پریل کے اینیمل اسپتال میں مئی میں علاج کیلئے داخل کئے جانے والوں میں ۳۷؍ کبوتر، ۷؍ طوطے، ۱۵؍ کوے، ۸؍ اُلو، ۱۵؍ کتے اور ۷؍ بلیاں شامل۔ کوے اور کتوبر سب سے زیادہ متاثر۔
EPAPER
Updated: May 31, 2026, 11:53 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
پریل کے اینیمل اسپتال میں مئی میں علاج کیلئے داخل کئے جانے والوں میں ۳۷؍ کبوتر، ۷؍ طوطے، ۱۵؍ کوے، ۸؍ اُلو، ۱۵؍ کتے اور ۷؍ بلیاں شامل۔ کوے اور کتوبر سب سے زیادہ متاثر۔
شدید گرمی کی وجہ سے پرندے اور آوارہ جانوروں کے بیمار ہونے کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے ۲۰؍فیصد کا اضافہ ہواہے۔ دھوپ کی شدت میں سڑکوں پر گرنے کے ساتھ ہیٹ اسٹروک سے مرنے والے پرندوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ پریل کے اینیمل اسپتال میں مئی میں علاج کیلئے داخل کئے جانے والے پرندوں میں ۳۷؍ کبوتر، ۷؍ طوطے، ۱۵؍کوے، ۸؍اُلو ، ۱۵؍کتے اور ۷؍بلیاں شامل ہیں ۔واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے ممبئی سمیت ریاست بھر میں درجہ حرارت کے بڑھنے سے گرمی کی لہر میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے عام انسان کے علاوہ آوارہ جانور اور پرندے بھی گرمی سے متاثر ہو رہے ہیں ۔
گرمی کی شدت سے بیمار پڑنے والے زخمی پرندوں اور آوارہ جانوروں کا پریل میں واقع بائی ساکر بائی دنشا پیٹیٹ اینیمل اسپتال میں علاج کیا جا ر ہا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے اس سال گرمی سے متاثر ہونے والے پرندوںا ور جانوروں میں ۲۰؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہونہار طلبہ کی تعداد کم ہونے سے ۱۱؍ ویں داخلے کے کٹ آف میں کمی آنے کا امکان
دوپہر کے وقت شدید گرمی سے پرندے اور آوارہ جانور سب سے زیادہ پریشان ہیں۔ ان میں کتے اور بلیاں بھی شامل ہیں ۔ پرندوں کے زخمی ہونے اور سڑک پر گرنے کے ساتھ ساتھ ہیٹ اسٹروک سے مرنے والے پرندوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایسے زخمی اور ہیٹ اسٹروک سے متاثرہ پرندوں اور جانوروں کا مذکورہ اسپتال میں علاج جاری ہے۔
بائی ساکر بائی دنشا پیٹ اسپتال کے منیجر ڈاکٹر میور ڈانگر نے بتایا کہ’’ پچھلے کچھ دنوں میں یہاں سب سے زیادہ تعداد میں پرندوں کا علاج کیا گیا ہے اور بچ جانے والے پرندوں کو بحفاظت واپس ان کے اصل مسکن میں چھوڑ دیا گیا ہے ۔اس سال گرمی سے پرندے سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں ۔‘‘
انہوںنے یہ بھی بتایا کہ’’ گزشتہ چند برسوں کے مقابلے ہیٹ اسٹروک کا شکار پرندوں کی تعداد میں ۲۰؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ ان میں سے ۳۰؍ فیصد شدید ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ کتے بھی ہیٹ اسٹروک سے متاثر ہو رہے ہیں۔ کبوتر اور کوے ہر سال سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پرندے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: قانون ساز کونسل کی ۱۷؍ سیٹوں میں سے ایم وی اے میں ۱۵؍ سیٹوں پر اتفاق رائے
شدیدگرمی میں جانوروں اورپرندوں کیلئے پینے کے پانی کاانتظام
دریں اثناء غیر سرکاری تنظیم اسنائوٹ کلاوٹ نے شدید گرمی کے پیش نظر جانوروں اور پرندوں کیلئے پینے کے پانی کی سہولت فراہم کرنے کیلئے مہم شروع کی ہے۔
تنظیم نے گریٹر ممبئی میں آوارہ جانوروں اور پرندوں کو پینے کا پانی فراہم کرنا شروع کیا ہے ۔ اس تنظیم کی جانب سے اب تک ۵۰۰؍ سے زائد سیمنٹ کے پانی کے کنٹینرز شہریوں میں تقسیم کئےجا چکے ہیں۔
تنظیم کے بانی سدھانت راؤ نے کہا کہ ’’ممبئی میں کانکریٹ کا جنگل بڑھ رہا ہے ایسےمیں ہم گزشتہ ۴؍برس سے بڑھتی ہوئی گرمی میں آوارہ جانوروں اور پرندوںکیلئے پینے کے پانی کی سہولت فراہم کررہےہیں۔‘‘