Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی کے سی میں ’ویکلی پبلک ٹرانسپورٹ ڈے‘ منانے کا اعلان

Updated: June 07, 2026, 11:03 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

باندرہ کرلا کمپلیکس میں کام کرنے والے ۲؍ لاکھ سے زائد افراد کو ہر جمعہ کو ٹرین، بس اور میٹرو استعمال کرنے کی ترغیب دینے کی قرارداد منظور۔ ایم ایم آر ڈی اے کے تمام ملازمین اور افسران نے حلف لیا۔

Key officials are seen at the roundtable meeting chaired by MMRDA. Photo: INN
ایم ایم آر ڈی اے کی سربراہی والی گول میز میٹنگ میں اہم افسران نظر آ رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

وزیر اعظم کے ایندھن کم استعمال کرنے کے مشورے اور مہاراشٹر حکومت کے سرکاری ملازمین کو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے اور اعلیٰ سرکاری افسران کو ہفتے میں کم از کم ایک دن پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے جاری کردہ سرکلر کے پیش نظر ’ایم ایم آر ڈی اے‘ نے ملک کے اہم بزنس ڈسٹرکٹ ’باندرہ کرلا کمپلیکس‘ میں ہر جمعہ کو ’ویکلی پبلک ٹرانسپورٹ ڈے‘ منانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بی کے سی میں کام کرنے والے ۲؍ لاکھ سے زائد افراد کو ہر جمعہ کو ٹرین، بس اور میٹرو سے سفر کرنے کی ترغیب دی گئی۔

جمعہ، ۵؍ جون کو ’عالمی یوم ماحولیات‘ کے موقع پر ’ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی‘ (ایم ایم آر ڈی اے) نے ’ورلڈ ریسورسیز انسٹی ٹیوٹ انڈیا‘ (ڈبلیو آر آئی،انڈیا) کے اشتراک سے ایک گول میز میٹنگ منعقد کی تھی جس میں کئی سینئر سرکاری افسران، ٹرانسپورٹ ایجنسیوں اور کارپوریٹ لیڈروں کےساتھ نقل و حمل کے ماہرین نے شرکت کی تھی۔ شرکاء نے بی کے سی میں کام کرنے والوں کو ہر جمعہ کو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی ترغیب دینے کی قرار داد منظور کی۔ اس میٹنگ میں بتایا گیا کہ ’باندرہ کرلا کمپلیکس‘ میں تقریباً ۲؍ لاکھ افراد باقاعدہ برسر روزگار ہیں جبکہ اتنی ہی یا اس سے زیادہ تعداد میں لوگ غیر منظم طریقہ سے روزگار سے وابستہ ہیں۔ ’بامبے اسٹاک ایکسچینج سینسیکس‘ میں لسٹ شدہ ۷۵؍ فیصد کمپنیاں اور نفٹی میں لسٹ شدہ ۵۰؍ فیصد کمپنیاں بی کے سی میں واقع ہیں جس کی وجہ سے بی کے سی ملک کے اہم ترین تجارتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

تاہم یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات میں لگاتار اضافہ کے باوجود یہاں کے ۵۲؍ فیصد افراد ذاتی گاڑیوں، رکشا اور ٹیکسیوں کے ذریعہ آمدورفت کرتے ہیں اور محض ۲۵؍ فیصد افراد آمدورفت کیلئے یومیہ پبلک ٹرا نسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ تقریباً ۵۴؍ فیصد افراد اپنی منزلوں پر پہنچنے کیلئے یومیہ دو گھنٹے سے زیادہ وقفہ سفر کرتے ہیں جبکہ ہر ۵؍ میں سے ایک شخص ۳؍ گھنٹے سے بھی زیادہ وقفہ سفر میں گزار دیتا ہے۔

اس میٹنگ میں ایک سروے کی رپورٹ کی روشنی میں بتایا گیا کہ سفر شروع کرنے اور سفر کے آخری مرحلے میں منزل تک پہنچنے کیلئے گاڑیوں کی کم دستیابی، تنگ راستے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے محدود ذرائع بی کے سی پہنچنے والوں کیلئے بڑا چیلنج ہیں۔ البتہ اسی رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں آمدورفت کے ذرائع میں تبدیلی کے بڑے مواقع موجود ہیں کیونکہ ۸۲؍ فیصد افراد نے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو استعمال کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے بشرط یہ کہ یہ خدمات قابل انحصار، پُرسکون اور آرام دہ ہوں۔

یہ بھی پڑھئے: ڈی آر پی کے سربراہ کی غلط بیانی کو ہر دھاراوی واسی تک پہنچانے کا عہد

میٹنگ میں شامل آئی اے ایس افسر اور ایم ایم آر ڈی اے کے کمشنر ڈاکٹر سنجے مکھرجی نے اس موقع پر کہا کہ یہاں ۲؍ لاکھ افراد روزانہ سفر کرتے ہیں اور ان میں سے مناسب تعداد بھی اگر پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنے لگتی ہے تو یہ عمل ٹریفک جام میں کمی، سفر جلد طے ہونا، دھوئیں میں کمی اور بہتر طرز زندگی کا ضامن ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی خود سے شروع ہوتی ہے اس لئے انہوں نے خود اور ایم ایم آر ڈی اے کے تمام ملازمین اور افسران نے حلف لیا ہے کہ وہ ہر جمعہ کو بی کے سی میں اپنے دفتر پہنچنے کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں گے۔

واضح رہے کہ بی کے سی پہنچنے کیلئے میٹرو ۳ (ایکوا لائن) پہلے ہی جاری ہے جبکہ یہاں میٹرو لائن ۲؍ بی اور ۴؍ بھی شروع ہوگی جس سے تینوں میٹرو لائنیں بی کے سی میں ایک کلو میٹر کے دائرے میں دستیاب ہوجائیں گی۔

یہ بھی پڑھئے: اب سیلون میں بال کٹوانا اور ڈاڑھی بنوانا بھی مہنگا، ۲۰؍ فیصد اضافہ

شرکاء نے آمدورفت کے متعدد ذرائع پر بھی گفتگو کی جن میں بس خدمات میں بہتری لانا، پیدل چلنے والوں کیلئے محفوظ اور اچھے راستے فراہم کرنا اور ممبئی وَن پلیٹ فارم کے ذریعہ مختلف ٹرانسپورٹ کے ذرائع کو جوڑنا اور اہم مقامات پر پہنچنے کیلئےرکشا کی دستیابی شامل تھا۔

اس اہم میٹنگ میں ممبئی میٹرو ریل کارپوریشن، مہا ممبئی میٹرو وَن کارپوریشن لمیٹڈ، بیسٹ انڈر ٹیکنگ، ممبئی ٹریفک پولیس اور بی کے سی میں واقع بڑی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK