Inquilab Logo Happiest Places to Work

۸۱؍ فیصد ہندوستانی طلبہ تعلیم مکمل کرکے ہندوستان واپس آنے کے خواہش مند: رپورٹ

Updated: August 10, 2026, 10:02 PM IST | London

امریکہ میں بین الاقوامی طلبہ اور ہنرمند کارکنوں کیلئے سخت ہوتے امیگریشن قوانین نے ہندوستانی طلبہ کے بیرونِ ملک تعلیم کے بعد امریکہ میں قیام کے روایتی راستے کو مشکل بنا دیا ہے۔ آکسفورڈ انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق اس کے باوجود۸۱؍ فیصد ہندوستانی طلبہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہندوستان واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

آکسفورڈ انٹرنیشنل کے تیسرے اسٹوڈنٹ گلوبل موبیلٹی انڈیکس (SGMI) کے مطابق بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کا منصوبہ بنانے والے۸۱؍ فیصد ہندوستانی طلبہ نے کہا ہے کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہندوستان واپس آنے کی توقع رکھتے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ میں سخت تر ہوتے امیگریشن قوانین نے امریکی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت اور طویل مدتی قیام کا روایتی راستہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ کئی برسوں سے بہت سے ہندوستانی طلبہ کا منصوبہ نسبتاً سادہ تھا: امریکہ جائیں، ڈگری مکمل کریں، آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ (OPT) کے ذریعے ایک یا دو سال کام کریں، پھر ایچ ون بی ویزا حاصل کرکے وہیں اپنا کریئر بنانے کی کوشش کریں۔ اب یہ منصوبہ تبدیل ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے کئی دہائیوں کے دوران بین الاقوامی طلبہ اور ہنرمند غیر ملکی کارکنوں کیلئے سخت ترین پابندیاں متعارف کرائی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کیلئے تیار: رپورٹ

زیادہ تر ہندوستانی طلبہ وطن واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں 
آکسفورڈ انٹرنیشنل کی جانب سے شائع کئےگئے اسٹوڈنٹ گلوبل موبیلٹی انڈیکس (SGMI) کے تیسرے ایڈیشن کے مطابق بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہر پانچ میں سے تقریباً چار ہندوستانی طلبہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہندوستان واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ سروے۱۷؍ ہزار ۹۲۵؍ بنیادی جوابات پر مبنی ہے، جبکہ تقریباً ۲؍ ہزار ۴۰۰؍اضافی جوابات بھی شامل کئے گئے، جن میں کورس کے انتخاب، خاندانی پس منظر اور گریجویشن کے بعد کے منصوبوں جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے ہندوستانی طلبہ اب بیرونِ ملک تعلیم کو مستقل طور پر ملک چھوڑنے کے بجائے عالمی تجربہ، نئی مہارتیں اور غیر ملکی ڈگری حاصل کرنے کے ذریعہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ 
تقریباً ۱۵؍فیصد طلبہ نے کہا کہ وہ گریجویشن کے بعد ملازمت تلاش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی مراد ہندوستان میں ملازمت ہے یا بیرونِ ملک۔ مزید طلبہ اپنے تعلیمی فیصلے خود بھی کرنے لگے ہیں۔ اپنی ذاتی تحریک سے بیرونِ ملک تعلیم کیلئے درخواست دینے والے طلبہ کی شرح۲۰۲۳ء۔ ۲۴ءمیں ۲۹؍ فیصد سے بڑھ کر۲۰۲۵ء۔ ۲۶ء میں ۴۹؍ فیصد ہوگئی ہے۔ اگرچہ یہ نتائج عالمی سطح کے ہیں، لیکن یہ ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ، جو ہندوستانی طلبہ کیلئے سرفہرست تعلیمی مقامات میں شامل ہے، امیگریشن اور اسٹوڈنٹ ویزا قوانین سخت کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکہ میں تعلیم، ملازمت اور مستقل قیام کا روایتی راستہ مزید غیر یقینی ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’مکہ معاہدہ کسی ملک کیخلاف نہیں، اس میں مصر کی بھی شمولیت متوقع ہے‘‘

امریکہ نے راستہ مزید مشکل بنا دیا
گزشتہ تقریباً ۱۸؍ماہ کے دوران امریکہ نے بین الاقوامی طلبہ اور ہنرمند غیر ملکی کارکنوں کیلئے قوانین سخت کئےہیں۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت جنوری۲۰۲۵ء میں شروع ہونے کے بعد ان کی انتظامیہ نے بین الاقوامی طلبہ کو متاثر کرنے والے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ ہندوستانی طلبہ خاص طور پر اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں کیونکہ امریکہ میں زیرِ تعلیم بین الاقوامی طلبہ میں ہندوستان سب سے بڑی قومی برادری ہے۔ 
بڑی تعداد میں SEVIS ریکارڈ منسوخ کئے گئے
مارچ ۲۰۲۵ءمیں ہزاروں بین الاقوامی طلبہ نے اچانک دیکھا کہ اسٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر انفارمیشن سسٹم (SEVIS) میں ان کے ریکارڈ ختم کر دیئے گئے ہیں۔ کئی معاملات میں طلبہ کو واضح وجوہات بھی نہیں بتائی گئیں۔ دستاویزی طور پر سامنے آنے والے بعض معاملات میں معمولی ٹریفک خلاف ورزیاں یا ماضی کی سیاسی سرگرمیاں بھی شامل تھیں۔ جنوری۲۰۲۵ء تک امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق۸؍ ہزار سے زیادہ اسٹوڈنٹ ویزے منسوخ کئے جا چکے تھے۔ بعد کی الگ نگرانی میں ۲۰۲۵ءکے دوران تقریباً۴؍ ہزار ۷۰۰؍ سے۴؍ ہزار ۷۳۶؍ SEVIS ریکارڈ ختم کئے جانے اور کم از کم۶؍ ہزار F، M اور J ویزوں کی منسوخی کی نشاندہی کی گئی۔ اس اقدام کے خلاف۱۰۰؍ سے زیادہ مقدمات دائر کئے گئے۔ بعد ازاں شمالی کیلیفورنیا کی ایک وفاقی عدالت کے جج نے ملک گیر حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے متعدد ریکارڈ بحال کرنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارہ: یہودی آبادکاروں کی نئی تعمیر شدہ غیر قانونی بستی میں منتقلی

اسٹوڈنٹ ویزا انٹرویوز اچانک روک دیئے گئے
۲۷؍مئی۲۰۲۵ءکو امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں F، M اور J ویزا درخواست دہندگان کیلئے نئے ویزا انٹرویوز کی تاریخیں مقرر کرنا روک دیا۔ یہ فیصلہ خاص طور پر اہم تھا کیونکہ مئی سے اگست کا عرصہ عام طور پر اسٹوڈنٹ ویزا درخواستوں کے لحاظ سے سب سے مصروف وقت ہوتا ہے۔ امریکی حکومت نے ابتدا میں اس وقفے کو مختصر مدت کا اقدام قرار دیا، لیکن یہ تقریباً تین ہفتے جاری رہا۔ نئے تعلیمی سال کی تیاری کرنے والے طلبہ کیلئے اس تاخیر نے یہ خدشات بڑھا دیئے کہ آیا وہ وقت پر امریکہ پہنچ سکیں گے یا نہیں۔ 
سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ لازمی قرار
۱۸؍جون۲۰۲۵ءکو ایک اور بڑی تبدیلی سامنے آئی۔ F، M اور J ویزا درخواست دہندگان سے کہا گیا کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پبلک کریں تاکہ امریکی قونصلر افسران ان کا جائزہ لے سکیں۔ افسران کو ’’ممکنہ طور پر قابلِ اعتراض‘‘ مواد تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس میں سیاسی سرگرمیاں، دہشت گردی سے مبینہ روابط یا امریکہ مخالف سمجھے جانے والے خیالات شامل ہوسکتے ہیں۔ جو طلبہ تعاون سے انکار کرتے، ان کی درخواستیں ’’ٹال مٹول‘‘ یا ’’evasive‘‘ قرار دے کر مسترد کی جاسکتی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: ناگاساکی: دنیا میں جاری کشیدگی کے درمیان جوہری بم حملےکی ۸۱؍ ویں یاد گاری تقریب

سفری پابندیوں میں توسیع
امریکہ نے سفری پابندیوں میں بھی توسیع کی۔ ۴؍ جون۲۰۲۵ء کو جاری کئے گئے ایک صدارتی حکم کے تحت تقریباً ۱۲؍سے۱۹؍ ممالک کے شہریوں کیلئے ویزا جاری کرنے پر پابندی عائد کی گئی، جن میں ایران، لیبیا، صومالیہ اور افغانستان شامل تھے۔ دسمبر۲۰۲۵ءمیں جاری ہونے والے دوسرے صدارتی اعلان کے ذریعے پابندیوں کا دائرہ بڑھا کر۳۹؍ ممالک اور فلسطینی علاقوں تک کردیا گیا۔ یہ پابندیاں یکم جنوری۲۰۲۶ء سے نافذ ہوئیں۔ اس اقدام کے ساتھ ’’ہولڈ اینڈ ریویو‘‘ پالیسی بھی متعارف کرائی گئی، جس کے تحت متاثرہ ممالک کے شہریوں کی بعض زیرِ التوا USCIS درخواستیں، جن میں OPT اور STEM OPT درخواستیں بھی شامل تھیں، روک دی گئیں۔ 
ایچ ون بی کا راستہ مزید مہنگا ہوگیا
ستمبر ۲۰۲۵ءمیں وہائٹ ہاؤس نے امریکہ سے باہر سے دائر کی جانے والی نئیایچ ون بی درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کردی۔ بعد میں ۲۰؍ امریکی ریاستوں نے اس اقدام کو وفاقی عدالت میں چیلنج کیا۔ اکتوبر۲۰۲۵ء کے آخر میں USCIS نے امریکہ کے امیگریشن نظام میں پہلے سے موجود بعض افرادکیلئے پالیسی میں جزوی تبدیلی کی۔ اسی دوران بین الاقوامی طلبہ کیلئے ایک اور پابندی متعارف کرائی گئی۔ ایک نئی حد کے تحت غیر ملکی طلبہ کسی یونیورسٹی کی مجموعی طلبہ تعداد کے۱۵؍ فیصد سے زیادہ نہیں ہوسکتے تھے، جبکہ کسی ایک ملک کے طلبہ کی تعداد ۵؍ فیصد سے زیادہ رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ چونکہ امریکہ میں بین الاقوامی طلبہ کی بڑی تعداد ہندوستانی طلبہ پر مشتمل ہے، اس لئے ان نئی حدود کے باعث ان کیلئے امریکی تعلیمی نظام میں داخل ہونا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ملائیشیا: اسرائیل جانے والے سامان سے بھرے مشتبہ کنٹینر ضبط

امریکہ نے نیا مرکزی جانچ نظام قائم کیا
۵؍ دسمبر۲۰۲۵ءکو USCIS نے ایک نیا ویٹنگ سینٹر (Vetting Centre) قائم کیا۔ اس مرکز میں ویزا، تعلیمی اداروں کے ریکارڈ اور سرحدی معلومات سے متعلق جانچ کو ایک جگہ جمع کیا گیا۔ اس نظام کے ذریعے حکومت کو بین الاقوامی طلبہ کی نگرانی کیلئےزیادہ مرکزی اور خودکار طریقہ کار حاصل ہوگیا ہے۔ طلبہ کیلئے اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ معمول کی جانچ پڑتال ممکنہ طور پر امیگریشن کے کسی بڑے مسئلے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ 
اب طلبہ کے قیام کی مدت چار سال تک محدود
جولائی ۲۰۲۶ءمیں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیوریٹی (DHS) نے ایک اور بڑی تبدیلی کو حتمی شکل دی۔ اس کے تحت کئی دہائیوں سے جاری ’’ڈوریشن آف اسٹیٹس‘‘ نظام ختم کردیا گیا، جس کے تحت بین الاقوامی طلبہ اپنے تعلیمی پروگرام کے جاری رہنے تک امریکہ میں قیام کرسکتے تھے۔ نئے قوانین کے تحت طلبہ کا قیام عام طور پر چار سال تک محدود ہوگا، جب تک کہ انہیں باضابطہ توسیع نہ مل جائے۔ ان قوانین میں مضمون یا میجر تبدیل کرنے اور ایک تعلیمی ادارے سے دوسرے ادارے میں منتقلی کے حوالے سے بھی نئی پابندیاں شامل ہیں۔ ڈی ایچ ایس کے سیکریٹری مارک وین مولن نے کہا کہ اس قانون کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ طلبہ ’’اپنے بنیادی مقصد، یعنی تعلیم مکمل کرنے اور وطن واپس جانے‘‘ پر توجہ مرکوز رکھیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور اسرائیل، ایران کے خلاف اپنے مقاصد میں ناکام رہے: ایرانی کمانڈر

۲۰۲۶ءمیں بھی SEVIS ریکارڈ منسوخ ہوتے رہے
سخت کارروائی ۲۰۲۵ءتک محدود نہیں رہی۔ مارچ۲۰۲۶ءمیں ’’ون اسٹرائیک‘‘ پالیسی کے تحت SEVIS ریکارڈ ختم کرنے کی دوسری لہر سامنے آئی۔ ایک بار SEVIS ریکارڈ منسوخ ہونے کے بعد طالب علم کی قانونی حیثیت فوری طور پر ختم ہوسکتی ہے۔ اس سے او پی ٹی یونیورسٹی کی تبدیلی اور امریکہ واپسی میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ طلبہ کے پاس عموماً مسئلہ حل کرنے کی کوشش کیلئے صرف۶۰؍ دن کی رعایتی مدت ہوتی ہے۔ 
او پی ٹی بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار
او پی ٹی بین الاقوامی طلبہ کو گریجویشن کے بعد امریکہ میں ۱۲؍ ماہ تک کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ STEM شعبوں کے طلبہ کو عام طور پر مزید ۲۴؍ماہ کی توسیع بھی مل سکتی ہے۔ بہت سے ہندوستانی طلبہ کیلئے او پی ٹی، ایف ون اسٹوڈنٹ ویزا اور ایچ ون بی ورک ویزا کے درمیان ایک اہم پل رہا ہے۔ تاہم اس عرصے کے دوران امریکی حکام نے قانونی امیگریشن کے راستوں کو محدود کرنے کی وسیع کوششوں کے تحت او پی ٹی کو ختم کرنے یا اس پر پابندیاں عائد کرنے پر بارہا غور کیا ہے۔ کانگریس میں او پی ٹی کو قانونی تحفظ دینے کیلئے ایک دو طرفہ بل بھی پیش کیا گیا ہے، تاہم، اس بل اور خود او پی ٹی پروگرام کا مستقبل اب بھی غیر یقینی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب کی امدادی ایجنسی’ کے ایس ریلیف ‘نے غزہ میں بچوں کیلئے اسکول قائم کیا

اعداد و شمار اثرات ظاہر کر رہے ہیں 
امریکی امیگریشن پالیسی میں تبدیلیوں کے اثرات طلبہ کے ویزوں کے اعداد و شمار میں پہلے ہی نظر آنے لگے ہیں۔ جون اور جولائی ۲۰۲۵ء میں ہندوستانی طلبہ کیلئے جاری کئےگئے ایف ون ویزوں میں ۶۹؍ فیصد کمی ہوئی۔ اس عرصے میں صرف۱۲؍ ہزار ۷۷۶؍ویزے جاری کئے گئے، جبکہ ایک سال قبل یہ تعداد۴۱؍ ہزار ۳۳۶؍تھی۔ ۲۰۲۵ء کے عروج کے موسم میں ہندوستانی طلبہ کیلئے مجموعی ویزا منظوریوں میں سالانہ بنیاد پرو۶۲؍ فیصد کمی ہوئی، جبکہ اندازہ ہے کہ۲۰۲۶ء میں امریکہ میں بین الاقوامی طلبہ کا داخلہ تقریباً۲۰؍ فیصد کم ہوا ہے۔ اس وقت تقریباً۳؍ لاکھ۷۲؍ ہزار ہندوستانی طلبہ امریکہ میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ایسے میں امیگریشن قوانین میں سختی کا اثر ہندوستانی طلبہ پر نسبتاً زیادہ پڑنے کا امکان ہے۔ مجموعی طور پر آکسفورڈ انٹرنیشنل کی رپورٹ اور امریکہ میں بدلتے امیگریشن قوانین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہندوستانی طلبہ کیلئے بیرونِ ملک تعلیم کا مقصد اب مستقل طور پر امریکہ میں آباد ہونے کے بجائے عالمی تجربہ، اعلیٰ تعلیم اور مہارت حاصل کرکے وطن واپس آنے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK