Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان ڈومبیولی میں پانی کا سنگین بحران، خود میئر کا وارڈ بھی پیاسا

Updated: July 14, 2026, 12:31 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan

پمپ کی تنصیب میں انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا انکشاف۔

KDMC Mayor Harshali Chaudhary. Photo: INN
کے ڈی ایم سی کی میئر ہرشالی چودھری۔ تصویر: آئی این این

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی ) کی حدود میں پانی کا بحران ایک سنگین انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ حیرت انگیز اور چونکا دینے والا انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ شہر کے عام شہری تو دور خود میونسپل کارپوریشن کی میئر ہرشالی چودھری کے اپنے وارڈ کے عوام بھی پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں اور خود میئر کو بھی اس خفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ موہیلی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لئے ایک کروڑ ۲۰؍ لاکھ روپے کی خطیر رقم سے خریدا گیا ’را واٹر پمپ‘ نصب کرنے کا سرکاری حکم نامہ ایک سال قبل جاری ہو چکا ہے لیکن کارپوریشن کا واٹر ڈپارٹمنٹ اور متعلقہ انجینئر کی مجرمانہ غفلت اور ٹال مٹول کی وجہ سے یہ منصوبہ آج بھی فائلوں میں دم توڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چمبور: خستہ حال اسکول کے ۷۰۰؍ طلبہ آن لائن پڑھائی پر مجبور

واضح رہے کہ امسال جون کا پورا مہینہ مکمل خشک گزرا جس کے باعث باروی ڈیم میں پانی کے گرتے ہوئے ذخیرے کو بچانے کے لئے انتظامیہ نے شہر بھر میں پانی کی کٹوتی نافذ کر دی تھی۔ اس کٹوتی نے مئی کی تپتی دھوپ سے زیادہ جون کے مہینے میں شہریوں کا جینا محال کر دیا۔ جون کے پہلے ہفتے میں منعقدہ میونسپل کارپوریشن کے جنرل باڈی میٹنگ میں اپوزیشن سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کے کارپوریٹروں نے پانی کی قلت پر زبردست ہنگامہ آرائی کی تھی۔ عوامی غیظ و غضب کو دیکھتے ہوئے خود میئر ہرشالی چودھری نے ایوان میں کھڑے ہو کر اعتراف کیا تھا کہ پانی کی قلت کا یہ عالم ہے کہ خود میرے اپنے وارڈ کے لوگ پیاسے ہیں اور مجھے روزانہ ان کے غصے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

میئر کی سخت سرزنش کے بعد میونسپل کمشنر ابھینو گوئل نے ایوان کو یقین دلایا تھا کہ ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے  مگر افسوس اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔جولائی مہینے میں ہونے والی موسلادھار بارش نے شہر کو جل تھل کر دیا جس سے الہاس ندی خطرے کے نشان کو پار کرگئی۔ سیلابی پانی موہیلی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ میں گھس گیا جس کے باعث پورا پلانٹ ۲؍ دنوں تک ٹھپ رہا۔ پلانٹ جیسے ہی فعال ہوا مین واٹر پائپ لائن پھٹ گئی۔ اگرچہ کارپوریشن نے پائپ لائن کی مرمت کا دعویٰ کیا ہےلیکن زمین پر صورتحال اب بھی ابتر ہے اور بالخصوص میئر کے وارڈ میں پانی کیلئے  ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میرا روڈ: بھیانک آتشزدگی میں جھلس جانے والی معمر خاتون کی موتا

باوثوق ذرائع کے مطابق موہیلی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ میں کُل ۹؍ پمپ نصب ہیں جن میں سے ۳ ؍پمپ خام پانی کھینچنے کے اور ۶؍ پمپ صاف پانی سپلائی کرنے کے ہیں۔ ان میں سے’ را واٹر‘ کا ایک اہم پمپ طویل عرصے سے ناکارہ پڑا ہے۔ میونسپل انتظامیہ نے اسے بدلنے کیلئے ایک کروڑ ۲۰؍ لاکھ روپے کا نیا پمپ خریدا اور اسے فوری نصب کرنے کا آرڈر بھی جاری کیا۔لیکن اس پورے معاملے میں سب سے بڑی کوتاہی محکمہ آب رسانی نے کی۔

واٹر ڈپارٹمنٹ کے انجینئر اجے سُلیبھاویکر پر براہِ راست الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ذاتی مفادات کیلئے کے تحت اس پمپ کو نصب کرنے کے کام کو مسلسل لٹکا رہے ہیں۔ ایک سال سے پمپ گودام میں دھول چاٹ رہا ہے اور لاکھوں شہری پانی کے لئے ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں۔ خود میئر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انتظامیہ کی اس داخلی کھینچ تان نے شہریوں کو مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ اب عوام یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اس مجرمانہ غفلت کے ذمہ دار انجینئر کے خلاف میونسپل کمشنر ابھینو گوئل آخر کب کارروائی کریں گے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK