ایم ایل رے رئیس شیخ نے نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار کو خط لکھا، اسٹڈی گروپ کو آنجہانی اجیت پوار سے منسوب کرنے کی اپیل کیونکہ وہ ایسی تحقیق کرانا چاہتے تھے۔
EPAPER
Updated: July 01, 2026, 10:43 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
ایم ایل رے رئیس شیخ نے نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار کو خط لکھا، اسٹڈی گروپ کو آنجہانی اجیت پوار سے منسوب کرنے کی اپیل کیونکہ وہ ایسی تحقیق کرانا چاہتے تھے۔
رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نائب وزیر اعلیٰ اور اقلیتی امور کی وزیر سونیترا پوار کو مکتوب دے کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ آنجہانی اجیت دادا پوار سے منسوب مسلمانوںکی سماجی، معاشی اور تعلیمی حالت کا جائزہ لینے کیلئےایک اسٹڈی گروپ کی تقرری کرے۔ انہوںنے بتایاکہ اجیت پوار اس اسٹڈی گروپ کا سروے کروانے کے متمنی تھے۔
اس سلسلے میں رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ ’’مَیں نے نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار سے ملاقات کی اور انہیں بتایاکہ آنجہانی اجیت پوار نے مسلمانوںکی سماجی، معاشی اور تعلیمی حالت کا جائزہ لینے کیلئے ایک اسٹڈی گروپ کی تقرری کا اعلان کیا تھا لیکن اس کا کام شروع نہیں ہوا تھا ۔ اس لئے سونیترا پوارسے ہم نے درخواست کی ہے کہ وہ آنجہانی اجیت دادا پوار سے منسوب اس تعلق سے تحقیق کرائیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فرانس کا دوہرا معیار؟ اینی ہیتھوے کے سوئمنگ ڈریس نے برقینی تنازع پھر زندہ کردیا
ودھان بھون میں مزید معلومات دیتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نمائندہ ٔ انقلاب کو بتایا کہ’’۲۰۱۳ء میں مہاراشٹر حکومت کے ذریعہ مقرر کردہ ڈاکٹر محمود الرحمٰن اسٹڈی گروپ نے مسلمنو ں کا سماجی، تعلیمی واقتصادی سروے کرانے کی سفارش کی تھی۔ ۲۰۲۲ء میں ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کو اس سلسلے میں ٹاسک دیا گیا تھا ۔ حکومتی فیصلہ ۲۱؍ ستمبر ۲۰۲۲ءکو کیا گیا تھا۔ تاہم ریاست میں اقتدار کی تبدیلی ہوئی اور سروے نہیں ہو سکا۔‘‘
انہوںنے مزید کہا کہ اگر مسلم کمیونٹی کے حالات زندگی، مالی امداد، اسکیموں کے فوائد، بنیادی ڈھانچے، تعلیمی مواقع، صحت کی سہولیات سے متعلق حقائق سامنے آجائیں تو جغرافیائی طور پر اس پسماندہ طبقے کے مسائل سمجھ میں آئیں گے اور حکومت کیلئے مسلم کمیونٹی کے پسماندہ طبقے کو ترقی کے دھارے میں لانے کیلئے پالیسی بنانا آسان ہوجائے گا۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے دعویٰ کیا کہ ’’سچر کمیٹی کی رپورٹ( ۲۰۰۶ء)کے بعد مسلم کمیونٹی کی سماجی، معاشی، تعلیمی حیثیت کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سچن اہیر نے بھی اُدھو کا ساتھ چھوڑا، کونسل میں ڈپٹی چیئر مین بنیں گے
رئیس شیخ نے مزید کہا کہ مسلم کمیونٹی کا سروے کرنے کیلئے ’آنجہانی اجیت دادا پوار‘ کے نام سے ایک نیا اسٹڈی گروپ تشکیل دیا جانا چاہئے۔ اجیت دادا نے مسلم کمیونٹی کے زیر التوا مسائل کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھایا۔ اجیت دادا کے دلیرانہ فیصلے کی وجہ سے مائناریٹی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ( مارٹی) قائم ہوا، اقلیتی کمشنریٹ قائم ہوا اور انتخابات میں مسلم امیدواروں کی تعداد بڑھ سکی ۔سماجوادی لیڈر کے بقول مسلم کمیونٹی کے اس سروے سے اس کمیونٹی کی موجودہ حالت کی واضح تصویر سامنے آئے گی۔ ریاست میں مسلم آبادی ۱۱ء۵۴؍ فیصد ہے جو ہندوؤں کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ ریاست کے۵۶؍ شہروں میں مسلمنو ں کی اکثریت ہے۔ ایسے سروے بیرونی ذرائع سے محدود فنڈز اور افرادی قوت کے ذریعے کئے جاتے ہیں۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ حکومت نے ماضی میں کئی ذاتوں کے ایسے سروے کرائے ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ وہ مسلمانوں کا بھی سروے کرائے گی۔