Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوسائٹی میں بائیک پارکنگ کے معمولی تنازع میں نوجوان اور اس کی ماں پرقاتلانہ حملہ

Updated: July 14, 2026, 12:16 PM IST | Sajid Mehmood Shaikh | Kashi Mira

خاتون آئی سی یو میں داخل ،ملزموں کی جانب سے متاثرہ خاندان کو دھمکیاں، ۴؍ افراد کے خلاف معاملہ درج ، اس واقعہ سے عمارت کے مکین خوفزدہ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

میرا بھائندر  وسئی ویرار پولیس کمشنریٹ کی حدود میں جرائم کے بڑھتے گراف نے امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ تازہ ترین سنسنی خیز واقعہ کاشی میرا پولیس اسٹیشن کے علاقے میں واقع ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آیا  جہاں بائیک پارکنگ کے معمولی تنازع پر غنڈہ گردی کا ننگا ناچ دیکھنے کو ملا۔ سوسائٹی کے ہی کچھ بااثر افراد نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مل کر  ۲۱؍ سالہ نوجوان اور اس کی ماں پر قاتلانہ حملہ کر دیا جس کی وجہ سے  خاتون شدید زخمی ہوگئی  اور اسے تشویشناک حالت میں اسپتال کے  انتہائی نگہداشت والے وارڈ (آئی سی یو ) میں داخل کرایا گیا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں ۴؍ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ تاہم اب تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میرا روڈ: بھیانک آتشزدگی میں جھلس جانے والی معمر خاتون کی موت

موصولہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز دوپہر تقریباً ساڑھے ۳؍ بجے    شفاقت نامی نوجوان جب اپنی بائیک کھڑی کر رہا تھاتو وہاں پہلے سے موجود سوسائٹی کے ایک لڑکے سلطان شیخ  نے دادا گیری کرتے ہوئے اسے بائیک وہاں لگانے سے روکا۔ جب شفاقت نے کہا کہ یہ سوسائٹی کی مشترکہ پارکنگ ہے تو ملزم نے گالی گلوچ شروع کر دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سلطان کے والد ناصر، بھائی التمش، سوُفی اور ایک نامعلوم دوست نے شفاقت کو گھیر لیا اور اس پر لاٹھی اور گھونسوں کی بارش کر دی۔  بیٹے کی چیخ و پکار سن کر جب اس کی   ماں اسے بچانے کیلئے نیچے   آئی تو ملزمان نے انہیں زوردار دھکا دیا جس سے وہ زمین پر گر گئیں اور ان کے کان سے خون بہنے لگا۔ جب انہوں نے دوبارہ اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کیتو ملزمان نے ان کی پسلیوں پر زور دار مکے) مارے جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئیں۔ فی الحال وہ اسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

متاثرہ  خاندان کا الزام ہے کہ پولیس اسٹیشن جانے کے دوران اور ایف آئی آر درج ہونے کے بعد بھی انہیں مسلسل فون پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ملزموں کا کہنا ہے کہ ہم اتر پردیش سے آئے ہیں، کرلا میں ہماری دہشت اور ہسٹری جا کر دیکھ لو۔ ہمیں ایسی ایف آئی آر سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم سر پر کفن باندھ کر نکلے ہیں یا تو ہم رہیں گے یا تمہارا بیٹا، اس کا مرڈر (قتل) ہونا طے ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چمبور: خستہ حال اسکول کے ۷۰۰؍ طلبہ آن لائن پڑھائی پر مجبور

اس  واقعے کے بعد سے پوری سوسائٹی کےمکین سخت خوفزدہ ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ملزمان سوسائٹی میں اکثر غنڈہ گردی کرتے ہیں، نہ بچوں کو کھیلنے دیتے ہیں اور نہ کسی کو گاڑی کھڑی کرنے دیتے ہیں۔ ان کی دہشت کی وجہ سے اب تک کوئی ان کے خلاف منہ کھولنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ واقعے کے بعد سوسائٹی کی خواتین نے آگے آ کر پولیس کے سامنے گواہی دی ہے۔ کاشی میرا پولیس نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ناصر اور اس کے بیٹوں سمیت ۴؍ افراد کے خلاف کیس درج کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ مقامی شہریوں نے پولیس کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان غنڈہ عناصر کو فوراً گرفتار کر کے سوسائٹی میں امن بحال کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK