امتحان‘‘ کا سامنا ہے۔
کاروباری شخصیت انوپم متل کا ماننا ہے کہ ہندوستان کمزور قیمتوں کی حکمتِ عملی کو بے نقاب کرنے کا ایک منفرد انداز رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی کمپنیاں یہ سمجھتی ہیں کہ وہ اپنی بین الاقوامی حکمتِ عملی کو معمولی تبدیلی کے ساتھ ہندوستانی صارفین پر بھی لاگو کرسکتی ہیں۔ حال ہی میں لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں شادی ڈاٹ کام کے بانی اور ’شارک ٹینک انڈیا‘ کے سرمایہ کار انوپم متل نے کہا کہ بہت سی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے ابتدا میں ہندوستان میں داخل ہوتے وقت اپنی ڈالر میں مقرر کردہ قیمتوں کو ہندوستانی روپے میں تبدیل کردیا۔ لیکن ہندوستانی صارفین نے فوری طور پر اس پر ردِعمل ظاہر کیا۔ لوگوں نے مشترکہ سبسکرپشن، طویل مفت آزمائشی مدت اور مختلف ’جگاڑ‘ پر مبنی طریقوں سے ایسی مصنوعات کی ادائیگی سے بچنے کی کوشش کی جنہیں وہ ضروری نہیں سمجھتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران تنازع: ہندوستان کا درآمدی بل ۴۳؍ فیصد بڑھ گیا
متل نے کہا کہ انہوں نے یہ سبق شادی ڈاٹ کام بناتے ہوئے سیکھا تھا۔ ہندوستانی صارفین کیلئے بنیادی سوال اکثر بہت سادہ ہوتا ہے: ’’بھائی، اس سے میرا کیا ہوگا؟‘‘ یعنی لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ انہیں اپنی رقم کے بدلے حقیقت میں کیا فائدہ ملے گا، اس کے بعد ہی وہ خرچ کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ متل کے مطابق ہندوستان کو امریکہ کا محض کم قیمت والا ورژن نہیں سمجھا جاسکتا۔ جو کمپنیاں اپنی امریکی حکمتِ عملی کو جوں کا توں ہندوستان میں نافذ کرنے کی کوشش کرتی ہیں، انہیں جلد ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہندوستانی صارفین اپنی رقم کے مقابلے میں کہیں زیادہ قدر اور فائدے کی توقع رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب اے آئی کمپنیاں بھی اسی حقیقت کا سامنا کر رہی ہیں، کیونکہ وہ ہندوستان کیلئےمخصوص قیمتوں اور منصوبوں کا آغاز کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: چینی کی قیمتوں میں اضافے کو ایتھنول سے جوڑنا درست نہیں : حکومت
متل نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’جب اے آئی کمپنیاں ہندوستان کیلئے مخصوص منصوبے متعارف کرا رہی ہیں تو میرے خیال میں انہیں یہاں قدر اور افادیت کے سبق سکھائے جا رہے ہیں۔ ‘‘متل نے نشاندہی کی کہ ہندوستانی صارفین کے اس رویے نے پہلے ہی ٹیلی کام، ادائیگیوں اور تفریح جیسے شعبوں کو متاثر کیا ہے، جہاں صارفین نے کمپنیوں کو بہتر قدر فراہم کرنے اور اپنی ضروریات کے مطابق جدت لانے پر مجبور کیا۔ انہوں نے آخر میں کہا: ’’اب اے آئی کی باری ہے۔ ‘‘ان کی پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث چھڑ گئی کہ کیا اے آئی کمپنیاں اس وقت تک اپنی مصنوعات کی قیمتیں مؤثر انداز میں طے کرسکتی ہیں، جب تک وہ صارفین کو یہ واضح طور پر نہ بتادیں کہ انہیں اس کے بدلے میں کیا فائدہ حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی قرض ۴۰؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وینس نے کہا: بیسنٹ کے پاس خفیہ منصوبہ ہے
ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ اے آئی کو ایک ایسی مشکل کا سامنا ہے جو ٹیلی کام اور ادائیگیوں کے شعبے کو درپیش نہیں تھی۔ اس نے لکھا کہ اے آئی کے معاملے میں ’’نتیجہ‘‘ ابھی تک واضح نہیں ہے، حتیٰ کہ اسے فروخت کرنے والی کمپنیوں کیلئے بھی۔ ٹیلی کام اور ڈجیٹل ادائیگیاں اس لئے کامیاب ہوئیں کیونکہ ان کا فائدہ فوری اور واضح تھا، جیسے سستی کالز اور آسان رقم کی منتقلی۔ اس کے برعکس اے آئی کی افادیت اب بھی زیادہ تر صارفین کیلئے غیر واضح ہے۔ کیا یہ وقت بچاتا ہے، کوئی کام خود انجام دیتا ہے یا کوئی ہنر سکھاتا ہے؟ صارف کے مطابق جو کمپنی ہندوستانی مارکیٹ کیلئے اس فائدے کو سب سے واضح انداز میں سمجھانے میں کامیاب ہوگی، ممکنہ طور پر وہی قیمتوں کے تعین میں بھی کامیاب ہوگی کیونکہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
ایک اور صارف نے کہا کہ اے آئی کمپنیوں کیلئے اصل چیلنج یہ سمجھنا ہے کہ ان کی مصنوعات کہاں حقیقی قدر فراہم کرسکتی ہیں۔ اس کیلئے متعلقہ شعبے، کمپنی کے اندرونی کام کے طریقۂ کار اور دیگر عوامل کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک تیسرے شخص نے تبصرہ کیا: ’’بھائی، اس سے میرا کیا ہوگا؟‘‘ کا امتحان شاید دنیا کے مشکل ترین قیمتوں کے پیمانوں میں سے ایک ہے۔ ہندوستان کمپنیوں کو ادائیگی کے وقت ہی اپنی افادیت ثابت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ دباؤ مصنوعات کو سب کیلئے بہتر بنا سکتا ہے۔