بیسٹ کی بسوں سے لگاتار حادثات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ سینئر افسر کو اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں حاضر ہوکر وضاحت کرنے کی ہدایت۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 10:21 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
بیسٹ کی بسوں سے لگاتار حادثات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ سینئر افسر کو اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں حاضر ہوکر وضاحت کرنے کی ہدایت۔
خسارہ میں چل رہے بیسٹ کے ٹرانسپورٹ محکمہ کو جمعہ کو اس وقت دھچکا لگا جب بیسٹ کی بسوں سے ہونے والے حادثات کو دیکھتے ہوئے بی ایم سی نے اپنی جانب سے بیسٹ کو دی جانے والی ایک ہزار کروڑ روپے کی سالانہ امداد کو روک دیا۔ اس کے علاوہ اسٹینڈنگ کمیٹی نے بیسٹ کے سینئر افسر کو ذاتی طور پر حاضر ہوکر وضاحت کرنے کو کہا ہے کہ اتنے حادثات کیوں ہورہے ہیں؟واضح رہے کہ ’برہن ممبئی الیکٹرک سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ‘ (بیسٹ) کو بسیں چلانے کے زمرے میں ہر سال شدید خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ بیسٹ ’برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن‘ (بی ایم سی) کے ماتحت ہے اس لئے ہر سال شہری انتظامیہ بیسٹ کو اپنی خدمات جاری رکھنے کیلئے مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ اسی روایت کے تحت بیسٹ کو ۲۷۔۲۰۲۶ء مالی سال کیلئے بی ایم سی کی جانب سے ایک ہزار کروڑ روپے کی امداد دی جانی تھی۔یہاں قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ بی ایم سی نے جو ایک ہزار کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا تھا اس میں سے ۹۳ء۷۸؍ کروڑ روپے دیئے ہی نہیں جانے تھے کیونکہ بی ایم سی کا دعویٰ ہے کہ ’ایل وارڈ‘ کے کرلا میں بی ایم سی کی ۹؍ جائیداد و املاک ہیں جن کا ۹۳ء۷۸؍ کروڑ روپے کا ’پراپرٹی ٹیکس‘ بیسٹ کو ادا کرنا باقی ہے۔ اس طرح بی ایم سی بیسٹ کو ایک ہزار کروڑ کے بجائے ۹۰۶ء۲۱؍ کروڑ روپے ہی ادا کرنے والی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معروف سماجی شخصیت ارشد صدیقی انتقال کرگئے
جمعہ کو اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں اس امداد کو منظوری کیلئے پیش کیا گیا تھا جس پر کمیٹی کے ممبران نے بحث کی جس کی وجہ سے اس امداد کو فی الحال روک دیا گیا ہے البتہ اسے نظر ثانی کیلئے بعد میں دوبارہ پیش کئے جانے کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔ اس دوران کمیٹی کے چیئر مین پربھاکر شندے نے حکم جاری کیا کہ بیسٹ کا کوئی سینئر افسر کمیٹی کے سامنے حاضر ہوکر بتائے کہ اتنے زیادہ حادثات کیوں پیش آرہے ہیں؟
جب یہ موضوع زیر بحث آیا تو بی ایم سی میں کانگریس کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی نے کہا کہ’’ اگرچہ اصولاً بیسٹ کے ڈرائیوروں کو ۶؍ مہینوں کی تربیت دی جانی چاہئے لیکن انہیں صرف ۳؍ دنوں کی تربیت کی بنیاد پر بسیں چلانے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ اس سے راہگیروں اور راستوں پر دیگر گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اس کیلئے صرف ڈرائیوروں کو کیوں ذمہ دار ٹھہرایا جائے، جو ٹھیکیدار ان ڈرائیوروں بسیں چلانے پر مامور کرتے ہیں انہیں بھی جوابدہ بنایا جانا چاہئے۔‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’جب بیسٹ کو نئی بسیں بہت زیادہ سبسڈی پر خریدنے کی سہولت دستیاب ہے تو پھر بیسٹ میں ۶۵؍ فیصد بسیں ’ویٹ لیز‘ پر کیوں لی گئی ہیں۔ جب بیسٹ کے ۵؍ ہزار ملازمین سبکدوش ہوجائیں گے تو اس کی تمام بسیں اور بس ڈپو نجی ٹھیکیداروں کے ہاتھوں میں چلے جائیں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فرضی دواساز کمپنیوں کی جانچ کیلئے ریاستی حکومت نے خصوصی کمیٹی تشکیل دی
این سی پی (اجیت) کی کارپوریٹر سعیدہ خان نے کہا کہ ’’غیر تربیت یافتہ ڈرائیوروں کے ذریعہ بسیں چلانا قابل تشویش ہے کیونکہ ممبئی کی دو ہی ’لائف لائن‘ ہیں ایک لوکل ٹرینیں اور دوسری بیسٹ بسیں۔‘‘شیوسینا (ادھو) کی کارپوریٹر شردھا جادھو نے نشاندہی کی کہ بیسٹ کو اس لئے بی ایم سی مالی امداد دیتی ہے تاکہ وہ اپنےحالات سدھار کر خودکفیل بن سکے لیکن بیسٹ کو اپنے ملازمین کو ۳؍ ہزار ۵۰۰؍کروڑ روپے بطور ’گریچوٹی‘ دینا باقی ہے تو یہ کیسے پتہ چلے گا کہ بیسٹ اس رقم کو اپنی حالت سدھارنے پر خرچ کرے گی یا ملازمین کے بقایا جات ادا کرنے میں؟