اسکول اور ایس آئی آر دونوں ڈیوٹی دیئے جانے سے بیشتر اساتذہ ناراض۔ بوتھ لیول ایجنٹ اور بوتھ لیول آفیسر میں تال میل کی کمی کی شکایتیں۔ انومریشن فارم پُر کرنے کیلئے مطلوبہ سہولیات کا فقدان۔
EPAPER
Updated: July 01, 2026, 12:37 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
اسکول اور ایس آئی آر دونوں ڈیوٹی دیئے جانے سے بیشتر اساتذہ ناراض۔ بوتھ لیول ایجنٹ اور بوتھ لیول آفیسر میں تال میل کی کمی کی شکایتیں۔ انومریشن فارم پُر کرنے کیلئے مطلوبہ سہولیات کا فقدان۔
’ایس آئی آر‘ کے انومریشن رائونڈ کا منگل سے آغازہوا ہے لیکن واضح ہدایات نہ ملنے سے ڈیوٹی پر مامور عملہ تذبذب کا شکار ہے ۔اسکول اور ایس آئی آر دونوں کی ڈیوٹی دینے سے بیشتر اساتذہ میں برہمی پائی جا رہی ہے ۔بارش کی وجہ سے مہم میں رکاوٹ آرہی ہے ۔بوتھ لیول ایجنٹ( بی ایل اے ) اور بوتھ لیول آفیسر( بی ایل او) میں تال میل نہ ہونے کی شکایتیں بھی موصول ہو رہی ہیں ۔ انومریشن فارم پُر کرنے کیلئے مطلوبہ سہولیات کے فقدان سے بھی بی ایل اوز کو پریشانی ہو رہی ہے ۔منگل کو صبح اور دوپہر کے سیشن والے کچھ اساتذہ بچوں کو پڑھانے سے پہلے اور پڑھانے کے بعد اپنے علاقوں میں انومریشن فارم تقسیم کرنے کیلئے گھر گھر پہنچے لیکن دوہری ڈیوٹی کرنے سے انہیں بڑی پریشانی ہوئی ۔ متعدد اساتذہ اس معاملہ میں نئے فرمان کے بھی منتظر ہیں ۔انہیں اُمید ہےکہ الیکشن کمیشن دونوں ڈیوٹی کے بجائے ۳؍دن اسکول اور ۳؍دن ایس آئی آر کی ڈیوٹی کی سہولت فراہم کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے: مسلمانوں کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اسٹڈی گروپ کی تشکیل کا مطالبہ
اساتذہ کودشواریوں کا سامنا
جنوبی ممبئی کے ایک اسکول کے معلم کے مطابق ’’ مجھے اسکول کی پوری ڈیوٹی کے ساتھ انومریشن کی ڈیوٹی دی گئی ہے۔ اسکول صبح ۷؍بجے سے دوپہر ایک بجے کا ہے۔ اسکول سے نکلنے کے بعد میںانومریشن کیلئے اپنے علاقے میںجانے کی تیاری کر رہا تھا،اچانک تیز بارش کی وجہ سے نہیں جاسکا لیکن بہرحال دونوں ڈیوٹی انجام دینی ہے جس سے بڑی دشواری محسوس کر رہا ہوں ۔ ہمارے اسکول کے سبھی اساتذہ کو دونوں ذمہ داریاں دی گئی ہیں مگر دونوں ڈیوٹی کرنے سے طبیعت خراب ہونے کاخدشہ ہے ۔الیکشن کمیشن کو سمجھنا چاہئے کہ ایک شخص۲؍ مختلف ڈیوٹی کیسے کرسکتا ہے ۔‘‘
گھاٹ کوپر کے ایک میونسپل اسکول کے ٹیچر نے بتایا کہ ’’اسمبلی حلقہ ۱۶۸؍ کے ٹیچروںکو انومریشن کا کام کرنے کیلئے مطلوبہ سامان دینے کیلئے بلایا جا رہاہے لیکن اسکول انتظامیہ نے ٹیچروںکوابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ انہیں اسکول اور ایس آئی آر دونوں ڈیوٹی کرنی ہے یا صرف ایس آئی آر کی ڈیوٹی کرنی ہے ۔ اس لئے ہم نے ابھی مذکورہ سامان نہیں لیا ہے ۔ ہم دونوں ڈیوٹی کرنے سے صاف منع کر دیں گے کیونکہ ایس آئی آر کاکام بہت دقت اور وقت طلب ہے۔ ایک ٹیچر دونوں کام ایک ساتھ نہیں کرسکتا ہے ۔ہمارے ہی علاقے کے اسمبلی حلقہ ۱۷۰؍ کے ٹیچروں کو مقامی الیکشن آفس سےصرف انومریشن کا کام کرنے کیلئے لیٹردیاگیاہےجبکہ کچھ علاقوںمیں اسکول کی پوری ذمہ داری نبھانے کے ساتھ انومریشن کی ڈیوٹی بھی کرنی ہے ۔۲؍ طرح کی ہدایتوں سے اساتذہ میں تذبذب ہے ۔‘‘
’’بارش میں انومریشن کا کام دشوارکن ہے‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’بارش کے موسم میں انومریشن کا کام کرنا مزید دشوارکن ہے ۔ ایک تو بارش میں بھیگ کر جانا اور دوسرے انومریشن کے فارم وغیرہ کو بارش کے پانی سے محفوظ رکھنا مشکل ہے ۔چنانچہ اس کام کو بارش کے بعد کیا جائے تو بہتر ہے ۔ اس کےعلاوہ بی ایل او کی مدد کیلئے جو بی ایل اے مقررکئے گئے ہیں ، بی ایل او کی ضرورت کے مطابق ان سے ملاقات ہونا بھی ایک مسئلہ ہے کیونکہ اس وقت بی ایل اے بھی اپنے کام پر ہوتے ہیں ۔ ایسے میں بڑی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ ان مسائل کے بارے میں متعلقہ ذمہ داران سے شکایت کرنے پر وہ کوئی جواب نہیں دے رہے ہیں ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سچن اہیر نے بھی اُدھو کا ساتھ چھوڑا، کونسل میں ڈپٹی چیئر مین بنیں گے
عہدیداران سے تحریری اپیل
گوونڈی کے ایک ٹیچر نے بتایا کہ ’’ایس آئی آر کی ڈیوٹی سے اساتذہ بری طرح پریشان ہیں۔ ہم نے اس تعلق سے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران، الیکشن کمیشن اور دیگر محکموں کے عہدیداران سے تحریری اپیل کی ہے کہ وہ اساتذہ کی مشکلوںکو سمجھنےکی کوشش کریں لیکن کوئی بھی ہماری بات سمجھنے کو تیار نہیں ہے ۔ ابھی اسکول شروع ہواہے۔ بیشتر اسکولوں کے اساتذہ کو بچوں کو پڑھانےکے ساتھ انومریشن کی ڈیوٹی دی گئی ہے جو ٹیچروں کے ساتھ ناانصافی ہے ۔ ٹیچروں میں بڑی تعداد میں خواتین شامل ہیں ، انہیں دوہری ڈیوٹی دینا کہاں تک مناسب ہے۔ اساتذہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کیلئے محکمہ تعلیم زیادہ ذمہ دار ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ صرف ٹیچروں کو ڈرادھمکا کر ان سے زبردستی ایک کے بجائے ۲؍ڈیوٹی کرانےکی ہٹ دھرمی کی جا رہی ہےجس سے اساتذہ ذہنی اذیت کا شکارہیں ۔‘‘