Inquilab Logo Happiest Places to Work

کے ڈی ایم سی واٹر پیوریفیکیشن پلانٹ میں مردہ کتا پایا گیا، تعفن سے ماحول آلودہ

Updated: July 14, 2026, 12:25 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Ambivli

ایسے حساس اور انتہائی اہم مرکز میں مردہ جانور کے پائے جانے اور انتظامیہ کی غفلت سے شہریوں میں سخت ناراضگی۔

Citizens are concerned after a dead dog was found at a water plant in Moheli. Photo: INN
موہیلی میں واقع واٹرپلانٹ جہاں مردہ کتا ملنے سے شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ تصویر: آئی این این

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن  (کے ڈی ایم سی)کی حدود میں رہنے والے لاکھوں شہریوں کی صحت اور زندگیوں کے ساتھ سنگین کھلواڑ کا ایک انتہائی تشویشناک معاملہ سامنے آیا ہے۔شہر کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے والے سب سے حساس اور محفوظ ترین مانے جانے والے سرکاری پلانٹ سے ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس نے مقامی انتظامیہ کے دعوؤں کی دھجیاں اڑا دی ہیں اور عوام کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔

کے ڈی ایم سی کے موہیلی واٹر پیوریفیکیشن پلانٹ میں مبینہ غفلت کا ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آنے کے بعد شہریوں میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی ویڈیو میں واٹر پیوریفیکیشن پلانٹ کے مرکزی احاطے میں جہاں پانی کو صاف کرنے کا عمل انجام دیا جاتا ہے ایک آوارہ کتا مردہ حالت میں پڑا دکھائی دے رہا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بروقت اس مردہ جانور کو وہاں سے نہیں ہٹایا گیا جس کے باعث پورے پلانٹ اور اس کے اطراف میں شدید تعفن اور ناقابل برداشت بدبو پھیل گئی ہے۔ اس مبینہ لاپروائی نے شہریوں میں خوف و تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میرا روڈ: بھیانک آتشزدگی میں جھلس جانے والی معمر خاتون کی موت

واضح رہے کہ موہیلی کا یہی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کلیان اور ڈومبیولی کے متعدد رہائشی علاقوں کو روزانہ لاکھوں لیٹر صاف پانی فراہم کرتا ہے۔ ہزاروں خاندان اپنی روزمرہ کی ضروریات اور پینے کے پانی کیلئے اسی سپلائی پر انحصار کرتے ہیں۔ایسے حساس اور انتہائی اہم مرکز میں اس نوعیت کی غفلت سامنے آنے کے بعد شہری حلقوں میں سخت ناراضگی پائی جا رہی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے احاطے میں صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل نہ کیا جائے تو پانی کے معیار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ پیدا ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں مختلف متعدی اور آبی امراض کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی غیرجانبدارانہ اور فوری تحقیقات کرائی جائیں۔

یہ بھی پڑھئے: چمبور: خستہ حال اسکول کے ۷۰۰؍ طلبہ آن لائن پڑھائی پر مجبور

دوسری جانب سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے اور عوامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آنے کے باوجود کے ڈی ایم سی انتظامیہ اور متعلقہ واٹر سپلائی محکمہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت یا رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس بارے میں نمائندۂ انقلاب نے محکمہ آب رسانی کے ایگزیکٹو انجینئر اشوک ڈاورے سے رابطہ قائم کیا لیکن انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK