آسٹریلیا میں ایڈیلیڈ فیسٹیول کے بائیکاٹ کے بعد انتظامیہ نے فلسطینی مصنفہ سے معافی مانگی، رندا عبد الفتاح نے بورڈ کی معذرت کو فلسطینیوں کے خلاف مظالم پر بات کرنے کے اپنے حق کے اعتراف کے طور پر قبول کر لیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 15, 2026, 10:11 PM IST | Canberra
آسٹریلیا میں ایڈیلیڈ فیسٹیول کے بائیکاٹ کے بعد انتظامیہ نے فلسطینی مصنفہ سے معافی مانگی، رندا عبد الفتاح نے بورڈ کی معذرت کو فلسطینیوں کے خلاف مظالم پر بات کرنے کے اپنے حق کے اعتراف کے طور پر قبول کر لیا ہے۔
ایک آسٹریلوی ثقافتی میلہ( ایڈیلیڈ فیسٹیول )نے راندا عبد الفتاح سے معذرت کی ہے، اس وقت جب ۱۸۰؍مصنفین نے اس فلسطینی نژاد آسٹریلوی مصنفہ کےساتھ اظہار یکجہتی میں تقریب سے دستبرداری اختیار کرنے پر ایڈیلیڈ فیسٹیول کا’’رائٹرز ویک‘‘ پروگرام منسوخ کرنا پڑا۔بعد ازاں ایڈیلیڈ فیسٹیول کے بورڈ نے جمعرات کو کہا، ’’ہم نے یہ فیصلہ واپس لے لیا ہے اور ڈاکٹر عبد الفتاح کو اگلے ایڈیلیڈ رائٹرز ویک۲۰۲۷ء میں بات چیت کی دعوت بحال کریں گے، اور انہیں پہنچنے والے نقصان پر’’ بلا شرط معذرت‘‘ کی۔بورڈ نے کہا، ’’فکری اور فنکارانہ آزادی ایک طاقتور انسانی حق ہے،‘‘ اور یہ تسلیم کیا کہ وہ اس حق کو برقرار رکھنے میں قاصر رہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کیلئے سزائے موت کے بل کو ابتدائی منظوری
تاہم گیارہ ناولوں کی ایوارڈ یافتہ مصنفہ عبد الفتاح نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے بورڈ کی معذرت قبول کر لی ہے اور اگلے سال شرکت کی دعوت پر غور کریں گی۔انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ایک بیان میں کہا، ’’میں یہ معذرت فلسطینی عوام کے خلاف کیے گئے مظالم کے بارے میں عوامی اور سچائی سے بات کرنے کے ہمارے حق کے اعتراف کے طور پر قبول کرتی ہوں،‘‘اور ’’فلسطینی دشمن نسل پرستی، دھونس جمانے اور سنسرشپ کے خلاف ہماری اجتماعی یکجہتی اور تحریک کی حقانیت کے طور پر قبول کرتی ہوں۔‘‘عبد الفتاح، جو ایک وکیل اور سماجیات دان بھی ہیں، نے کہا کہ وہ فوری کے طور پر شرکت پر راضی ہوں گی اگر لوئس ایڈلر، جنہوں نے بورڈ کے فیصلے کے خلاف احتجاج میں ایڈیلیڈ رائٹرز ویک کے ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، ایک بار پھر ڈائریکٹر بن جائیں،‘‘ لیکن انہوں نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ اگلے سال شرکت کی دعوت قبول کریں گی۔عبد الفتاح نے یہ بھی کہا کہ ان کی شرکت کو منسوخ کرنے کے بورڈ کے ابتدائی فیصلے نے کئی مسائل کو اجاگر کیا، جن میں فوری نسلی امتیاز کے خلاف آگاہی کی ضرورت اور لابی سازوں کی طرف سے سیاسی مداخلت کے خلاف عوامی اداروں کے پاس حفاظتی اقدامات ہونے کی ضرورت شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ : سخت سردی میں تباہ حال عمارتوں کی دیواریں منہدم
دریں اثناء بورڈ نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ اس سال کا ایڈیلیڈ رائٹرز ویک میں عبد الفتاح کو اسپیکر کی دعوت واپس لینے کا ابتدائی فیصلہ شناخت یا اختلاف رائے کے بارے میں نہیں تھا بلکہ آسٹریلیا کی تاریخ کے بدترین دہشت گردانہ حملے کے بعد ہماری قوم میں اظہار رائے کی آزادی کی حدود کے بارے میں تھا۔دراصل یہ بیان انہوں نے بونڈی بیچ پر یہودی تقریب پر ہوئے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہی جس میں۱۵؍افراد ہلاک ہو گئے تھے۔آسٹریلیائی پولیس نے کہا ہے کہ فائرنگ کے مرتکب الزام میں گرفتار دو افرادآئی ایس آئی ایس سے متاثر تھے۔
تاہم ایڈلر، جنہوں نے بورڈ کے عبد الفتاح کو دعوت دینے کے ان کے فیصلے کو نظرانداز کرنے کے بعد رائٹرز ویک ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، نے اس ہفتے کہا کہ احتجاج میں کم از کم ۱۸۰؍مصنفین نے اس سال کے پروگرام سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔جن مصنفین نے اب مزید شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ان میں معروف بین الاقوامی اور آسٹریلوی مصنفین جیسے کہ زیدی اسمتھ، ایم گیسن، یانیس واروفاکس، اور ہیلن گارنر، نیز سابق نیوزی لینڈکی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن شامل ہیں۔ گارجین اخبار میں لکھتے ہوئے، ایڈلر نے بورڈ کے اظہار رائے کی آزادی کے اصول کو ترک کرنے کے اخلاقی مضمرات سے نابلد ہونے پر سوال اٹھایا۔ایڈلر، جو خود یہودی ہیں، نے یہ بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ’’بونڈی سانحہ‘‘کے بعد احتجاج کو غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے، آزادی اظہار کو محدود کیا جا رہا ہے اور سیاستدان جملوں اور نعروں پر پابندی لگانے کے عمل کو تیز کر رہے ہیں، جس میں تشویشناک بے فکری پائی جا رہی ہے۔