• Mon, 23 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، پولیس انکاؤنٹر، فروری میں سب سے زیادہ: بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رپورٹ

Updated: February 23, 2026, 1:57 PM IST | Islamabad

بلوچوں کی جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور مبینہ طور پر پولیس کے ساتھی جعلی مڈبھیڑ کے واقعات بڑھے ہیں۔ ان واقعات کی وجہ سے صرف ایک ماہ کے اندر کم از کم ۱۹ بلوچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی بلوچ آبادی کے حقوق کیلئے سرگرم تنظیم بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ایک تازہ رپورٹ میں فروری کے دوران صوبے میں مبینہ انسانی حقوق کی پامالیوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ حالیہ ہفتوں میں بلوچوں کی جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور مبینہ طور پر پولیس کے ساتھی جعلی مڈبھیڑ کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔

نتائج کے مطابق، ان واقعات کی وجہ سے صرف ایک ماہ کے اندر کم از کم ۱۹ بلوچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ میڈیا پر پابندیوں اور اہل خانہ کے خوف کی وجہ سے بہت سے واقعات منظر عام پر نہیں آ پاتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ متاثرین کے اہل خانہ خوف کی وجہ سے عوامی سطح پر گفتگو کرنے سے کتراتے ہیں جس کی وجہ سے کئی معاملات کی آزادانہ تصدیق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو پورے مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنے کا انجیلی حق ہے: امریکی ایلچی ہکابی

متاثرین میں عام شہری اور کم عمر طلبہ بھی شامل

رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایسے واقعات کے متاثرین میں کچھ غیر مسلح شہری، بچے اور طلبہ بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں ایسے کچھ واقعہ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ ایک واقعہ میں مبینہ طور پر ڈرون حملے میں تین سالہ بچہ جاں بحق ہوا جبکہ دوسرے واقعہ میں ۱۲ سالہ بچے کو مبینہ طور پر گولی ماری گئی۔ اس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اس سے قبل لاپتہ ہونے والے کئی طلبہ بعد میں مردہ پائے گئے، ان میں میٹرک اور ایف ایس سی کے طلبہ نواب عبداللہ، جنگیان بلوچ اور جنید احمد شامل ہیں۔

پولیس کے ساتھ جعلی مڈبھیڑ کے واقعات

رپورٹ میں ۲۴ سالہ حمدان بلوچ کے کیس کا نمایاں طور پر ذکر کیا گیا ہے جسے دسمبر ۲۰۲۵ء میں کراچی میں پاکستان کے کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے حراست میں لے لیا تھا۔ گرفتاری کے کئی ہفتوں بعد، حکام نے بتایا کہ وہ ۱۸ فروری کو پولیس کے ساتھ مڈبھیڑ میں مارا گیا۔ کمیٹی نے سرکار کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بظاہر جعلی معلوم ہوتا ہے۔ رپورٹ میں اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے کہ آیا اس کی حراست کے دوران قانونی طریقہ کار کی پیروی کی گئی تھی۔ رپورٹ میں ملنگ بلوچ، کریم جان، پزیر بلوچ اور اصیل بلوچ سمیت دیگر افراد کا بھی تذکرہ ہے جنہیں مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا اور بعد میں قتل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیلی حملوں اور فلسطینیوں کی جبری بےدخلی سے نسلی تطہیر کا خطرہ

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان مبینہ زیادتیوں کی آزادانہ تحقیقات کریں اور احتساب کو یقینی بنائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK