بنگلہ دیش میں عام انتخاب ۱۲؍ فروری کو منعقد ہوں گے، جبکہ سیاسی تقسیم ملک میں تشدد کو ہوا دے رہی ہے، ۱۱ دسمبر سے ۱۶ جنوری تک کم از کم ۱۵ سیاسی لیڈر اور کارکن مارے جا چکے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 31, 2026, 9:04 PM IST | Dhaka
بنگلہ دیش میں عام انتخاب ۱۲؍ فروری کو منعقد ہوں گے، جبکہ سیاسی تقسیم ملک میں تشدد کو ہوا دے رہی ہے، ۱۱ دسمبر سے ۱۶ جنوری تک کم از کم ۱۵ سیاسی لیڈر اور کارکن مارے جا چکے ہیں۔
بنگلہ دیش میں سیاسی کشیدگی، تقسیم اور تشدد کے خدشات کے درمیان ۱۲ فروری کے اہم عام انتخابات قریب آ رہے ہیں۔ یہ ووٹ ۲۰۲۴ کے بڑے عوامی احتجاج کے بعد پہلے انتخابات ہیں جس نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا، اور یہ کمزور اداروں اور منقسم سیاسی اتحادوں کے ماحول میں ہو رہے ہیں۔مقامی میڈیا کے مطابق، ۱۱ دسمبر (جب انتخابی شیڈول کا اعلان ہوا) سے لے کر ۱۶ جنوری تک ملک بھر میں کم از کم ۱۶ سیاسی لیڈراور کارکن ہلاک ہوئے ہیں۔مقامی انسانی و قانونی حقوق گروپ ’’این او سالش کیندرا‘‘ (اے ایس کے) کے مطابق، گزشتہ سال سیاسی تشدد کے ۴۰۱ واقعات ہوئے، جس میں ۱۰۲ افراد ہلاک اور۴۷۴۴؍ زخمی ہوئے۔پولیس کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ احتجاج کے دوران۵۷۶۳؍ آتشیں اسلحہ لوٹ لیا گیا، جن میں سے ۱۱۳۳۳؍ ابھی تک برآمد نہیں ہو سکا ،انتخابات سے پہلے یہ ایک بڑا سلامتی خدشہ ہے۔
سیاسی مقابلہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)، جماعت اسلامی اور نیشنل شہری پارٹی (این سی پی) کے درمیان ہے۔ این سی پی شیخ حسینہ مخالف تحریک کے طلبہ رہنماؤں نے تشکیل دی ہے، جسے عرف عام میں جولائی احتجاج کہا جاتا ہے۔ عبوری حکومت نے حسینہ کی عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔وہ گروپ جو کبھی احتجاج کے دوران ایک ساتھ تھے اب حریف بن چکے ہیں، جس نے انتخابات کو اصلاحات، قانونی حیثیت اور ریاستی کنٹرول پر ایک انتہائی اہم مقابلہ بنا دیا ہے۔ ۱۲۷ ملین سے زیادہ ووٹرز کے ووٹ ڈالنے کی توقع ہے، جو ۲۰۲۴ کے ۱۱۹؍ اعشاریہ ۶؍ملین سے زیادہ ہے۔ ووٹر ۱۲ فرکوئی کو۲۰۰۰؍ امیدواروں میں سے ۳۰۰؍ ارکان پارلیمنٹ کا انتخاب کریں گے، جس میں حکومتی اکثریت کے لیے ۱۵۱؍ نشستیں درکار ہوں گی۔ انتخابی مہم ۲۲؍ جنوری سے شروع ہوئی ہے۔ تاہم انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے سینئر کنسلٹنٹ تھامس کین کا کہنا ہے کہ ’’تشدد بنگلہ دیش میں انتخابات کی ایک خاصیت رہی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ڈھاکہ-کراچی میں براہ ر است فضائی سروس کا آغاز، تعلقات میں بہتری کی کوشش
کین کے مطابق، ’’پولیس کے مطابق، ہادی کے قتل کے ملزمان میں سے کچھ کا تعلق عوامی لیگ سے تھا —،شاید وہ انتخابات میں رخنہ ڈالنا چاہتے تھے، نیز ان کی عوامی لیگ مخالف سرگرمیوں کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔‘‘انہوں نے مزید کہا،’’کچھ معاملات میں، متنازعہ علاقوں میں حریف جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان تصادم ہوتا ہے۔‘‘
اس کے علاوہ بنگلہ دیشی مصنف اور سیاسی تجزیہ کار ذکریا پولاش نے کہا کہ ’’صورت حال مشتعل ہے۔ کشیدگی اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ مقابلہ کرنے والی جماعتیں انتخابات کو زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھ رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’جتنا انتخاب قریب آتا جائے گا، صورت حال اتنی ہی سنگین ہوتی جائے گی۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ ہزاروں پولنگ اسٹیشن پر نظم و ضبط برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو گا۔ لیورپول ہوپ یونیورسٹی میں میڈیا و کمیونی کیشن کے سینئر اکیڈمک سلمان ال اعظمی کا کہنا ہے کہ اصلاحات کی تحریک حسینہ کے زوال کے بعد ایک مشترکہ احساس سے ابھری۔ انہوں نے کہا، ’’سب متفق تھے کہ نظام میں اصلاحات ہونی چاہئیں تاکہ مستقبل میں کوئی آمر نہ بن سکے۔‘‘ریفرنڈم نے سیاسی شناخت کو تیز کر دیا ہے۔ پولاش نے تبصرہ کیا کہ جماعت اسلامی اور این سی پی اصلاحات کے خواہشمند اور نوجوان رائے دہندگان کی طرف زور دے رہے ہیں، جبکہ بی این پی معاشرے کے بزرگ اور اشرافیہ طبقے سے حمایت حاصل کرتی رہتی ہے، جس سے اصلاحات کے حامی اور موجودہ حالت کے حامیوں کے درمیان تقسیم مزید گہری ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹورنٹو: اسلاموفوبیا کے خلاف یکجہتی، سی این ٹاور سبز روشنیوں سے منور
بعد ازاں پولاش نے انتخابی مہم کے دوران مقامی میڈیا کے کردار کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ،’’یہ واضح ہے کہ تقریباً تمام بنگلہ دیشی نیوز میڈیا آؤٹ لیٹس، بشمول براڈکاسٹ اور پرنٹ، بلا خوف و خطر طرف داری کر رہے ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ میڈیا انتخابات ہونے سے پہلے ہی بی این پی کے لیڈر طارق رحمان صاحب کو وزیر اعظم سمجھ رہا ہے۔ میڈیا ووٹرز کے فیصلے سے پہلے ہی میدان متعین کر رہا ہے۔‘‘اس کے علاوہ علاقائی حالات نے کشیدگی میں ایک اور پرت کا اضافہ کر دیا ہے۔ پولاش نے ہمسایہ ملک کے اثر و رسوخ اور خوف پھیلانے کو ایک اہم تشویش کے طور پر بیان کیا۔جبکہ نئی دہلی نے تنقید کو مسترد کر دیا ہے اور پرامن ماحول میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کی اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
تاہم کین نے خبردار کیا کہ اگلی حکومت کو کئی اہم چیلنج درپیش ہوں گے، جس میں معاشی اصلاحات، بین الاقوامی تعلقات کا انتظام، اور عوامی لیگ کے مستقبل کا حل شامل ہے۔خطرات کے باوجود، پولاش کا اصرار ہے کہ انتخابات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا،’’بنگلہ دیش کے لیے انتخابات کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔‘‘