• Thu, 15 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں نفرت انگیز تقاریر میں تشویشناک اضافہ، اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا

Updated: January 15, 2026, 1:58 PM IST | New Delhi

سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (سی ایس او ایچ) کے انڈیا ہیٹ لیب کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ہندوستان بھر میں نفرت انگیز تقاریر کے ایک ہزار ۳۱۸؍ واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن کا بڑا ہدف مذہبی اقلیتیں، خصوصاً مسلمان اور عیسائی رہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر واقعات بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں پیش آئے جبکہ سوشل میڈیا نے نفرت انگیز بیانیے کو پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (سی ایس او ایچ) کے پروجیکٹ انڈیا ہیٹ لیب (آئی ایچ ایل) کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ۲۰۲۵ء کے دوران ہندوستان کی ۲۱؍ ریاستوں میں نفرت انگیز تقاریر کے ایک ہزار ۳۱۸؍ معاملات دستاویز کیے گئے۔ یہ تعداد ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں۱۳؍ فیصد اور ۲۰۲۳ء کے مقابلے میں ۹۷؍ فیصد زیادہ ہے۔ ۲۰۲۳ء میں ایسے واقعات کی تعداد ۶۶۸؍ تھی۔ رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کی نفرت انگیز تقریر کی تعریف کو بنیاد بنا کر ان واقعات کی درجہ بندی کی گئی۔ ان میں سازشی نظریات کا فروغ، تشدد اور ہتھیار اٹھانے کی اپیلیں، سماجی و معاشی بائیکاٹ کے مطالبات، عبادت گاہوں کو ضبط یا مسمار کرنے کی مانگیں، غیر انسانی زبان اور ہندوستان میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف بیانات شامل تھے۔

یہ بھی پڑھئے: بی جے پی لیڈر اور ریاستی وزیر چندر شیکھر باونکولے پربچو کڑو کے سنگین الزامات

اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار ۲۸۹؍ تقاریر (۹۸؍ فیصد) مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے متعلق تھیں، جن میں سے ایک ہزار ۱۵۶؍ واقعات میں مسلمان براہِ راست ہدف بنے جبکہ ۱۳۳؍  واقعات میں مسلمان اور عیسائی دونوں نشانہ بنے۔ عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ۱۶۲؍ واقعات ریکارڈ ہوئے جو ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں ۴۱؍ فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کا بڑا حصہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر اقتدار ریاستوں میں سامنے آیا۔ مجموعی طور پر ۸۸؍ فیصد واقعات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں، بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد کی اتحادی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پیش آئے جو ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں ۲۵؍ فیصد اضافہ ہے۔ ریاستی سطح پر اتر پردیش (۲۶۶)، مہاراشٹر (۱۹۳)، مدھیہ پردیش (۱۷۲)، اتراکھنڈ (۱۵۵) اور دہلی (۷۶) میں سب سے زیادہ نفرت انگیز تقاریر ریکارڈ کی گئیں، جو مجموعی تعداد کا ۶۵؍ فیصد ہیں۔ اس کے برعکس، حزبِ اختلاف یا اتحادی حکومتوں والی سات ریاستوں میں ۲۰۲۵ء کے دوران ۱۵۴؍ واقعات سامنے آئے جو ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں ۳۴؍ فیصد کم ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر: نوٹس کاجواب۷؍ دن میں دینا ہوگا

انتہا پسند ہندوتوا تنظیمیں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل نفرت انگیز تقاریر کے سب سے بڑے منتظمین کے طور پر سامنے آئیں، جن سے ۲۸۹؍ واقعات (۲۲؍ فیصد) منسلک تھے۔ اس کے بعد انتراشٹریہ ہندو پریشد کے ۱۳۸؍ واقعات سامنے آئے۔ مجموعی طور پر ۱۶۰؍ سے زائد تنظیموں اور غیر رسمی گروہوں کو نفرت انگیز تقاریر کے منتظمین یا شریک منتظمین کے طور پر شناخت کیا گیا۔ انفرادی سطح پر، اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی ۷۱؍ تقاریر کے ساتھ سب سے زیادہ نفرت انگیز بیانات دینے والوں میں شامل رہے، جبکہ پروین توگڑیا اور بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے بالترتیب ۴۶؍ اور ۳۵؍  تقاریر کے ساتھ نمایاں رہے۔ ہندو سادھوؤں کی جانب سے ۱۴۵؍ نفرت انگیز تقاریر ریکارڈ کی گئیں جو ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں ۲۷؍ فیصد اضافہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں تقریباً نصف تقاریر میں ’’لو جہاد‘‘، ’’لینڈ جہاد‘‘ اور ’’آبادی جہاد‘‘ جیسے سازشی نظریات کو فروغ دیا گیا۔ ۳۰۸؍ تقاریر میں تشدد کی کھلی مانگیں شامل تھیں، جن میں ۱۳۶؍ میں براہِ راست ہتھیار اٹھانے کی اپیل کی گئی۔ مہاراشٹر میں تشدد پر اکسانے والی تقاریر کا تناسب سب سے زیادہ رہا۔

یہ بھی پڑھئے: عمرخالد و شرجیل امام کی ضمانت کی نامنظوری مایوس کن وافسوسناک: سابق سپریم کورٹ جج

اسی دوران، اقلیتی برادریوں کے بائیکاٹ پر زور دینے والی ۱۲۰؍  تقاریر اور مساجد، مزارات اور گرجا گھروں کو ہٹانے یا مسمار کرنے کے مطالبات پر مبنی ۲۷۶؍ تقاریر ریکارڈ کی گئیں۔ اتر پردیش میں گیانواپی مسجد اور شاہی عیدگاہ مسجد کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ نفرت انگیز تقاریر میں غیر انسانی زبان بھی نمایاں رہی، جہاں اقلیتوں کے لیے ’’دیمک‘‘، ’’کیڑے‘‘، ’’سانپ‘‘ اور دیگر توہین آمیز اصطلاحات استعمال کی گئیں۔ ان میں سے ایک ہزار ۲۷۸؍  واقعات کے ویڈیوز پہلی بار سوشل میڈیا پر شیئر یا لائیو اسٹریم ہوئے، جن میں فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ایکس نمایاں پلیٹ فارمز رہے۔سی ایس او ایچ کے ریسرچ ڈائریکٹر ڈاکٹر ایوین لیڈیگ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں نفرت انگیز تقاریر صرف کسی خاص واقعے کے ردعمل تک محدود نہیں رہیں بلکہ پورے سال ایک بلند سطح پر جاری رہیں، جو ایک اسٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سی ایس او ایچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رقیب حمید نائیک نے کہا کہ یہ رجحان راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے زیر اثر ہندو قوم پرست گروہوں کی جانب سے طویل مدتی، زمینی سطح پر متحرک حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد روزمرہ کی سیاسی زندگی میں اقلیت مخالف بیانیے کو مسلسل زندہ رکھنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK