بارش کے باوجود طلبہ،نوجوان وکلاء اور مختلف تنظیموں کے اراکین کی شرکت۔
EPAPER
Updated: July 21, 2026, 12:47 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
بارش کے باوجود طلبہ،نوجوان وکلاء اور مختلف تنظیموں کے اراکین کی شرکت۔
دہلی میں ماہرِ ماحولیات اور سماجی کارکن سونم وانگ چک کی تحریک، انہیں زبردستی اسپتال منتقل کئے جانے اور پارلیمنٹ کی جانب نکالے گئے مارچ کو روکے جانے کیخلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ اسی کڑی میں صنعتی شہر بھیونڈی بھی پیر کے روز سراپا احتجاج بن گیا، جہاں موسلا دھار بارش کے باوجود طلبہ، نوجوان، وکلاء اور مختلف تنظیموں کے کارکن بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور مرکزی حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے سونم وانگ چک سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ چھترپتی شیواجی مہاراج چوک پر ہونے والے مرکزی احتجاج میں شریک نوجوانوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر تعلیمی نظام میں مبینہ بدعنوانیوں، نیٹ امتحان کے پیپر لیک اور طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کیخلاف سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کا احتجاج کسی سیاسی جماعت کی سرپرستی میں نہیں بلکہ طلبہ کے حقوق اور شفاف تعلیمی نظام کے حق میں ایک عوامی آواز ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وزیر اعلیٰ سے شہر کی پرانی کچی آبادیوں کو پکا گھر بنا کر دینے کا مطالبہ
نوجوان آرین گوساوی نے کہا کہ یہ تحریک ملک کے ہر طالب علم کی آواز بن چکی ہے اور اسے دبایا نہیں جا سکتا۔ادھر آر پی آئی (سیکولر) کے کارکنوں نے سب ڈویژنل آفیسر کے دفتر کے سامنے دھرنا دے کر مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا جبکہ بھیونڈی عدالت کے نوجوان وکلاءنے ایڈوکیٹ امول کامبلے کی قیادت میں سب ڈویژنل آفیسر امیت سانپ کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے سونم وانگ چک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور نیٹ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’عمارتوں کے مکان میں تبدیلی کا سبھی کیلئے یکساں قانون ہونا چاہئے‘‘
شام کے وقت کانگریس کے ضلعی جنرل سیکریٹری پنکج گائیکواڈ کی قیادت میں کوپالی میں بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی مجسمہ کے سامنے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جہاں مظاہرین نے سونم وانگ چک کے حق میں اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف نعرے بلند کیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ نیٹ امتحان کے مبینہ پیپر لیک، مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے اور سونم وانگ چک کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں مسلسل احتجاج جاری ہے، جس کی گونج اب بھیونڈی میں بھی پوری شدت کے ساتھ سنائی دے رہی ہے۔