کالہیر علاقے میں ایک ہوٹل کی جانب سے جاری کیا گیا بل سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس میں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ ’گیس چارج‘ کے نام پر اضافی رقم وصول کرنے کا دلچسپ معاملہ سامنے آیا ہے۔
بل پر گیس چارج ۱۰؍روپے درج ہے- تصویر:آئی این این
کالہیر علاقے میں ایک ہوٹل کی جانب سے جاری کیا گیا بل سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس میں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ ’گیس چارج‘ کے نام پر اضافی رقم وصول کرنے کا دلچسپ معاملہ سامنے آیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ہوٹل گروکرپا ویج ٹریٹ میں ایک گاہک نے ویج بریانی اور ایک لیٹر پینے کا پانی خریدا۔ بل میں ویج بریانی کی قیمت۱۷۵؍ روپے اور پانی کی بوتل۲۰؍ روپے درج کی گئی، تاہم اس کے ساتھ۱۰؍ روپے ’گیس چارج ‘ بھی شامل کیا گیا، جس کے بعد کل رقم۲۰۵؍روپے وصول کی گئی۔
بل پر جی ایس ٹی اور ایف ایس ایس اے آئی نمبر بھی درج ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہوٹل رجسٹرڈ ہے لیکن اس طرح الگ سے ’گیس چارج ‘ وصول کرنے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کیا اس طرح کے اضافی چارجز صارفین سے وصول کرنا جائز ہے ،اس پر متعلقہ محکموں کو وضاحت کرنی چاہئے۔سوشل میڈیا پر اس بل کی تصویر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ جہاں کچھ افراد اسے غیر ضروری بوجھ قرار دے رہے ہیں، وہیں بعض کا کہنا ہے کہ ایسے اخراجات پہلے ہی کھانے کی قیمت میں شامل ہونے چاہئیں۔شہری حلقوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی جانچ کر کے واضح ہدایات جاری کی جائیں تاکہ صارفین کو غیر ضروری اضافی چارجز نہ ادا کرنے پڑیں۔
اس ضمن میں جب نمائندہ انقلاب نے گرو کرپا ہوٹل انتظامیہ سے استفسار کیا تو سبھاش نامی شخص نے بتایا کہ گیس سلنڈروں کی قلت کے باعث ہمیں زیادہ پیسے دیکر سلنڈر خریدنا پڑ رہا ہے جس کے باعث۱۰؍ روپے زائد لیا جارہا ہے لیکن تنازع کے بعد اب ہم نے گیس کے نام پر زائد پیسے لینا بند کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاہک کا ویٹر کے ساتھ کچھ بحث مباحثہ ہوگیا تھا، جس سے ناراض ہوکر اس نے بل کو سوشل میڈیا پر وائرل کردیا. لیکن تنازع ختم ہوگیا ہے۔